Jump to ratings and reviews
Rate this book

Dilli Jo Aik Shehar Tha / دلی جو ایک شہر تھا

Rate this book
This is a chronicle of the author’s personal memories of the ancient capital of India and its notable personalities extending over a period of about 90 years—from 1857 to 1947. He had been an eye-witness to the glory, grandeur, and glamour of a good deal of this period. Through the magic of his pen, the author has been able to bring back to life glimpses of a culture and a way of life which is now lost forever. About the Author / Editor Syed Mohammad Irtiza Wahidi (1888-1976) popularly known as Mullah Wahidi was one of the most respected personalities of Delhi. A distinguished Urdu writer, he also founded and edited a number of literary and cultural journals. His vastly circulated magazine Nizamu-ul-Mashaikh continued to be published from Delhi for years and for some time from Karachi after he migrated to Pakistan. Mullah Wahidi was close to most of his contemporaries and was best known as a friend, confidante and companion of Khawaja Hasan Nizami (1878-1955), a prominent sufi writer, prose stylist and the caretaker of the Dargah of Hazrat Nizamuddin Aulia, one of India's most revered Muslim saints. Author of several books on religion, theology and sufism, Mullah Wahidi's knowledge of sufism and mystics of various orders was almost unparalleled.

190 pages, Hardcover

Published January 1, 2002

Loading...
Loading...

About the author

Mulla Wahidi

9 books1 follower
Mulla Wahidi (born Syed Muhammad Irtiza) was a Pakistani Urdu writer and journalist. He is famous for his memoirs about Delhi.
Khawaj Hasan Nizami gave him the title of Mulla Wahidi.
Wahidi was the editor of famous journal Nizam-ul-Mashaikh; originally started by Khwaja Hasan Nizami from Delhi. Wahidi started Nizam-ul-Mashaikh from Karachi after he moved to Pakistan.
He died in Karachi and was buried there.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
2 (28%)
4 stars
4 (57%)
3 stars
1 (14%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 3 of 3 reviews
Profile Image for Syed Ali Hussain Bukhari.
239 reviews4 followers
March 11, 2026
دلَی جو ایک شہر تھا!
یادگار لوگ، ناقابل فراموش باتیں

از: ملّا واحدی

ملّا واحدی کا اصل نام سید محمد ارتضٰی واحدی تھا۔ زیر نظر کتاب ان کی تقسیم ہند ۱۹۴۷ء سے قبل دلّی شہر کی مختلف یادداشتوں پر مشتمل ہے، جس میں انہوں نے دلّی کے چند یادلوگار لوگوں کی زندگیوں سے دلچسپ واقعات کو جمع کیا ہے۔ جن ناموں کا وہ ذکر کرتے ہیں، میرے لئے تو یقینا وہ نئے ہیں اور شاید ہی مجھے ان کی ترتیب اور واحدی صاحب سے ان کا باہمی تعلق یاد رہے، مگر ان لوگوں کی اور اس وقت کی دلّی کا جو نقشہ وہ کھینچ گئے ہیں، اس نے دل میں ایک خلش سی مزید گہری کر دی ہے۔

مشائخ سلسلہء چشتیہ سے میری روحانی نسبت ہے، اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے مجھے کچھ الگ ہی انسیت ہے، جو مجھے دلی اور اس کی تہذیب کی طرف کشش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اکثر دلی سے متعلق مواد کا مطالعہ کرنے کا رجحان رکھتا ہوں۔ اب نہ ہی اسباب میسر ہیں اور نہ ہی ہندوستان سے پاکستان کے کوئ اچھے تعلقات ہیں کہ بندہ خواجہ محبوب الہی کے آستانے پہ حاضر ہو سکے۔ بہ ہر حال، زندگی نے اگر کبھی موقع دیا تو شاید یہ آرزو پوری ہو سکے۔

یہ کتاب دلّی کے پرانے زمانے کے لوگوں مثلا مرزا اسداللہ خان غالب، غالب کا زمانہ پانے والے بزرگوں، دلّی کے نامور علماء و مشائخ، دلّی کے آخری نامور شعراء، ناخواندہ شعراء، واحدی صاحب کے اعزاء و اقارب اور رفقاء وغیرہ کے تذکروں سے مزیّن ہے۔ اسی طرح یہ کتاب بیسویں صدی کے پہلے عشرے کی دلّی کا نقشہ یوں کھینچتی ہے کہ آدمی خود کو اسی زمانے میں موجود پاتا ہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ ہم واحدی صاحب کے ہمراہ مولانا ابو الکلام آزاد، خواجہ حسن نظامی، علامہ راشد الخیری، مولانا محمد حسین آزاد وغیرہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ اور اپنے کانوں سے سن رہے ہیں۔
اس کتاب میں دلّی کے مشہور پنجابی سوداگر طبقے کی ایمانداری اور دلّی کی تہذیب کا اہم حصہ ہونے کا بھی ذکر ہے۔
جہاں اس کتاب میں ہمیں مشہور لوگوں کا ذکر کثرت سے ملتا ہے، وہیں واحدی صاحب ہمیں غیر اہم لوگوں کا ذکر کرتے بھی دکھائ دیتے ہیں؛ جو خالص دہلوی زبان بولتے تھے اور خالص دہلوی تہذیب و تمدن کے پیکر تھے۔
مصنف نے ہمیں مزید جن لوگوں سے آشنا کیا ہے، ان میں حکیم اجمل خان، سر سید احمد خان، مرزا فرحت اللہ بیگ، ڈپٹی نذیر احمد، سید احمد شاہ پطرس بخاری، مسٹر آصف علی اور کافی ہندوؤں کے ناموں کا بھی مختصراً ذکر کرنے کے بعد مصنف نے میر بشارت علی، میر باقر علی، مرزا محمد سعید، حاجی عبدالغفار اور نواب ضمیر مرزا پر الگ سے مضامین تحریر کئے ہیں۔
واحدی صاحب نے اپنی یادداشتوں میں اپنے "اینگلو عربک ہائ سکول" میں بطور طالب علم گزرے وقت کا اوران اساتذہ کا، جن سے وہ کسب فیض حاصل کرتے رہے، بھی پرخلوص ذکر کر کے انہیں سلام عقیدت پیش کیا ہے۔
آخری مضامین میں سے ایک میں انہوں نے ۱۹۱۱ء کے دربار دہلی کی بہت دلکش منظر کشی ہے،جس میں حکومت برطانیہ کے جاہ و حشم کی ایسی منظر کشی کی گئ ہے جو قاری کیلئے آنکھوں دیکھے حال سے کم نہیں۔
پھر وہ ایک اور جگہ تقسیم ہند ۱۹۴۷ء کے ماہ ستمبر و اکتوبر کی خونیں دلّی کی بھی تصویر کھینچتے ہیں اور اپنی معشوق و محبوب دلّی کو جس دکھ اور غم کے ساتھ چھوڑ کے ہجرت کی، اس کا بھی اظہار کرتے ہیں۔
مصنف نے خواجہ حسن نظامی کی ہمراہی میں اپنے کشمیر کے ایک یادگار سفر کا بھی تذکرہ کیا ہے، جس سے قاری کے دل میں کشمیر جنت نظیر وادی کی تڑپ مزید بڑھ جاتی ہے۔
مصنف کو خواجہ حسن نظامی رح سے جو انس اور وابستگی تھی اس کا ہمیں جابجا تذکرہ ملتا ہے، اور انہی کے اسی ذکر میں ان کی پوری ایک تقریر "کہو تکبیر" کو لفظ بہ لفظ نقل کرتے ہوئے ان کے تبحّر علمی کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے، "دو پیسے کی روٹی، ایک پیسے کا کباب" کے عنوان سے مصنف نے خواجہ صاحب کی منکسر المزاجی کا جو نقشہ کھینچا ہے، اس سے قاری کے دل میں خواجہ صاحب کیلئے عقیدت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
دلّی کی تہذیب کی ایک ایک جھلک ہمیں "دلّی کا محرم" اور "سیرِ گل فروشاں" جیسی یادداشتوں میں ملتی ہے، جس سے عاشورہ محرم کے ایام میں دلّی والوں کی امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام، شہدائے کربلا اور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اظہار محبت و عقیدت، تعزیہ داری و عزاداری کے اطوار و انداز، اور ایصال ثواب و نذر امام کے طور پہ پکنے والی اشیائے خورد و نوش کا نہایت تفصیلی تذکرہ موجود ہے،
اور دلی کی برسات اور برسات سے لطف اندوز ہونے اور خالص دہلوی پکوانوں کا اشتہا انگیز سماں 'سیر گل فروشاں' کے تہوار سے بندھتا معلوم ہوتا ہے۔

یہ یادداشتیں، یقینا ہر قاری پہ یہ اثر ضرور چھوڑتی ہیں کہ وہ سنجیدہ طور پہ سوچنے لگتا ہے کہ کاش تقسیم ہند ۱۹۴۷ء نہ ہوتی تو منظر کچھ اور ہوتا اور غالباً ہم بھی اردو کی اس جنم بھومی کی زیارت کا شرف پا سکتے۔
Profile Image for MadZiddi.
125 reviews51 followers
November 25, 2022
This is a quaint little book about the culture and milieu of pre-partition Delhi. I had already read the Aslam -Asif Farrukhi father-son duo edited Dilli's famous personalities by Ashraf Subohi. In fact some of the luminaries from the latter, find mention in this as well such as Mir Baqir Ali dastango and Khwaja Hasan Nizami, who was Mullah ji's mentor. However, some of us 'liberals' who would be put off by reading a  Mullah's book would be presently surprised to find that in those days it was not unusual to find Mullahs being interested in Urdu poetry and other arts.  Although it should be noted that Mullah Wahidy used to bring out a journal of Sufism, and Sufism has always made room for arts and literature in life as opposed to the usual Shariati bigotry. So it is a pleasure to find an initial chapter describing notable people who the writer met who had also met and observed Ghalib. Another particularly interesting chapter is on the description of Muharram being celebrated in Old Dilli with HIndus and Sunnis also taking out taazias.
It  was not easy to leave for Mullah Wahidi to leave his beloved Dilli.  I am sure its as addictive as Lahore, for I have not visited Dilli but to me it seems like old Lahore, except for the 1947 vanished  HIndu mohallas replaced  by 1947 displaced Muslim neighborhoods.  it was only after the riots reached his home and family that he left by air for Karachi. 
Profile Image for Rizwan Mehmood.
180 reviews10 followers
October 26, 2024
دلّی جو ایک شہرتھا!!!
یادگار لوگ، ناقابل فراموش باتیں
مُلاّواحدی

“جب مرکزی حکومت کے مسلمان ملازمین سے دریافت کیا گیا تھا کہ بھارت میں رہنا چاہتے ہو یا پاکستان جاؤ گے تو میرے بڑے لڑکے سید احمد مجتبیٰ واحدی نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا لیکن میرا ارادہ تھا سب کو مجتبیٰ کے ساتھ کراچی روانہ کر دوں گا خود دلّی نہیں چھوڑوں گا۔ بچے کوئی چیز ہیں تو دلّی بھی کوئی چیز ہے۔ دلّی کی جامع مسجد، دلّی کا لال قلعہ، دلّی کے بازار، دلّی کی گلیاں، دلّی کے مقبرے، دلّی کے کھنڈرات، ہائے دلّی جہاں مسلمانوں کی دنیا پروان چڑھی اور مسلمانوں کا دین پروان چڑھا۔ ایسی دلّی سے میں مفارقت پسند نہ کرتا تھا۔ بچوں سے اتنے عرصے واسطہ نہیں رہا جتنا عرصے دلّی سے واسطہ رہ چکا ہے۔”

اس اقتباس سے اندازہ تو ہو جاتا ہے کہ ملا واحدی صاحب کے دلّی چھوڑنے کا فیصلہ کچھ آسان نہیں تھا۔ تقسیم کے وقت ان کی عمر تقریباً ساٹھ برس تھی۔ تقسیم سے پہلے وہ دلّی میں ایک ممتاز حثیت رکھتے تھے۔ وہ کئی سال منتخب میونسپل کونسلر رہے۔ اس کے علاوہ وہ ادیب تھے، شاعر تھے اخبار نویس اور سماجی کارکن بھی تھے۔ تقسیم اور نقل مکانی کی صعبتوں کے باوجود کراچی میں آ کر بھرپور زندگی گزاری۔ آخری وقت تک دلّی اور اس سے جڑی شخصیات کے بارے میں یاداشت اور جذبات کو تحریر کی صورت میں منتقل کرتے رہے۔ اس سلسلےکی ایک کڑی یہ کتاب “دلّی جو ایک شہر تھا” ہے۔

اس کتاب کو مختلف مضامین کی صورت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک مضمون میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے غالب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ایک مضمون میں دلّی کے محرم کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ دلّی کے بازار، 1911 کے دربار، اینگلو عربک ہائی اسکول، عام لوگ خاص لوگ سبھی قسم کے یادگار لوگوں اور دلچسپ واقعات سے یہ کتاب بھری ہوئی ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
Displaying 1 - 3 of 3 reviews