Siddique Alam's novel "Cheeni Kothi" is seen as a new experience of its kind in Urdu fiction. Excellent characterization, artistic arrangement of the plot, unique detailing, dramatic objectivity, a perspective in harmony with human nature, which is accompanied by the thunder of self-made moral ideals; There are many features of this work that deserve the special attention of serious readers of literature. The story of "Cheeni Kothi" is a creative narrative of man's existential struggle and longing to return to his origin, how he reconciles and resists with his inner chaos, excitement, doubt, sadness and the contradictions of social life and nature. The moment dies..
یہ ناول اجمل کمال کے ادبی شمارے بنام "آج" میں پڑھا ہے. اس کی عمدگی کی وجہ سے اس کو یہاں الگ سے کتاب بنا کر ڈال دیا کہ اس کا تعارف کرا سکوں. اسی شمارے میں صدیق عالم صاحب کا دوسرا ناول "صالحہ صالحہ" بھی موجود تھا. 'صالحہ صالحہ' بھی عمدہ ناول ہے مگر وہ جادوئی حقیقت نگاری کا انداز لیے ہوئے ہے. سمجھنا بہت مشکل ہے. کسی حد تک وہ کارلوس فیونتس کے ناول اوورا/ہالہ سے بہت متشابہہ ہے۔
چینی کوٹھی کا تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتا کیوں کہ بحیثیت اوسط درجہ قاری تحریر کا لطف اٹھا سکتا ہوں مگر یہ نہیں سمجھا سکتا کہ بیانیہ میں کیا مختلف تھا. پھر بھی کوشش کی تھی کہ انٹرنیٹ سے صدیق عالم کی باقی تحاریر کے بارے میں آرا لے سکوں. یہ کہانی ایک کسی حد تک متمول خاندانی وکیل کے گرد گھومتی ہے جو عجیب و غریب قسم کی اخلاقیات کا پیروکار ہے. جانتے ہوئے بھی گناہ گاروں کے کیس لیتا ہے اور استحصال کا بھی قائل نہیں ہے. ایک متمول بیوہ مؤکل کی طرف جنسی کشش سے مجبور ہوکر گندی تخیلاتی دنیا میں بھی غوطہ زن ہے مگر اتنا کمزور بھی نہیں کہ اس کو شادی کے بغیر حاصل کرنا چاہے۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ شروعات میں جس طریقے سے ناول کی اٹھان تھی، میں سمجھا کہ جیسے ہمارا مرکزی کردار کوئی بچہ ہے جو سامنے ایستادہ پراسرار چینیوں کے گھر بنام "چینی کوٹھی" کے تجسس میں مبتلا ہے. اتنی معصوم منظرنگاری اور بیانیہ کہ میں حیران رہ گیا۔ ناول کا تقریباً ہر کردار کسی نہ کسی طرح غمگین ہے. ہر کردار کسی نہ کسی طرح دوسرے سے مختلف اور نبردآزما ہے. ہر کردار ایک عجیب سی اجنبیت کی سی کیفیت میں زندگی کی حقیقت کی کھوج میں ہے. اس سارے حسین لیکن غمگین بہاؤ میں چینی کوٹھی ایک نہ سمجھ آنے والے تمثیلی منبعے کی طرح ایک جمود بنی ہوئی ہے. اگر ناول کے اختتام کو سامنے رکھا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ شاید اداسی کا طوفان گزر جانے کے بعد چینی کوٹھی میں پیدا ہونے والی ہلچل ہی شاید تمام کرداروں کی زندگی کا جمود توڑے گی۔ (آج والوں کا شمارہ چالو کروا لیں، کاغذ گھٹیا ہے مگر کبھی نہ کبھی کچھ نیا پڑھنے کو مل جاتا ہے. اگر آپ میری طرح دور دراز جگہ پر مقیم ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی نہیں ہیں تو یہ طریقہ بہتر ہے. تاکہ پتہ چلتا رہے کہ آج کل اردو میں نیا کیا چل رہا ہے. ارون دھتی رائے کا 'بے پناہ شادمانی کی مملکت" اور سید کاشف رضا کا 'پانچ درویش اور ایک کچھوا' پہلے آج شمارے میں ہی چھپا تھا۔)