ایک مرتے ہوئے جندروئی ولی خان کی زبانی یہ ایک موت کی داستان ہے۔ اس میں اس کی اپنی موت ، اس کی جندر کے پاٹوں کی آخری ہوکیں، اس کی دیہاتی ثقافت کا آہستہ آہستہ ختم ہونا، دیہاتی زندگی میں ناپید ہوتی ہوئی باہمی الفت و تعاون اور خونی رشتوں میں دم توڑتی ہوئی محبت کو صیغۂ متکلم میں بڑی نفاست کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ولی خان جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک جندروئی ہے اپنی نپی تلی گفتگو کے حوالے سے کسی دانشور سے کم نہیں لگتا۔ وہ ایک بہترین داستان گو ہے اور یہ خاصیت اسے اس کے چچا جمال الدین کی صحبت اور اردو و فارسی ادب پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ جندر ایک دم توڑتے ہوئے تمدن کا نوحہ ہے جس کو ناول نگار نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
پچھلے چند ماہ سے کمپیوٹر پروگرامنگ کی دنیا میں چیٹ جی پی ٹی نامی ایک سافٹ وئیر نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلجنس کا یہ سافٹوئیر اس قدر طاقتور ہے کہ یہ موجودہ دور کے کئی بڑے شعبہ جات کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ خود اس کے اپنے بنانے والے شعبہء سافٹوئیر ڈیویلپمنٹ کا بھی صفایا کر دے گا۔
جس طرح زرعی دور نے انسان کو پتھر کے دور سے نکالا اور پھر مشینی دور نے زرعی دور کا خاتمہ کر ڈالا، پھر کمپیوٹر نے ان مشینوں کو مذید بااختیار بنا دیا اور اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس خود کمپیوٹر کو انسان کے مقابل کھڑا کر رہی ہے، جو ایک طرح سے انسان کو بہتری اور مذید آسانیاں اور آسائیش فراہم کرنے ہی کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ آگے اور آگے بڑھتا جائے حتی کے فنا سے جاملے یا لافانی ہوجائے، ایسے ہی ناول جندر بھی ایک تہذیب کی موت اور دوسری تہذیب کے ارتقاء کی نوید سناتا ہے۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے ميں ثبات ايک تغير کو ہے زمانے ميں
اختر رضا سلیمی کا یہ بظاہر مختصر سا محض ایک سو اکیس صفحات پر مبنی ناول جندر دراصل ایک بڑے کینوس کا ناول ہے جو زرعی دور کے خاتمے اور مشینی دور کی آمد کے باعث احساسات و جذبات اور رشتوں کی ڈور کے ٹوٹ کر بکھر جانے کا بین کرتا ہے اور علامتی طور پر آنے والے وقتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
جس طرح ٹریکٹر کی آمد نے بیلوں کا، حل کا، فصل کاٹنے اور بیج گاہنے کے صدیوں سے رائج رواجوں کا اور لوگوں کے تعلقات کا خاتمہ کرکے انہیں خود مختاری عطا کی تھی، ویسے ہی ہر آنے والا دور مزید دوریوں مزید خود مختاریوں کا دور ہوگا جہاں انسان کو دوسرے انسانوں کی حتی کے خود اپنی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں رہے گی۔
جندر دراصل بیج پیس کر آٹا بنانے والی پن چکی کو اور اس چکی پر کام کرنے والے کو جندروئی کہا جاتا ہے۔ یہ ناول ایک جندروئی کی کہانی ہے جو اس پیشے سے تعلق رکھنے والا اپنے خاندان کا آخری فرد ہے اور اپنی موت کے قریب، اپنے مرنے کے بعد کے وقت کو تصور کرتا اپنی زندگی کی روداد سناتا ہے۔
اختر رضا سلیمی نے اس ایک جندروئی کی زندگی کو زرعی تہذیب سے اور اس کی موت کو اس تہذیب کی موت سے کمال خلاقی سے جوڑ کر ایک اچھوتا ناول تخلیق کیا ہے جو صنعتی انقلاب کے باعث ختم ہوجانے والے خوبصورت احساسات کا نوحہ ہے اور اس قدر دلچسپ ہے کہ ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکتا ہے۔
کیا یہ صرف ولی خان کی موت کی کہانی ہے جو ایک جندر کے ختم ہونے کے ساتھ ہی پچھلے پینتالیس دنوں میں دھیرے دھیرے موت کی آغوش میں جاتے ہوئے یہ سوچ رہا کہ اس کی موت کے بعد سب سے پہلے کون ہو گا جو اس کی موت کی کھوج لگا پائے گا؟ مجھے تو یہ جندر اور جندروئی کی تہذیب کے ساتھ ہر اس قدیم روایت اور رسم کے خاتمے کی کہانی بھی لگتی جنہوں نے نے انسانوں کو آپس میں جوڑ رکھا تھا اور ان کے خاتمے کے ساتھ انسان ایک دوسرے سے نامعلوم اور غیر محسوس انداز میں دور ہوتے جارہے۔ مادیت انہیں گھیرتی جا رہی اور سارے کے سارے اپنی ذات کے دائروں میں سمٹتے جا رہے ہیں۔ جیسے بجلی سے چلنے والی چکی جندر کے خاتمے کا باعث بنی، یا جس طرح ٹریکٹر کے آنے سے لیتری اور گاہ جیسے سالانہ مل ملاپ کے رواج اپنے انجام تک پہنچے وہیں اور بھی کئی خوبصورت ریتی رواج ایسے ہیں جو دھیرے دھیرے اس ماڈرن ازم کے ہاتھوں مٹتے چلے جا رہے۔ ولی خان اور جندر کا تعلق اور ان کا خاتمہ تو ایک استعارہ ہے کہ کیسے جدیدیت پرانے نظام کی موت بن کے دھیرے دھیرے ہر اس چیز کو کھاتی جارہی ہے جو ایک زمانے میں بنی آدم کی جڑت ، ساتھ اور مل جل کے رہنے کی وجہ تھی سادہ بیان کا حامل یہ ناول انتہائی دلنشین انداز میں واقعات کو بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک سو بیس صفحات میں جانے کتنی کہانیوں کا کولاژ ایک بھاری پن کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتا۔ مجھے شاید یہ ناولٹ اس لئے بھی زیادہ پسند ہے اور میرے دل میں اداسی کی ایک کسک جگاتا کہ میری یاداشت میں وہ زمانے اب بھی ہیں جب لیتری(ہمارے ہاں اسے ونگار بولتے) ، گھروں کی اجتماعی تعمیر(جہاں مزدوری صرف مستری لیتا) گاہ( جانوروں کے ذریعے غلے کی صفائی) وغیرہ جیسے اجتماعی کام لوگوں کو آپس میں جوڑے ہوئے تھے اور اب ہمارے لوگ مادیت پرستی کے ہاتھوں کہیں زیادہ ایک دوسرے سے دور ہو گئے جتنے اور کسی جگہ ہوئے ہوں گے
یہ کتاب ایک مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جسے ہر انسان کو پڑھنا چاہیے خصوصاً تعلیم یافتہ مگر بےحس انسانوں کو۔ جو اپنے اردگرد کے لوگوں کے جذبات سمجھ نہیں پاتے، انکی بےبسی جان نہیں پاتے۔ اور کہیں نہ کہیں انکی موت کی وجہ بن جاتے ہیں۔
جندر یا گراٹ (Water Mill)تيز رفتاری کے ساتھ بہنے والے ندی نالوں پر بنائی گئی پن چکياں ہیں انھیں بجلی پٹرول اور ڈیزل کی ضرورت نہیں یہ ہتھ چکی( پتھر کے دوگول پاٹوں پر مشتمل ہوتا ہے)
" زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے سیاہ رنگ ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے مجھے زندگی کے تمام رنگوں کا شعور بعد میں ہوا میں نے موت کے ساہ رنگ کا شعور پہلے حاصل کیا " جندر ( اخر رضا سلیمی )
🌟 جندر سے اختر رضا سلیمی کو پڑھنے کا موقع پہلی بار ملا ۔ اور میرے تاثرات کچھ ایسے ہیں کہ۔یہ کیا انسان ہے اتنا سادگی سے قلم کا استعمال اور اتنا خوب سبحان اللہ ۔۔۔
🌟 جندر ایک جندروئی ( ولی خان ) کی کہانی ہے وہ جندر جو ولی خان کے اجداد نے بنائی تھی ۔ جندر ناول کوئی خاص کہانی نہیں ہے ایک سادہ سی کہانی ہے مگر یہ پانی کے بہاؤ کی طرح خوبصورتی سے بہتی جاتی ہے ۔
🌟 کہانی میں دکھایا ہے کہ کیسے جندروئی کو اپنے ورثے سے اتنی محبت ہے کہ اسے نیند تک جندر کی آواز سے آتی ہے ۔ ناول میں بہت سے کردار ہیں مگر سب سے زیادہ ذکر بابا جمال دین کا ہے جو کہانیوں کے دلدادہ ہوتے ہیں ۔ ناول کو خوبصورت اسکے قصے کہانیاں بھی بناتے ہیں جو قاری کو ناول سے باندھے رکھتے ہیں
🌟 ایک بات جو بار بار میں نے محسوس کی وہ جندروئی کی بے بسی ہے کہ کیسے ولی خان اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ گیا ہے لیکن وہ جندر سے الگ ہونے کو تیار نہیں اپنی بیوی سے بھی شاید زیادہ اسے اپنی جندر عزیز تھی مگر اب جب بجلی سے چلنے والی چکی آ چکی ہے تو اسے بے بسی کھائے جا رہی ہے وہ پڑھا لکھا فلسفے تک کو جاننے والا انسان نئی ایجادات سے نفرت بھی نہیں کر رہا اور نہ انہیں قبول کر رہا ہے ۔ یہ احساس انتہائی مشکل ہے اب تو اسکے پاس کوئی دانے پسوانے بھی نہیں آتا مگر وہ اپنی جاتی ہوئی تہذیب سے آخری دم تک دور نہیں جا رہا وہ جندر کے اندر ہی اپنی موت کو تلاش کر رہا ہے اور اپنی موت کے بعد سب سے پہلے شخص کو تلاش کر رہا ہے جو اس ویران رستے پر کبھی آئے گا اور اسکی لاش دیکھے گا
🌟 جندر اپنے اندر انتہائی احساس لیے پھر رہا ہے ۔ یہ ناول اردو کے وسیع ادب میں سے ایک ہے ایسی سادہ آسان اور احساس سے بھری کہانی روز روز کہاں ملتی ہے ۔
🌟 اگر آپ بہت آسان اور اچھا پڑھنے کے خواہاں ہیں تو اس ناول کو ضرور موقع دیں ۔ بس اتنا ہی اوراق : 121 احسن افتخار امید ہے آپ مجھے جانتے ہوں گے
Jandar, Akhtar Raza Saleemi Reads: 2025 Jandar stands as my second Urdu read as of this year, since I promised myself to read at least four of these. This book proved to be a fantastic pick whose idea I got from one of @farzeens.reading.room ‘s reels. The book is around 150 pages, and I am all for short books.
The story resonates around a civilisation: Its highs and its lows. The main character is an old man who’s on his deathbed streaming down the memory lane. He seems to have a photographic memory for he remembers even the minute of details. Besides the main character the read also has a central object, which is the “Jandarr”. It is something relating to grinding wheat. In my regional language we call it “Chakki” if I am not wrong jandar is the same thing except that it powers through running water.
There is a diversity of ideas touched upon in this book, the pain of watching the times change, the agony of choosing between detachment and attachment and above all having no one beside you for a very long period.
I could relate to this book to a great deal, I wouldn’t say that I watched a civilisation die out, but I have seen the wheat fields and mango orchards of my hometown turning into a residential colony. The tube well area where I spent my childhood playing with my cousins going obsolete and then that too changing into some outsider’s house and It pained me a lot. In this context I could feel for that old man and admired his will to be adhesive. He might be referred as an orthodox but to me he was just a sincere one in his relationship with his surroundings.
Kitab kafi aachi hai, ye kitab ekk ladke ki kahani batlati hai kaise wo pala gaya kitabo of kahaniyo ke sath kaise usko aapne ghar ke jandar (chakki) se itna lagav tha ki usne uske liye apne biwi tak ko chor diya last ke part mein technology or development ne kaise unity bhaichar ko khatam kiya hai uska darshata hai.
جندر۔ انتہائی خوبصورت اور اچھوتا ناول ہے۔ جدیدیت کے ہاتھوں ثقافت کی موت کو سلیمی صاحب نے بہت عمدہ الفاظ میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احساسات کے رنگ خوب دکھائے ہیں۔ ضرور اس ناول کو پڑھیں اور لطف اندوز ہوں۔
A fascinating novel narrates story of a dying man who spent whole life working on water powered flour mill. He narrates when he senses his death is near. Remembers his life & times. His story is not of his death but of change of civilization.
کتاب کا آغاز ایک مرتے ہوے آدمی کی آپ بیتی سے شروع ہوتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ، ولی خان ایک جندروی ہے جس نے ساری زندگی جندر (آٹا پیسنے کی قدیم طرز کی مشین) پہ گاؤں والوں کو آٹا پیس کر دینے میں گذاری۔ پچپن سے لیکر زندگی کے آخری ایام تک ولی خان نے جندر اور اس تہذ یب کو مضبوطی سے تھامے رکھا حتی کہ اس بیچ اس سے کئی قیمتی رشتے بھی چھوٹ گیے مگر اب اسکی موت کے ساتھ ایک تہذیب بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانی تھی۔
جندر کا پہلی مرتبہ نصب ہونا، ولی خان کے والد کا جندر پہ کام کرنا۔ ولی جان کی پیدائش پر اسکی ماں کا دنیا سے رخصت ہونا اور پھر جندر ولی خان اور اسکے والد کی زندگیوں کا اہم ترین حصہ بن جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جندر کے چلنے سے جو سریلی گونج پیدا ہوتی تھی وہ ولی خان اور اسکے والد کی زندگی کی تنہائی کو کم کرتی ہوئی انکی روح میں سرایت کر گئی۔ بس پھر ولی خان کی ازدواجی زندگی اپنی چچا زاد بہن سے شادی کے بعد بھی کچھ عرصے ہی چل پاتی ہے۔ جو سکون ولی خان کو جندر کے آس پاس رہنے میں ملتا تھا وہ نہ تو اسکی بیوی نہ ہی بیٹے راحیل سمجھ پائے لہذا وہ دونوں اسے چھوڑ کر شہر جا کر بس گیے۔
اپنے والد کی طرح ولی خان بھی زندگی میں رشتوں سے محروم رہا مگر پچپن ہی سے بابا جمال دین کی داستان گوئی نے اسے کہانیوں کی رنگارنگ دنیا سے آشنا کیا اور کتابوں سے جوڑ دیا۔ اب جب موت اسکے دروازے پہ دستک دے رہی ہے تو ولی خان کو صرف اسی بات کی فکر ہے کہ آیا وہ کون شخص ہو گا جو اسکی موت کی خبر گاؤں والوں کو دے گا۔
کہانی غمگیں ضرور ہے مگر یقین جانیے کہانی کا تسلسل، زبان میں روانی، الفاظ کا چناؤ، منفرد کردار اور سب سے بڑھ کر کہانی کا موضوع ، جندر اور اسکے متعلق معلومات اسے تمام تر کہانیوں اور کتابوں سے جو میں نے ابھی تک پڑھی ہیں سب سے بہترین اور منفرد بناتی ہے۔ کتاب پڑھ کر اب مجھے دل چاہتا ہے کہ ولی خان کا جندر دیکھوں، کاہو کا قدیم درخت، بابا جمال دین سب سے ملوں۔ اور اسکے ساتھ ساتھ اختر رضا سلیمی کتاب کے مصنف سے ملنے کی بھی شدید خواہش ہے۔
کتاب بمشکل 121 صفحات کی ہے آسانی سے ایک آدھ دن میں ہی مکمل کی جاسکتی ہے۔ اسکی مقبولیت کا اندازہ مجھے تب ہوا جب پڑھتے وقت خیال آیا کہ اسے تحفے میں دوست کو تحفے میں دی جائے مگر پھر پتہ چلا کہ کتاب فی الوقت آؤٹ اوف سٹاک ہے۔
یہ ایک معدوم ہوتی ہوئی نسل کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں ایک زرعی نظام کی آخری ہوکیں کس خوبصورت انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ کیا کہنے!! جیسے ہم شہری زندگی کی سہولیات و آرائش کے عادی ہو رہے ہیں، ہم ایک زندگی کو ختم کر رہے ہیں بلکہ آسان لفظوں میں ہم باہمی الفت، تعاون اور خونی رشتوں کی ہم آہنگی کو ناپید کررہے ہیں۔ محنت کشی سے زرعی ترقی اور زرعی ترقی سے صعنتی ترقی پھر صنعتی ترقی سے آرٹییفشل انٹیلیجنس کا سفر ہے۔
سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں سماعت ایک تغیر کو ہے زمانے میں
اختر رضا سلیمی کا مختصر سا ناول دراصل ایک حقیقی ناول ہے، جو ایک دور سے دوسرے دور میں داخلی دروازے کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک جندر روئی کی روداد ہے۔ یہ روداد وہ اپنے آخری لمحوں میں سنا رہا ہے۔ اس کی کہانی کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو بڑے اعلی کینوس پر بیان ہو رہی ہے۔ جیسے اس کے دادا کا جندر کو بنانا، چلانا اس کے بعد اس کے والد کا ہر وقت اس جندر کو وقت دینا، پھر خود ولی خان (جندروئی کا دور) جس میں وہ جندر کا وفادار رہا، مگر بیوی کے تصورات مختلف تھے۔ آخر میں اس کا بیٹا جو جندر کو نا پسند کرتا ہے۔ اور آٹا پیسنے کی مشین کی (چکی) لگانے میں گاؤں کا معاون ثابت ہوا۔ جس کو اسکے والد نے اپنی موت کا سامان سمجھا۔
جندر روئی کی موت بظاہر ایک عہد کی موت ہے۔ ایسی اموات اب روز مرہ نئی چیزوں جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے آنے سے ہو رہی ہے۔ یہ مختصر سی کتاب اپنے اندر کئی موضوعات، احساسات کو جمع کیے ہوئے ہے۔
اگر ایک مرتبہ اس کتاب کو آپ نے شروع کیا تو اس کو چھوڑنا ناممکن ہے۔