ساری کتاب فیشنی صوفی کے کمرشل ڈائیلاگوں کے علاوہ کچھ نہیں تھی. اگر آپ کے داستاں سرائے والوں سے اچھے تعلقات ہیں اور ایک آدھ فوٹو اور تعارف حاصل کرلیں تو سنگِ میل والے بھی آپ کی کتاب چھاپ دیں گے۔ صرف بانو قدسیہ کی سفارش ہی نہیں بلکہ پسرِ اقبال جناب جاوید اقبال اور محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا عکس شدہ ستائشی خط نما تعارف بھی کتاب کے اندر موجود ہے۔ صحرائی صاحب کی کتب کے عنوانات کافی اچھے لگے تھے اور یہ کتب کافی عرصے سے دماغ پر قبضہ جمائے ہوئے تھیں. صحرائی صاحب کے افسانے کسی قسم کا پلاٹ نہیں رکھتے. کسی صوفیانہ فلسفہ سے بھرا ہوئے ڈائیلاگ سے افسانہ شروع ہوگا اور ساتھ ساتھ حب الوطنی کا فلمی ڈائیلاگ بھی ساتھ ساتھ آسانی سے آتا رہے گا۔ مثلاً جب کسی چڑیا کا گھونسلہ گر جائے تو یوں ہوجاتا ہے یا قبروں کے اوپر یہ ہوجائے تو یوں ہوجاتا ہے. اسی طرح دو تین اوراق کے افسانے میں پورے افسانے کا سوا حصہ کچھ کرداروں پر مشتمل ہوگا اور باقی یہی ملتے جلتے ڈائیلاگ اور افسانہ تیار۔ بے شک مجھے جوتے ماریے مگر سچ پوچھیے تو بہت افسوس ہوا کہ یہ کتاب اس جاہ و جلال کے ساتھ مارکیٹ میں پھیلائی گئی. جتنا بے مزہ میں اس کتاب کو پڑھ کر ہوا ایسا تجربہ خواتین ڈائجسٹ لکھاریوں کے ناول پڑھ کر ہوتا تھا. مجھے کوئی زن بے زار نہ سمجھیے، میں کئی خواتین لکھاریوں کا بہت مداح ہوں۔
It was a really boring experience with the same theme used in just about every story. It was full of impactful lines but that's just about it, the characters were bland and felt very unreasonable. Overall it wasn't worth it imo.