اس کتاب میں محمد حسین آزاد نے اردو شاعروں کے احوالِ زندگی کو بیان کیا ہے۔ اندازِ بیان بہت مؤثر ہے۔ بہتیرے لوگ یہ کتاب صرف اردو نثر کی چاشنی چکھنے کے لیے بھی پڑھتے ہیں۔ اس کتاب میں آپ کو شعراء کے پانچ دور ملیں گے جس میں ان کے دنیا میں تشریف فرمانے کے حساب سے ہر ایک شاعر کے حالاتِ زندگی اور ان کے کلام کے کچھ حصوں کو پیش کیا گیا ہے۔
اے اقبال گداؤ! اے شاہ نشاں خاکساورو! جن پتھروں کو تم نے منبت اور گلکاری سے تراش کر فقط خوش نماٸ کے لیے لگایا تھا ہم اسے وہاں سے نکال لیں گے، شکریہ کے ساتھ آنکھوں سے لگائیں گےاور اس سے کسی ایسی محراب کو زینت دیں گے جو اپنی مضبوطی سے ایک ایک ملکی ایوان کو استحکام دےاور دلوں کو خوش نماٸ سے شگفتہ کرے کیونکہ تمہارے لفظوں کی عمدہ تراشیں اور ان کی پسندیدہ ترکیبیں، استعارے اور تشبیہیں اگرچہ عاشقانہ مضامین میں ہیں، پھر بھی اگر ہم سلیقہ اور امتیاز سے کام میں لائیں گے تو علوم، فنون، تاریخ وغیرہ عام مطالب میں ہمارے اداۓ مقاصداوراندازہ بیان کیے لیے عمدہ، معاون اور کارآمد ہوں گے۔ اے ہمارے رہنماؤ! تم کیسے مبارک قدموں سے چلے تھے اور کیسے برکت والےہاتھوں سے رستہ میں چراغ رکتھے گۓ تھے کہ جہاں تک زمانہ آگے بڑھتا ہے تمہارے چراغوں سے چراغ جلتے چلے جاتے ہیں اور جہاں تک ہم آگے جاتے ہیں تمہاری ہی روشنی میں جاتے ہیں۔"
یہ کلاسیکی انداز میں لکھی گئی اپنی نوعیت کی انتہائی اعلیٰ کتاب ہے۔ جہاں یہ شعراء کے احوال اور ان کے طرز زندگی کے بارے میں ہمیں آگاہ کرتی ہے وہیں پر اس کا اسلوب انتہائی نادر اور دل کو موہ لینے والا ہے۔ یہ شعراء کی زندگی کے ان پہلوؤں کو ہم پر عیاں کرتی ہے جو اس سے پہلے تقریباً پوشیدہ تھے اور ان پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم مخصوص شعرا کی شعریات کی تفہیم کر سکتے ہیں اس کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کا اس کی شاعری پر اثر انداز ہونا دیکھ سکتے ہیں یہ اردو کی ابتداء سے لے کر میر انیس و دبیر تک کے شعراء کے بارے میں ہمیں بتاتی ہے۔ ان کے باہمی گفتگو معاصرانہ چشمک ایک دوسرے پر طعن۔علمی اعتراض اور ان کے جوابات ۔ جس سے انسان اردو شعریات خصوصاً اردو غزل کے پروان کو دیکھ سکتا ہے آخر میں ہر شاعر کے کلام میں کافی حد تک اس میں شامل کیا گیا جو نثر کے ساتھ ساتھ شعری تشنگی کیلیے سامان پیدا کرتا ہے
Azad begongs to shite religion, he claimed in the book that Mirza Mazhar Jan Janan wasn't martyred by shites but international news agencies acclaimed that Mazhar murder was fully planned and did by the shite terrorist. News agencies also claimed thay Azad deliberately misguided people because his own people were involved in the murder. Pathetic effort from Azad.
Actual book name= alam e nain by sanam shah Book size = 1740 pages I couldn't find the book, so I used this as a marker
4.9999999... I really loved this book. Everything I love was this is in this book. The only reason It didn't get a 5 was because it was tooo long, and because of this, I wouldn't read it again.