جولائی 1942ء میں یکایک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اسٹاف میں مجھے ایئر پبلک ریلیشنز آفیسر کا عہدہ مل گیا۔ اس کی و جہ غالباً یہ تھی کہ میں رائل ایئر فورس سروس میں کام کر چکا تھا۔ اس کے پندرہ ماہ کے بعد جب وہ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے سپریم الائڈ کمانڈر نامزد ہوئے تو انھوں نے اپنی انٹر کمان اور انٹر ریکارڈ سیکشن کا سارا چارج مجھے دے دیا۔ انھوں نے مجھے اس جگہ پر صرف اس لیے نہیں لا بٹھایا تھاکہ سرکاری دستاویزات سے ان کے لیے اطلاعات فراہم کرتا رہوں، بلکہ وہ مجھے اپنی اونچی سطح کے جلسوں اور ہفتہ وار انٹرویو میں بھی شریک کرتے تاکہ پس منظر کے طور پر ان کو ریکارڈ دیا کروں۔ اسی اثنا میں ان کو وائسرائے ہند کے عہدے کی پیش کش ہوئی۔ میں چونکہ ماؤنٹ بیٹن کی مشین کے ایک پرزہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے اپنا پریس اتاشی بنا دیا۔ اتفاق کی بات اس سے پہلے ہندوستان میں جتنے بھی وائسرائے ہوئے، ان کے اسٹاف میں پریس اتاشی کا عہدہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ اس کتاب کی بنیاد میں نے اپنے نوٹس، خطوط اور یادداشت پر رکھی ہے اور اس کا مقصد محض اس عہد کی ایک کہانی بیان کرنا ہے جس عہد میں ہندوستان کو اختیارات منتقل کیے گئے۔ میں نے اپنی ڈائریوں میں مستقبل کی تاریخ کے لیے مواد فراہم کر دیا ہے، ان میں تاریخ بیان نہیں کی ہے۔ ساتھ ہی یہ ڈائریاں ایک طرح کی عینی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان میں ہندوستان پر ’’دوسرا فیصلہ یا فتویٰ‘‘ صادر نہیں کیا گیا ہے۔ جن واقعات کے طوفانوں مَیں سے گزرا ہوں یا جن شخصیات کی صحبتیں میں نے اٹھائی ہیں وہ مجھ سے اتنی قریب ہیں کہ میں ان واقعات و شخصیات کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تجزیہ کا فائدہ اُس وقت پہنچ سکتا تھا اگر فضا سازگار ہوتی، اور جن آراکا ہم اظہار کرتے ان کو سراہا جاتا۔ اگر آپ ان ڈائریوں، میں میری عجلت پسندی محسوس کرتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی و جہ یہ ہے کہ ہمارے کام کی رفتار انتہائی تیز تھی اور اگر ان میں تسلسل اور ترتیب بھی نظر نہ آئے تو اس کے بنیادی اسباب وہ مسائل تھے جن کا جلد از جلد حل نکالنا تھا۔
Campbell was the Public Relations Officer to Mountbatten. It was unusual in those days to have a PRO. Anyway, he wrote a biography on Mountbatten's years in India as viceroy.
Nehru let Mountbatten remain as Viceroy after India's independence but Jinnah refused. Out of spite, Campbell-Johnson stole some doodles that Jinnah had made on a piece of paper with rockets and fireworks and the word 'viceroy'. It was implied that this proved how power-hungry Jinnah was. In those days, it was unusual to have a PRO. The vain Mountbatten would be an exception.