Jump to ratings and reviews
Rate this book

Dekho Shehr Lahore / دیکھو شہر لاھور

Rate this book
A.Hameed is a prolific story writer of Urdu Literature. Dekho Shehr Lahore is a wonderful prose description of this historical city and about the adventures of writer along with his friends in the streets of Lahore. The essays included in this book gives a vivid description of the Lahore city of 60's along with its magical beauties.

فہرست مضامین

٭ نومبر کی ایک رات
٭ وادیاں
٭ ہوٹلوں کا شہر لاہور
٭ راوی بپھرتا ہے
٭سڑکیں اور کتے
٭ میں بھی حاضر تھا وہیں
٭ راوی کا میلہ
٭ تہواروں کا شہر
٭ ادبی لاہور
٭ رت آئے رت جائے
٭ بہار کی وادی
٭ میرا لاہور
٭ لیلیٰ مجنوں ڈرامہ
٭ چہار درویش
٭ دیکھو شہر لاھور

250 pages, Paperback

17 people want to read

About the author

A. Hameed

76 books24 followers
Abdul Hameed (b. 1928) was a popular Urdu fiction writer from Lahore, Pakistan who wrote over 200 books.

Hameed was born in 1928 in Amritsar British India. He passed his secondary education in Amritsar. He migrated to Pakistan after partition and passed intermediate in Pakistan as a private candidate and join Radio Pakistan as assistant script editor. After working some year for Radio Pakistan he joined Voice of America.

Manzil's first collection of short stories received popular acclaim and made him a recognized romantic short story writer. Apart from writing short stories and novels he wrote columns for national news papers. He also wrote for radio and television.

He has written more than 200 books. Urdu She'r Ki Dastan, Urdu Nasr ki Dastan (in which he has given information about the prose literature of many Urdu prose writers from Banda Nawas gesu Draz to the recent prose writers of Daccen and Gugrat), Mirza Ghalib, Dastango Ashfaq Ahmad and Mirza Ghalib Lahore mai are his most famous books.

His drama Ainak Wala Jin was popular with children in the 1990s. Moreover his fantasy series of 100 novels for children known as AMBAR NAAG MARIA Series was a real fame for him.

Hameed died on 29 April 2011 at the age of 83

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
5 (50%)
4 stars
3 (30%)
3 stars
2 (20%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 2 of 2 reviews
Profile Image for Omama..
713 reviews72 followers
July 26, 2020
Memories of A.Hameed of the Lahore of the 50s and 60s. Wanderings in the narrow streets of Lahore, the start of a new life post-partition, jobs at the production houses and radio, start of a literary life, life at the Pak Tea House, all the while describing the unique characters that used to appear on the canvas of life; this book is a mix of culture, literature and nostalgia.
Profile Image for sohail bhatti.
565 reviews3 followers
September 9, 2024
میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اگر تجھے ”ٹائم مشین“ مل جائے تو کیا تو مستقبل میں جانا پسند کرو گے یا ماضی میں؟ میرا جواب تھا ماضی میں۔۔۔جب سادگی تھی، لوگ سر شام گلیوں محلوں میں پانی کا چھڑکاؤ کرکے اپنی چارپائیاں باہر لے آتے اور حقے کی بے گھومتی رہتی اور دنیا جہان کی باتیں ہوتیں۔۔۔
میرا تعارف اے حمید سے شائد سنہ اٹھاسی میں ہوا جب میں نے نوائے وقت میگزین میں ”بارش، خوشبو، سماوار“ پڑھنا شروع کیا۔ میں بی کام کا طالب علم تھا۔ پھر تو جمعہ کا انتظار ہی رہتا۔ میں نے اس تحریر کو اخبار سے کاٹ کر ایک پرانی کاپی میں جپکانے کی سعی بھی کی ہوئی ہے۔ پھر سنہ بانوے میں میری پہلی ملاقات ہوئی اے حمید صاحب سے نوائے وقت کے دفتر میں جہاں وہ ایک کھڑکی کے قریب بیٹھے چائے اور سگریٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں ان سے مل کر اتنا خوش ہوا کہ میرے پیر زمین پر نہیں لگتے تھے۔ کئی دنوں تک میں جس کو ملتا بتاتا کہ میں اے حمید صاحب سے ملا ہوں۔ کئی دوستوں نے کہا ”او یار توں پہلے وی دسیا سی، کیہ ہو گیا یار“ اس پر مجھے افسوس ہوتا۔
میرا بچپن پرانی انارکلی، میکلیگن روڈ پر گزرا ہے۔ پاک ٹی ہاؤس والے چوک میں ڈینز یونیفارم والوں سے ذرا پیچھے ایک پہلوان کی پان سگریٹ کی دکان ہوا کرتی تھی۔ میری یادداشت کے حاشیوں میں موجود ہے کہ میرے چچا عموماً مجھے اپنے ساتھ وہاں لے جایا کرتے اور پہلوان ایک ننھا منا سا پان بنا کر میرے منہ میں ڈال دیا کرتا تھا۔
جس لاہور کی اے حمید صاحب باتیں کرتے ہیں اس لاہور کو دیکھنے کا بہت دل کرتا ہے۔ لیکن میں اپنی آنکھوں سے تو دیکھ نہیں سکتا اس لئے اے حمید صاحب کی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہوں۔
پاک ٹی ہاؤس کا ایسا طلسم بن گیا ہے میرے ذہن میں کہ میں آج تک وہاں داخل نہیں ہو سکا۔ کیونکہ اگر وہ اے حمید صاحب کے بتائے ہوئے پاک ٹی ہاؤس سے مختلف ہوا تو میرا طلسم ٹوٹ جائے گا۔ میں اس طلسم کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔
ہاں لارنس گارڈن کے ساتھ مجھے بھی اتنی ہی عقیدت ہے جتنی اے حمید صاحب کو تھی۔ اپنے ماسٹرز کے دو سال میں نے قائدِ اعظم لائبریری میں گزارے ہیں اور وہ دو سال میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ جب ماسٹرز مکمل ہو گیا تو میں بے اختیار رو دیا کہ اس لائبریری اور اس باغ کے بغیر زندگی کیسے گزرے گی۔ میرے تمام دوست واک کے لئے ریس کورس باغ جاتے ہیں۔ میں لارنس گارڈن جاتا ہوں۔ جی ہاں میں لارنس گارڈن ہی کہتا ہوں میں کبھی اس کو باغ جناح یا جناح باغ نہیں کہہ سکا۔ جس نے محنت کی اس باغ کو لگانے سنوارنے میں اسی کے نام سے منسوب رہنا چاہئے۔
اے حمید صاحب کی منظر نگاری کمال کی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے میں ان کے ساتھ ہی چل رہا ہوں، ان کے ساتھ ہی مختلف جگہوں پر مختلف لوگوں سے مل رہا ہوں اور وہ پوچھتے ہیں ”اے حمید یہ کون ہے؟“ اور وہ جواباً کہتے ہی ”پتہ نہیں یار بس راستے سے ساتھ ہو لیا، اب پیچھا ہی نہیں چھوڑتا“۔
مجھے وہ وقت بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اتنی تفصیل کی نہ یہ جگہ ہے اور نہ کسی نے پڑھنی ہے۔
Displaying 1 - 2 of 2 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.