Jump to ratings and reviews
Rate this book

Baar-e-Khatir / بار خاطر

Rate this book
محمد طفیل صاحب جن کا کوئی تخلص نہیں ہے میرے ہم عصروں میں گزر رہے ہیں ان کی خاطر مجھے بےحد عزیز ہے اور میں خود ان کے لیے ’’بارِ خاطر‘‘ کی حیثیت بھی رکھتا ہوں اور ’’یارِشاطر‘‘ کی بھی۔ چناں چہ یہ مجموعہ جو کچھ بھی ہے ان ہی کی ایک فرمائش کی تعمیل ہے۔ ’’غبار خاطر‘‘ دیکھ کر میں نے ازرہِ شامتِ اعمال چند خطوط ان کے رسالہ نقوش کے لیے لکھے تھے، معلوم نہیں وہ کون سی گھڑی تھی جب یہ خطوط لکھے گئے تھے کہ اس جرم کی سزا مجھ کو اور خود طفیل صاحب کو مدتوں بھگتنا پڑی۔ ان کا اصرار کہ میں اسی قسم کے خطوط کا ایک مجموعہ تیار کروں اور میرا اس فرمائش سے فرار۔ مگر آخر اس فرمائش نے فہمائش کی صورت اختیار کر لی اور یہ مجموعہ ہم دونوں کے لیے صحیح معنوں میں بارِخاطر ثابت ہونے لگا۔ آخر خدا خدا کر کے ان مکاتیب کی تحریر کے کام سے فارغ ہو رہا ہوں۔ مجھے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ میں نے یہ خطوط ’’غبارِخاطر‘‘ والے مکاتیب کی طرح قلم برداشتہ تو نہیں البتہ دل برداشتہ ضرور لکھے ہیں، اس کے باوجود اگر ان خطوط میں کسی کو کوئی خوبی نظر آجائے تو اس کو میری کرامت نہ سمجھا جائے بلکہ مولانا آزاد کا فیض سمجھا جائے جن کے مکاتیب کی یہ ’’ریڑھ ماری گئی ہے۔‘‘ پیروڈی کا ترجمہ ’’ریڑھ مارنا‘‘ سیّد محمد جعفری سے مجھ تک پہنچا ہے اور وہ راوی ہیں کہ یہ ترجمہ ماجد صاحب کا ہے بہرحال جس کا بھی ہو خوب ہے اور اس مجموعہ کے لیے تو خوب تر

شوکت تھانوی

280 pages, Hardcover

Published May 1, 2020

Loading...
Loading...

About the author

Shaukat Thanvi

52 books5 followers
Shaukat Thanvi was a Pakistani journalist, essayist, columnist, novelist, short story writer, broadcaster, playwright, humorist and a poet.

Shaukat Thanvi was born in Thana Bhaun, which has given him his last name: Thanvi. On the suggestion of Syed Imtiyaz Ali Taj, Shaukat Thanvi joined Lahore's Pancholi Art Pictures as a story and songwriter in 1943. After the independence of Pakistan in 1947, Pancholi Art Pictures closed down and Shaukat Thanvi joined Radio Pakistan in Lahore. In 1957, Shaukat Thanvi joined Daily Jang newspaper and started writing a humor column in it called Vaghaira Vaghaira which later became very popular among the Pakistani public.

Shaukat Thanvi was a prolific writer and penned some sixty books which include collections of short stories and humorous essays, plays and novels. He was also a poet and a book called Guharistan is a collection of his poetry published early in his career.

He died on May 4, 1963 and was buried in the graveyard of Miani Sahib, Lahore which is located in front of Radio Pakistan, Lahore.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
1 (33%)
2 stars
1 (33%)
1 star
1 (33%)
Displaying 1 - 1 of 1 review
Profile Image for MI Abbas.
94 reviews30 followers
September 5, 2023
بار خاطر یعنی وہ جو طبیعت کو گراں گزرے، بوجھل ہو یا ناگوار لگے۔

شوکت تھانوی کی اس مختصر کتاب کو مکمل پڑھنے میں مجھے ڈھائی ماہ لگے، گو میں کچھ مصروف بھی رہا لیکن یہ کتاب بھی اپنے نام کی طرح سو فیصد بار خاطر ہی ثابت ہوئی۔

اس کتاب میں شوکت تھانوی نے اپنے عزیزوں اور مشاہیر ادب کے نام مکاتیب تحریر کیے ہیں اور کتاب کا ہر باب ایک خط پر مشتمل ہے۔

یہ خطوط شگفتہ بھی ہیں اور ان میں مزاح کی آمیزش بھی ہے لیکن تقریبا" ہر خط میں تھانوی صاحب اپنے رفقاء کو یا تو پان کھانے کی تلقین کرتے، یا ان سے پان نہ کھانے کی وجوہات معلوم کرتے، یا اصل پان کی عدم دستیابی کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور یہ تکرار اس قدر زیادہ ہے کہ کتاب کو بوجھل بنا دیتی ہے۔

ہر سمجھدار ادیب کی طرح تھانوی صاحب خود بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان کی یہ کتاب طبیعت پر کس قدر گراں گزرتی ہے، جس کا ذکر انہوں نے کتاب کے آخری باب میں خود اپنے ہی نام خط لکھ کر کچھ یوں کیا ہے:

'آپ چلے ہیں ان (مولانا آزاد کی کتاب غبار خاطر) کی پیروڈی کرنے۔ یعنی اس ادب کی پیروڈی کرنے جو خود آپ کی سمجھ سے بلند و بالا ہے۔ آپ کے ان مکاتیب سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے غالباً غبار خاطر کو صرف اتنا ہی سمجھا ہے کہ مولانا نے ان تمام اشعار کے استعمال کے لیے یہ خطوط لکھے ہیں جو ان کے حافظہ میں محفوظ تھے یا زیادہ سے زیادہ آپ کے پلے مولانا کا چاۓ سے شغف پڑ گیا ہے جس کو آپ نے اپنے پان کے رنگ میں پیش کیا ہے، اگر اس کا نام پیروڈی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیر سے آپ پیروڈی کے مفہوم سے بھی نا آشنا ہیں۔ اس کو پیروڈی سے زیادہ منہ چڑانا کہنا چاہیے۔

غبار خاطر صرف خطوط نہیں ہیں بڑے بڑے مسائل ہیں۔ بڑے بڑے پیچیدہ عقدے ہیں۔ خیر وہ مسائل نہ سہی، وہ عقدے بھی جانے دیجئے۔ پیروڈی کیلئے یہ ضروری تھا کہ انداز بیان ہی متصل ہوتا۔ فقروں کی ترکیب، جملوں کی ساخت ہی ملتی جلتی ہوتی۔ چائے کے بجائے پان کا ذکر کیا تھا تو وہی ذرا سلیقے سے کیا ہوتا۔ پیروڈی ہنسنے ہنسانے کی چیز ہے مگر آپ نے پیروڈی کی یہ نئی قسم ایجاد کی ہے جسے دیکھ کر رونا آتا ہے۔'

خود اپنی کتاب کے بارے میں اس قدر صاف گوئی سے جب مصنف نے لکھ دیا ہے تو میں اس پر مزید کیا کہہ سکتا ہوں، بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کے پاس فالتو وقت ہے اور کتاب کسی نے آپ کو بطور تحفہ دی ہے اور آپ کے پاس کوئی دوسری کتاب نہیں ہے، یا آپ خدانخواستہ کسی ایسے امتحان میں بیٹھ رہے ہیں جہاں اس کتاب سے کم از کم بیس نمبر کا سوال آرہا ہے تو اسے پڑھ لیجئے، ورنہ اسے نہ پڑھنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
Displaying 1 - 1 of 1 review