ذاکر درّانی نے اپنی کتاب ’’بلوچستان میں سفیرانِ اہل بیتؑ‘‘ میں جو جانفشاں محنت کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے اس ی انفرادیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں یہ پہلی کتاب ہے جو اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں بلوچستان بھر کی جن شخصیات کے کوائف جمع کئے گئے ہیں ان میں بلوچوں کی بڑی تعداد کا تذکرہ شامل ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بلوچ شروع سے ہی ماتم حسینؑ کرتے آ رہے ہیں اور یہی چیز ان کے طرفدار آلِ علیؑ ہونے کے لیے کافی ہے۔ بلوچوں میں صدیوں سے عزاداری چلی آ رہی ہے اور واقعہ کربلا نے امراء بلوچ پر خاص نقوش چھوڑے ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد ۱۱۶ بلوچ قبائل نے توران مکران (قدیم بلوچستان) میں امام حسینؑ کا ماتم کیا۔