Jump to ratings and reviews
Rate this book

Gumnaam Gaon Ka Akhri Mazar / گمنام گاؤں کا آخری مزار

Rate this book
اس کتاب میں شامل سب عام کہانیاں ہیں۔ اگر آپ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں۔ میں نے اس کتاب میں عام انسانوں کے دُکھوں اور غموں کی آواز بننے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کے سب کردار عام لوگ ہیں۔ وہ عام لوگ ہی میرے ہیروز ہیں۔ وہی میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے اپنے ماں باپ کو ایک دُوردراز گاؤں میں مشکلات اور دُکھوں میں ِگھرے دیکھا۔ انہیں ساری عمر جدوجہد اور محنت کرتے دیکھا۔ انہیں تکلیفوں کا شکار دیکھا لیکن انہوں نے ایک ہی سبق سکھایا کہ سرنڈر نہیں کرنا۔ اس لیے شروع سے ہی میرے ہیرو وہی لوگ تھے۔ کسی کو بھی درد یا تکلیف میں دیکھا تو بابا اور اماں میرے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ کبھی کسی بڑے آدمی سے متاثر نہ ہوسکا، یا یوں کہہ لیں کہ ذلتوں کے مارے لوگ ہی میری انسپائریشن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا انتساب میں نے گاؤں کے کمہار چاچا میرو کے نام کیا ہے جس پر لکھی گئی ایک طویل کہانی ’’گمنام گاؤں کا آخری مزار‘‘ آپ کو کئی دن چین سے سونے نہیں دے گی، اگر آپ کے بدن میں واقعی دل اور آنکھ میں پانی باقی ہے۔ اس کتاب میں شامل ہر کہانی سچّی ہے۔ اپنی جگہ مکمل افسانہ ہے، ناول ہے، دُکھ ہے، انسانی المیہ ہے۔ اس کتاب کے سب کردار دُکھی لوگ ہیں اور دُکھی لوگوں کے دُکھ میں نے کہانیوں کی طرح لکھے ہیں۔

رؤف کلاسرا

360 pages, Hardcover

First published January 1, 2020

11 people are currently reading
175 people want to read

About the author

Rauf Klasra

12 books29 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
25 (49%)
4 stars
15 (29%)
3 stars
6 (11%)
2 stars
3 (5%)
1 star
2 (3%)
Displaying 1 - 14 of 14 reviews
Profile Image for MI Abbas.
73 reviews30 followers
February 15, 2022
گمنام گاوں کا آخری مزار جیسے پراسرار عنوان اور خوبصورت سرورق والی یہ کتاب پہلی نظر میں کسی ناول کا تاثر دیتی ہے۔ بالخصوص مجھ جیسے قاری کو جس کا مصنف سے یہ پہلا تعارف ہو۔

رووف کلاسرہ صحافی، کالم نگار اور مترجم ہیں اور اس کتاب کو انہوں نے عام لوگوں کی کہانیوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کہانیوں کو پڑھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ ان کے کالموں میں ہی بیان کردہ واقعات پر مبنی ہیں۔ مگر ان کالموں میں سے بھی یہ وہ چنیدہ تحریریں ہیں جو کسی بھی زمانے میں پڑھی جائیں اپنے اندر تازگی برقرار رکھتے ہوئے دل میں اترتی محسوس ہوتی ہیں۔

کلاسرہ، سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے ان چند معروف لوگوں میں سے ہیں جو اپنے علاقے اور اس کے لوگوں کی بات کرتے ہیں، اور اپنی کہانیوں کے ذریعے وہاں کے لوگوں کی تکالیف کو اور روز مرہ کے ان مسائل کو بیان کرتے ہیں جن کا ذکر کم ہی کوئی کرتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے لوگوں اور ان کے مسائل کے حوالے سے مصنف کافی جذباتی ہیں جس کی جھلک ان کہانیوں میں نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ قاری اس تکلیف کی شدت کو بعینی ایسے ہی محسوس کرے جیسے وہ خود کر رہے ہیں، مگر جانے کیوں مجھے محسوس ہوا کہ یہاں وہ یہ تاثر قائم نہیں کر پائے۔

بیشتر جگہوں پر ایسا لگا کہ کہانی کی اٹھان جیسی تھی یا مصنف ابتداء میں جیسا سماں باندھ رہے تھے انجام بھی اس قدر عمدہ، لرزا دینے یا تڑپا دینے والا ہوگا، لیکن اختتام اتنا طاقتور محسوس نہیں ہوا، کہیں ہلکی سی تشنگی رہ گئی۔ جیسے کچھ کمی سی ہو۔

یہ عام لوگوں کی سادہ سی زندگیوں کی کہانیوں پر مبنی کتاب ہے جو آپ کو جیسل کلاسرہ گاوں اور اس کے باسیوں کے شب و روز سے متعارف کرواتے ہوئے دیہات کی زندگی اور اس کے دکھ سکھ سناتی جائے گی۔ اگر آپ دیہات کی سادہ زندگی کو جاننے اور وہاں کے مسائل کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس کتاب کو ضرور پڑھئیے۔
Profile Image for Tameel Fiza.
41 reviews2 followers
January 17, 2022
گُمنام گاؤں کا آخری مزار رؤف کلاسرا کی لکھی گئی کتاب ہے, رؤف کلاسرا صاحب اس سے پہلے بھی دو کتابیں” اک قتل جو ہو نہ سکا“ اور” اک سیاست کئی کہانیاں “ لکھ چکے ہیں اس کے علاوہ ایک مشہور زمانہ کتاب گاڈ فادر کا اردو ترجمہ بھی کر چکے ہیں، رؤف کلاسرا پاکستانی صحافی اور ایک مشہور کالم نگار ہیں جو پیچیدہ مسائل پر، جرات مندانہ، منفرد اور غیر مقبول موقف اختیار کرنے کے لیے مشہور ہیں
تین سو ساٹھ صفحات پر لکھی گئیں یہ سرسٹھ کہانیاں بہت سے کرداروں پر مشتمل ہیں جن کے نام یاد رکھنا کم از کم میرے لیے ممکن نہیں, ہر کہانی میں تقریباً مختلف کردار ہیں
مصنف نے منظر نگاری بہت خوبصورت انداز میں کی ہے، کتاب پڑھتے ہوئے بعض جگہوں پر آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کتاب نہیں پڑھ رہے آپ وہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ رہے ہیں
مصنف کا کہنا ہے کہ یہ عام لوگوں کی کہانیاں ہیں، اگر آپ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے لیے نہیں ہے، اور یہ حقیقتاً عام لوگوں کی کہانیاں، ہم جیسے ہی عام لوگوں کی کہانیاں، اسی لیے ہم بہت آسانی سے ان کی کہانیوں سے ریلیٹ کر سکتے ہیں خود کو، اسی لیے ہم اکثر جگہوں پر اپنی آنکھوں میں نمی بھی محسوس کرے گے
شروع کی کہانیاں پڑھ کے آپ کو لگے گا کہ میں اس کتاب کو اپنی پسندیدہ کتابوں میں شامل کر لوں، تھوڑا آگے بڑھیں گے تو کہانیوں میں مصنف کی صحافت کی خوشبو محسوس ہونے لگے گی اور پھر یہ خوشبو کتاب کے ساتھ ساتھ اپنا سفر طہ کرتی رہی گی، اگر تو آپ میاں خاندان کے حامی ہیں تو جیسے جیسے مصنف کی صحافت کی خوشبو کہانیوں میں جھلکنے لگے گی آپ کتاب کو ناپسند کرنا شروع کر دے گے، اور اگر آپ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے(میری طرح) تو آپ کو محسوس ہونے لگے گا کہ آپ مشکل ہی اس کتاب کو ختم کر پائے گے، پر جیسے ہی آپ کتاب کو چھوڑنے کے قریب ہونگے یہ خوشبو ہلکی ہونے لگے گی اور آپ دوبارہ کتاب کی طرف اپنی دلچسپی بڑھتی ہوئی محسوس کریں گے
وہی کہانیاں جو شروع میں آپ عام لوگوں کی کہانیاں سمجھ کے پڑھ رہے تھے ایک مقام پر آپ کو لگے گا کہ مصنف نے اپنی زندگی میں آنے والے لوگوں کو یاد رکھنے کے لیے ان کے بارے میں ایک ایک کہانی لکھ کر چھپوا دی ہے بس اور کیا پر پھر وہی بات کہ مصنف لکھنے کا طریقہ اچھے سے جانتے ہیں آپ کہانی کے آخر تک کشمکش میں ہونگے آگے پڑھوں نا پڑھوں پر آخر تک ان عام لوگوں کے غم میں اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کی بدولت خود کو شریک ہوتا محسوس بھی کرے گے
میری طرف سے کتاب کو چار ستارے
...
اللہ جانے رات کے اس پہر کیوں بیٹھی تبصرہ لکھ رہی ہوں🙂
17 reviews19 followers
April 8, 2024
I don’t know Rauf Kalasara as a journalist but this was my first introduction with him. I picked up this book after reading the introduction of this book and if I’m recalling correctly i read @the.lazy.writer ‘s review on it. For me this book was 2.5/5.
Reason being this was not the story of major events or great happening but tales of people who are unsung heros of our every day life. I honestly loved the short story “gumnam gaon ka aakhri mazaar” and this made me feel super nostalgic and probably this is going to hunt me till death and later were a few incidents (the real ones) that gave me shivers along the spine.
What made this boring was introducing so many characters and stories, unnecessary detailing and Rauf mentioning him the hero in every story as a guardian angel or saviour of people. Overall this is a book of a journalist of South Punjab who penned down all the encounters of life written down their events and complied a book on it. After 150 pages this gradually grows boring but silver lining was the stories were short and you need not to get bore for longer.
-
I honestly wasn’t assuming this book to be super philosophical and it wasn’t. Though the writing style of Rauf was to start the story with a period reference and then adding any movie or book references or pros and poetry. Additionally developing the story and then concluding it accurately.
-
I would gift this book to any of the person who have patience to read stories have a historical alignment love reading stories of people and knows how many times there are unsung heros, about whom no one talks and acknowledges.
Profile Image for Sanober Zulfiqar.
41 reviews
October 6, 2024
کتاب کے 67 ابواب ہیں جو کہانیوں، واقعات اور شخصیات پہ مبنی سادہ اور گفتگو کے اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ مصنف نے قارئین کو ان کہانیوں کے ذریعے اپنے بیتے دنوں سے تعارف کروایا ہے۔ ان واقعات کے ذریعے مصنف حالات حاضرہ سے لیکر زندگی کے مختلف ادوار میں جڑے احباب اور لوگوں کو سراہتے، پرسا کرتے اور سخت رنج والم کا اظہار کرتے ہوے پائے جاتے ہیں اور اسی طرح ان شخصیات کے بارے میں لکھا ہے جو انکی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے مثبت اثر چھوڑ گیے۔

اب آتے ہیں کتاب کے مصنف کی طرف۔ کتاب رؤف کلاسرا صاحب نے لکھی ہے جن سے اکثر لوگ شناسا بھی ہوں گے کہ وہ ٹیلی ویژن پہ ایک اہم جرنلسٹ کے پینل میں ٹاک شوز میں سیاست سے متعلق اپنی راے دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ انکی ذات کا ایک پہلو ہوا۔ پر آخر رؤف کلاسرا صاحب بحیثیت انسان ہیں کیسے اسکا جواب قارئین کو کتاب پڑھتے ہی ہو جاتا ہے۔ جیسل کلاسرا نامی گاؤں سے تعلق رؤف صاحب ٹاٹ کے سکول سے پڑھے، کالج لیہ سے انگریزی لٹریچر میں کیا، ایم اے ملتان بہاؤ الدین یونیورسٹی سے اور پولیٹیکل کمیونیکیشن گولڈ سمتھ کالج لندن سے۔

اپنےگاؤں سے لیکر لندن تک جن واقعات ، لوگوں اور تجربات خاص و عام کی تفریق سے ماورا ہو کر رؤف صاحب نے انھیں کتاب کے ذریعے پوری دنیا کے لیے ایک ٹریبیوٹ کی طرح خاص بنا کر پیش کیا جو پرسنلی مجھے بہت منفرد اور سب سے اچھی بات لگی اس کتاب کی۔ اب دیکھیں نہ کتاب رؤف کلاسرا نے "چاچا میرو" کے نام ڈیڈیکیٹ کی یے جنھیں وہ اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ بحیثیت انسان وہ مجھے ناسٹلجیا کے شکار، ایک ہمدرد دل رکھنے والے، کتب بینی کے شوقین لگے ایک اور بات جو مجھے اچھی لگی وہ یہ کی انھوں نے کئی کتابوں کی رکمنڈیشن اور انکے اقتباس بھی شیئر کیے قارئین کے لیے۔ تو ایسی کتاب جو ہمیں پردے کے پیچھے رہنے والوں کے بارے میں، مصنف کے احباب ، گاؤں اور انکی پسندیدہ کتب اور خیالات سے روشناس کرے شیلف کی زینت بننے کے لائق نہیں؟
Profile Image for Annie Akram.
141 reviews9 followers
August 29, 2024
میں نے نا کبھی رؤف کلاسرا کا پروگرام دیکھا ہے نا کبھی انکے کالم وغیرہ پڑھے ہیں۔ لہذا امیرا ان سے تعارف اسی کتاب کے ذریعے ہوا ہے۔ یہ کتاب دراصل انکے غیر سیاسی کالموں کا مجموعہ ہے۔ اور یہ کالم بھی نہیں بلکہ عام لوگوں کی خاص کہانیاں ہیں۔

1۔ محنت کے بل پر قطرے سے سمندر بننے والوں کی کہانیاں
2۔ بے غرض محبت اور خلوص رکھنے والوں ،ور دلوں پر چھاپ چھوڑ جانے والوں کی کہانیاں۔
3۔ مجبور اور بے بس لوگوں کی بے کسی اور ارباب اختیار لوگوں کی بے حسی کی کہانیاں ۔
4۔ جواں مرگی، جدائیوں،اور شکستہ دلوں کی کہانیاں۔
5۔ یاداشتیں اور ناسٹلجیا ۔

عمدہ کتاب ہے۔ میں اسے ⭐⭐⭐ دوں گی
Profile Image for Rabail Baloch.
Author 1 book2 followers
February 3, 2021
Rauf Klasra is a well-known journalist who represents the Seraiki region of Pakistan. This book consists of articles/anecdotes based on his own life experiences. The book mostly reflects on the sufferings of ordinary people in Pakistan. There are accounts of author's early life, friendships and acquaintances as well. Overall, it is a book about Pakistan and its people. I found this book informative and thought-provoking.
Profile Image for Ghulam Qader.
15 reviews2 followers
January 8, 2021
گمنام گاؤں کا آخری مزار آج مکمل کی
ایک لازوال کتاب ہے ویسے تو رؤوف کلاسرا صاحب نے بھی کہا ہے کہ اس کتاب میں میں نے عام لوگوں کی کہانیاں لکھی یہ بالکل سچ ایسا ہی عام لوگوں کی کہانیاں عام لوگوں کے دکھ عام یادیں بچپن کے دن جب چھپ چھپ کر وی سی آر دیکھا کرتے تھے ایسی ہی بہت سی باتیں جو آپ کو پسند آئے گی۔
Profile Image for Hammad Bajwa.
52 reviews3 followers
April 27, 2021
کلاسرا صاحب اتنے اعلئ اینکر شائد ہوں یا نہ ہوں، لیکن ایک اچھے لکھاری ہیں۔ ان کی یہ کتاب انوکھی اور عام لوگوں پر مبنی حقیقی دکھ بھری داستانیں ہیں۔ اپنی مٹی سے پیار، اچھے دوستوں کی قدردانی، عام لوگوں کی کہانیاں بیت ہی احسن تریکے سے سنائی گئیں ہیں۔ یہ سب کردار ہم سب لوگوں کو زندگی کے ساتھی ہیں۔ بہت اعلئ کتاب، ضرور پڑھئے
1 review
April 23, 2024
کتاب کا سرورق دیکھ کر اداسی چھا جاتی یے۔ ویسے راؤف کلاسرا صاحب کو دیکھ کے لگتا نھی کہ اتنا ہنس مک بندہ اندر سے اتنا درد محسوس کرتا ہے،اپنی مٹی سے اپنے گاؤں سے جڑا ہوا انسان ہے جو ابھی تک اپنی مٹی کے ساتھ وفا نبھا رہا ہے دنیا میں کہیں بھی چلا جائے گا تو اپنی مٹی کو نہیں بھولے گا اپنے گاؤں کو نہیں بھولے گا کمال انسان ہے انسپریشن ہے۔
Profile Image for Hassaan Shabbir.
20 reviews
July 7, 2023
یہ کتاب بلکل ایک ناول جیسی ہے لیکن ناول نہیں ہے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہر ایک صفحے پر الگ رنگ ہیں الگ دکھ ہیں الگ دلچسپی ہے۔ لیکن یہ بہت کمال لکھائی ہے۔
Profile Image for Shumaila Khan.
10 reviews
Read
August 8, 2023
WRITINGS OF A SENSITIVE SOUL, ONLY THOSE CAN FEEL THE PULSE OF HIS SOUL WHO POSSESES THE SAME...
Displaying 1 - 14 of 14 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.