Jump to ratings and reviews
Rate this book

Shah Muhammad Ka Tanga / شاہ محمد کا ٹانگہ

Rate this book
اِس افسانوی مجموعے کی کہانیاں زندگی کی رونقیں اورایسے درد و غم ہیں جنھیں جمع کیا تو چودہ افسانوں کی کتاب مرتب ہو گئی۔ سچ پوچھیں تو مجھے افسانے اور کہانی کی مابعد اور جدید تنقید کے الف با کی خبر نہیں، مجھے نہیں معلوم یہ جدید افسانے ہیں یا کہانیاں ہیں یا یہ سب کچھ روایتی ہیں، مَیں تو اتنا جانتا ہوں یہ میرے دل سے نکلی ہوئی وہ داستانیں ہیں جنھیں مَیں نے خود زندگی کے چوراہوں پر جوان اور بوڑھی ہوتے دیکھا ہے اور اب دل کی بستیاں بسانے والوں کو دکھانے نکلا ہوں۔
اکثر شہری اور درسی نقادوں کو مجھ سے شکایت ہے کہ میری کہانیاں زیادہ تر دیہات کے پس منظر میں ہوتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہ یہ بات اپنے احساسِ کمتری کے باعث کرتے ہیں یا پھر اُنھیں کسی نے سکھا دیا ہے کہ دیہات میں انسان ربڑ کے بستے ہیں اس لیے اُن کی کہانیاں لکھنا عیب کی بات ہے اور شہری لوگوں کی کہانیاں لکھنا برتر کام ہے اور اعلیٰ درجے کا فعل ہے۔ مَیں نے اپنی زندگی جہاں بسر کی وہیں کی کہانیاں لکھتا ہوں۔ اب اگر مجھے شہر کی زندگی میسر ہے تو شاید آنے والے دنوں میں شہروں پر لکھوں مگر ایک بات بتائے دوں کہ میری نظر میں کہانی صرف کہانی ہوتی ہے اور کہانی وہ ہوتی ہے جس سے زندگی پھوٹتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ افسانوی مجموعہ ایسی کہانیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔ میری طرف سے گگن شاہد اور امر شاہد کو یہ کہانیاں چھاپنے پر مبارک باد اور بہت داد۔

علی اکبر ناطق

152 pages, Hardcover

Published October 1, 2020

Loading...
Loading...

About the author

Ali Akbar Natiq

17 books54 followers
Ali Akbar Natiq began working as a mason, specializing in domes and minarets, to contribute to the family income while he read widely in Urdu and Arabic. Acclaimed as one of the brightest stars in Pakistan's literary firmament, Natiq has published two volumes of poetry and one collection of short stories.

अली अकबर नातिक़ का जन्म 1976 में ओकारा, पाकिस्तान में हुआ था। मैट्रिक करने के बाद उन्होंने अपने परिवार के गुज़ारे के लिए एक राजमिस्त्री के रूप में काम करना शुरू किया और गुंबदों और मीनारों के माहिर मिस्त्री बन गए। उन्होंने उर्दू और अरबी साहित्य खूब पढ़ा और प्राइवेट से बीए की डिग्री हासिल की। उन्होंने उर्दू पत्रिकाओं में अपनी शुरुआती कहानियों और कविताओं के प्रकाशन के साथ ही साहित्य की दुनिया में अपना खास मुकाम बना लिया। उन्हें उर्दू में लिखने वाले बेहतरीन युवा लेखकों में से एक माना जाता है।

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
12 (33%)
4 stars
13 (36%)
3 stars
5 (13%)
2 stars
4 (11%)
1 star
2 (5%)
Displaying 1 - 6 of 6 reviews
Profile Image for Urdu Reviewer.
24 reviews13 followers
Read
April 2, 2019
تبصرہ نگار: عاصم کلیار
دوستو " شاہ محمد کا ٹانگہ " تھا مگر چابک سمیت باگیں علی اکبر ناطق نے سنبھال رکھی تھیں کم و بیش دو سو صفحات کی مختصر سی منزل کی مجھے تو ناطق نے یوں سیر کروائی کہ اک عالمِ رنگ و بو کا واقف حال کر دیا
شاہ محمد کا ٹانگہ پڑھنے کے بعد ایک بات تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ناطق قاری کو داستان طرازی میں ہرگز نہیں الجھاتا بس کچھ ہڈ بیتی اور کچھ جگ بیتی کو یوں بیان کرتا ہے کہ اس کے رنگ سخن کی داد دیۓ بیغر بندہ رہ نہیں سکتا اس کتاب کے اگر سب منظر ہمارے دیکھے بھالے نہیں تو کچھ کے تو ہم سب چشم دید گواہ ہیں
خدا لگتی بات کہیے گا کہ ابھی تو آپ اپنے گھر کی گلی بھی طے نہیں کر پاتے مگر چاند گاڑی یا چنچی کو سو سو صلواۃ سنانے کے بعد اسی میں ہی سوار ہو جاتے ہیں مگر علی اکبر ناطق نے چنچی کو خوش آمدید کہنے کی بجاۓ عہد رفتہ کو یاد کرتے ہوۓ نہ صرف شاہ محمد کے ٹانگے کا نوحہ لکھا ہے بلکہ اسی بہانے کیکروں کی چھاؤں میں نیم پختہ سڑک پر ساری عمر ٹانگے چلانے والے شاہ محمد کے ان خوابوں پر طنز کے پردے میں خوب آنسو بہاۓ ہیں جو پڑوسی ملک کی ایک آدھ فلم دیکھنے کے بعد ہم میں سے بھی کتنوں نے وہی خواب دیکھے ہوں گے یعنی بمبئ میں جوہو کا ساحل ہو فراٹے بھرتی کار ہو موسم بھی خوشگوار ہو اور ساتھ میں بس اب آگے کیا کہیں کہ آپ خود سمجھ دار ہیں
ابھی تو دھول میں اٹا ناطق شاہ محمد کے ٹانگے پر گاؤں میں داخل ہی نہیں ہوتا کہ چاچا آلٰہ دین ٹاہلی کے نیچے حقے کی نے منہ میں لۓ مجلس جماۓ خوش گپیوں میں مگن نظر آتا ہے صاحبوں اگر محلے کے حمام میں اخبار آتا ہو تو پھر خبر معمولی ہی کیوں نہ ہو وہ رائی سے پہاڑ کیسے بنتی ہے اس کی تفصیل بتانے کی کوئی ضرورت نہیں آلٰہ دین کی مجلس میں بھی شہر سے کوئی خبر کیا پہنچتی کہ بس پھر پورے گاؤں میں ہونٹوں نکلی اور کھوٹھوں چڑھی آلٰہ دین چلنے سے معذور مجلس آرائی تو اس کی ضرورت تھی چور آچُکے سب وہاں پہروں بیٹھتے اور ماضی کو یاد کر کے کبھی روتے اور کبھی ہنستے مگر گاؤں میں رہنے والے جانتے ہیں کہ صرف کمبخت ایک ناک کو اونچا رکھنے کے لۓ کئ نسلوں کو صبر کی روٹی کے ساتھ شکُر کے جھکڑوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے آلٰہ دین تپش سے جل مرا مگر بچوں کی ناک اونچی رکھنے کے لۓ کسی کو بھی چارپائی چھاؤں میں رکھنے کے لۓ اپنے اندر ہمت پیدا نہ کر سکا
گاؤں کی زندگی میں جانور ہمیشہ سے ایک مرکزی کردار کی حثیت رکھتے ہیں موسم بہار اور کت تو ایک بہانہ تھا بھلا شمشیر رفیق کے بیغر کیسے رہ سکتا تھا انسان نامی اشرف المخلوقات نے تو شمشیر کی مصمومیت سے فایدہ اٹھاتے ہوۓ اس کے ہاتھوں رفیق کے نا حق قتل کی پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی وہ تو بھلا ہو بختو کا کہ اس نے کتیا ہو کر آلٰہ قتل شمشیر کے ہاتھوں متوقع مقتول کے سپرد کروا دیا بلھے شاہ کوئی پاگل تھوڑی تھا جو سینکڑوں سال پہلی کہہ گیا
کہ تیھتوں اُتے کتے
بختو رفیق کی زندگی کی تو ضامن ثابت ہو گئ مگر گھاٹ گھاٹ کے پانی پینے والے جیرے جیسے شاطر آدمی کو یہ بات کیوں نہ سُوجھی کہ مودے شاہ کی گھوڑی اس کے لۓ جان لیوا ثابت ہو گی جب سے مملکت خداداد کے پانجوں دریا پڑوسی ملک کے دستِ قدرت میں ہیں مودے شاہ جیسے پیر کی کوئی کرامت کارگر نہیں ہوتی مگر سادہ لوح لوگ مودے شاہ کے بہکاوۓ میں آ کر جیرے کو ہمیشہ کے لۓ دریا کی پاٹ میں ذبح کر دیتے ہیں اور پیاسا دریا طغیانی میں کیا آتا وہ تو جیرے کا لہو پی کر بھی کالی ماتا کی طرح پھر بھی پیاسا رہا مودا شاہ تو سورج نکلنے سے پہلے یقینًا گھوڑی اور کرامات سمیت گاؤں سے کہیں اور کوچ کر گیا مگر جیرے کی لاش پر کوئی نوحہ خواں نہ تھا
اس کتاب میں ایک اور لاش کا بھی تو تذکرہ ہے ہم اس لاش کو تو فراموش کر سکتے ہیں مگر اس کے ساتھ ایک زندہ لاش انسپکٹر حمید سندھو کے کردار کو نہ تو بھولا جا سکتا ہے اور نہ ہی معاف کیا جا سکتا ہے بہادری کے تمغے سجانے والے حیوان صفت سندھو کی صورت میں ناطق نے محکمہ پولیس سے ہمارا تعارف کچھ اس طرح سے کروایا ہے کہ بے ساختہ طور پر انسان تھُو تھُو کرنے لگتا ہے سچی بات تو یہ ہے کہ اس طرح سلیقے سے بات کہنے کا فن ہر اہل قلم کے بس کی بات نہیں سیاہ ٹھپے میں ناطق نے اسی داستان ( یعنی محکمہ پولیس ) کے ایک اور رخُ کو دوسرے حوالے سے پیش کیا ہے
جعفر تھانیسری نے اپنی کتاب کالا پانی میں بیان کیا ہے کہ انگریز سرکار کالے پانی کی جیل میں بعض مجروں کے ما تھے پر ان کا جرم کالی روشنائی سے یوں کنندہ کروا دیتی کہ وہ تحریر کسی طور بھی مٹتی نہ تھی ناطق نے سیاہ ٹھپاہ میں اسی بات کو باور کروایا ہے کہ من تو ہمارے کب سے کالے تھے اب چہرے سمیت تن بھی کالے ہو چکے ہیں من کی صفائی کا ہم کو یارا نہیں مگر تن کو کسی طور " گرد " سے چمکانے کی تمنا میں ہم گنجے ہونے لگ ہیں
ناطق نے اپنے افسانے پاؤنڈ کے میں جو کہانی بیان کی ہے اب وہ شہر شہر کی نہیں بلکہ گھر گھر کی ہے بندوق پستول کی اب کیا کمی ہے مگر ان کی ضرورت نہیں رہی نکاح خواں اور گواہ اب کراۓ پر دستیاب ہیں اپ ادھر فون کیجیۓ ادھر وہ حاضر ہو جاتے ہیں مگر لڑکی جب آپ سے اگتا گئ اس وقت خلع کا اس کے لۓ زنجیر عدل کا کام کرتا ہے اور لڑکا نظریں جھکاۓ صرف عدالت کے چکر لگاتا رہتا ہے
ہم پاؤنڈ کے کے تذکرہ کو بس ادھر ہی چھوڑتے ہیں کیونکہ دلی کا مرقع دامنِ دل کو کھینچ رہا ہے جن لوگوں نے واقعاتِ دہلی یا فیض الدین دہلوی کی کتاب بزم آخر پڑھ رکھی وہ اس بات کی گواہی دیں گے اس بات میں شاعر نے تخیل سے ہرگز کام نہیں لیا بلکہ ایک حقیقت کو ہی بیان کرتے ہوۓ کہا تھا
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
درگا شاہ مرداں مہر ولی اور پھولوں کی سیر سے کون واقف نہیں گلی قاسم جان کے صدیوں پہلے مکینوں سے لوگ آج بھی واقفِ حال ہیں
اس افسانے میں جو میر صاحب کی غزل ہے وہ انہوں نے اپنے دوست کے مرنے پر کہی تھی مگر ناطق نے یہ کیا غضب کیا کہ اس غزل کو قاری کے لۓ دلی کا مرثیہ بنا دیا اسی غزل سے ایک شعر سنئیے
کبھو جاۓ گی جو ادھر صبا تو یہ کہیں اس سے بے وفا
مگر ایک میر شکستہ پا ، ترے باغِ تازہ میں خار تھا
پہلے تو صرف میر صاحب باغِ تازہ میں خار تھے مگر آج شیو سینا،بی جے پی اور جھاڑو پارٹی سمیت دلی نامی اس اجڑے باغ میں خود شکستہ پا ہونے کے باوجود خارِ تازہ کا درجہ رکھتے ہیں شہروں کی تہذیب کے زوال کے کئ اسباب ہیں شہروں کے اندر بسنے والے لوگ تو جوں توں کر کے رینگتے رہتے ہیں لیکن شہر مردہ بدست زندہ کا نقشہ پیش کرنے لگتے ہیں
مگر بنی نو انسان تو ابھی تہذیبی لحاظ سے تکمیل کے مراحل میں ہی تھا کہ زوال نے اس کو آن دبوچا یعنی آدم اپنے انسان ہونے پر ابھی ایمان ہی نہ لایا تھا کہ ایک لغزش نے اس کو مجرم قرار دے دیا آدم کی اس غلطی کا خمیازہ اس خانہ آب و گلِ کے تمام لوگ نسلوں سے بھگت رہے ہیں ناطق نے اپنے افسانے نسلیں میں اس ڈرامے کی ایک بھیانک قسط کا ارضِ وطن کے حوالے سے جو دلپذیر نقشہ کھینچا ہے اس کو پڑھ کر ایک لطیفہ یاد آ گیا
راقم الحروف کو فیصل آباد شہر میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا اس دوران ہم سب دوست یونیورسٹی کے ساتھ منا ٹی سٹال پر بیٹھتے تھے جہاں شہر بھر کے لوگ چاۓ اور سیگرٹ کے ساتھ گفتگو کے دوران دور دور کی کوڑیاں لاتے ایک روز ایک بزرگ دھوتی کے پلو سے عینک صاف کرتے ہوۓ کہنے لگے پاکستان نے میرے سامنے جنم لیا اس کی حالت ایک ست ماہے یعنی pre mature بچے کی طرح تھی پھر اس نے پاؤں میں کھڑا ہونا سیکھا کہ دور ایوب کا نزول شرو ہوا بھٹو کو بھی اس نے کسی طور پر برداشت کر لیا مگر " ضیاالیکی " کا دور اسے کھا گیا بس دوستوں میری نسل اسی ضیا الیکی کے دور میں ہونے والی لغزشوں کی سزا بھگت رہی ہے
ناطق نے یہ کتاب لکھ کر پورے معاشرے کو چوک میں لا کر ننگا کر دیا ہے اور اس نے کئی حوالوں سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ہم نہ صرف اپنے مجرم ہیں بلکہ انسانیت کے ساتھ ہمارا جو رویہ ہے اس سے ہم کو اپنا ہی منہ چھپانے کے لۓ شہرام کی سویٹر کی ضرورت ہے شہرام کی سویٹر سے ہم منہ تو چھپا سکتے ہیں مگر حاجی صاحب کے شربت کی بو سے بد تر ہمارے معاشرے سے اُٹھنے والے بو کے بھبھکوں کو روکنا تو شہرام کی سویٹر کے بس کا روگ نہیں
ناطق نے اس کتاب میں ہم کو نہ صرف مجرم ثابت کیا ہے بلکہ ہم ہی کو اپنی منصفی کے لۓ منتخب کیا ہے ناطق بھائی بے حد معذرت کے ساتھ ہم اچھے مجرم ہی نہیں بن سکے تو منصفی کی اُمید ہم سے کسی طور نہ رکھیۓ گا
اب ایک آدھ صاحب کتاب کے بارے میں کہ برسوں پہلےناطق کی نظم سفیر لیلیٰ نے کچھ یوں اسیر کیا کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے ناطق کو ڈھونڈ کر ملنے کا تہیہ کر لیا ہماری ملاقات ایک گرم سرمئی شام کو اسلام آباد میں ہوئی تھی اس کے بعد میرے اور ناطق کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہے کہ اس ہر کتاب کا مجھے انتظار رہتا ہے وہ اپنے کام کے حوالے سے میری تلخ راۓ کو سن کر صرف یہ کہتا ہے
واہ عاصم صاحب واہ
Profile Image for Bilal Amjad.
28 reviews1 follower
January 21, 2022
زمانوں کی سیر گری مقصود ہے تو یہ مجموعہ ایک بہتر انتخاب ہے۔ رنگ رنگ کے لوگ اور ان کے احوال۔ انداز بیان خوب اور آسان ہے۔ وہ تمام افراد جو جدید اردو میں پڑھنا چاہتے ہیں ضرور اس کو پسند کریں گے۔
Profile Image for Hassaan Shabbir.
20 reviews
July 7, 2023
بہت خوب افسانے ہر افسانہ انوکھا انداز اور کمال مہارت بیان بازی
Profile Image for Usama Tanoli.
25 reviews
April 6, 2024
شاہ محمد کا ٹانگہ
⭐️⭐️⭐️
علی اکبر ناطق میرے پسندیدہ مصنفین میں سے ایک ہیں اور ان کی بیشتر کتب کا مطالعہ کر چکا ہوں۔
یہ علی اکبر ناطق کی افسانوں کی دوسری کتاب ہے اس سے پہلے "قائم دین" شائع ہوئی اور مجھے وہ بہت پسند آئی
شاہ محمد کا ٹانگہ میں بھی کئی دلچسپ افسانے لکھے گئے ہیں لیکن کوئی زیادہ خاص نہیں لگا جو قائم دین میں لگے۔۔ قائم دین میں لکھے گئے افسانے زیادہ مزے دار اور دلچسپ تھے۔
لیکن بہرحال یہ کتاب بھی اچھی ہے اور وقت گزارنے کا ایک اچھا طریقہ ثابت ہو سکتی ہے۔
August 11, 2018
४ से ५ स्टार के बीच कहीं।

कुल मिलाकर पंद्रह कहानियों का संग्रह है। मूल कहानियां उर्दू में लिखी गई हैं और यहाँ हिंदी में अनुवादित हैं। बख़्तो गत पर आ गई, शरीका, शहाबू खलीफा का शक, कारीगर के हाथ, कायमदीन, शाह मोहम्मद का तांगा, मोमिनवाला का सफर ये सब कहानियाँ बेहतरीन हैं।

कहानियों की लेखन शैली से लगता है मानो प्रेमचंद ने तीखा पान चबा कर, ओ हेनरी का हाथ पकड़ पाकिस्तानी पंजाब के देहातों में दौड़ लगाई हो। कहानियों में वही प्रेमचंद सी सादगी है, मगर उसमे लेखक ने अपना तड़का छोंका है , वही ग्रामीण परिवेश, गांव के खेत, बरगद और पोपलर के पेड़ , चना और मक्के की फसल और खाट पर बैठ पर पी जाने वाली डेग भर लस्सी। कमोबेश हर कहानी के आखिरी खंड में एक घुमावदार झटका है जो पाठकों को कभी रोमांच, तो कभी आश्चर्य तो कभी दुःख से भर देता है।

विभाजन के बाद बने पाकिस्तान में पैदा हुए किसी लेखक की ये शायद मेरी दूसरी पुस्तक है। एक तरफ कहानियों के किरदार, उनके हालत, उनकी मनोवृति, उनकी भाषा, उनका पहनावा एक साझी विरासत की वजह से एक अपनेपन का एहसास दिलाती हैं वहीँ दूसरी तरफ उस दूषित विचारधारा को भी प्रस्तुत करती हैं जिस वजह से ये विभाजन संभव हुआ - धार्मिक असंहिष्णुता। इसमें लेखक की भी प्रशस्ति है कि उसने बिना लाग लपेट के सब किरदारों को खड़ा किया है - जैसे वे हैं अच्छे ये बुरे - इससे कोई मतलब नहीं - कहीं भी "पोलिटिकल करेक्टनेस" दिखाकर किरदारों को सीधा सपाट बनाने की कोशिश नहीं की। इस वजह से ये कहानियां विभाजन के बाद बने पाकिस्तानी मस्तिष्क में पल रहे विचारों का एक सटीक विवरण हैं - जो भले ही सुखद न हो मगर प्रामाणिक अवश्य है।
Displaying 1 - 6 of 6 reviews