وقت گزرنے کے ساتھ مولانا مودودی کی کتابوں اور اُن موجود علم کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ زمانہ بہت تیزی سے اُن خیالات سے پیچھے ہٹتا جا رہا ہے جو انسان کی جزوی زندگی میں جذبات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، چاہے وہ انفرادی سطح پر ہو یا ریاستی سطح پر۔ باقی مودودی کے اس خیال کہ کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں کہ خدائی ذات، حضورؐ، کتاب اور دیگر ایسے عقائد جس پر ایک مسلمان ایمان رکھتا ہے، اس پر تنقید اور سوال اٹھا سکے، عجیب سا لكتا هى ، اس لیے کہ اگر میں بطورِ مسلمان اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں موجود حالات میں ایسے سوالات پیدا ہوں جو میرے اپنے اسلامی عقائد کو چیلنج کرتے ہوں، تو اُن سوالوں کے جوابات دینے چاہیے نہ کہ یہ کہ مجھے سوال نہیں پوچھنے چاہئیں، یہ تو ایک انتہائی راسخ العقیدگی والی سوچ ہے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کے اثرات مشرقی دنیا خاص کر اسلامی دنیا پر اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اپنی پہچان کھو رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب موجودہ حالات میں اس قابل نہیں ہے کہ انسانیت کی بقا اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکے۔
اگرچہ میں مصنف کے کئی مفروضوں سے گہرے اختلاف کی نظر رکھتا ہوں، مگر یہ کتاب ہر اُس شخص کے لیے ایک ضروری مطالعہ ہے جو معاصر اسلامی فکر کی فکری بنیادوں—اور اس کی جدید دور کی حدود—کو سمجھنے کا خواہشمند ہے