Jump to ratings and reviews
Rate this book

Mazhab aur science

Rate this book

Unknown Binding

4 people are currently reading
29 people want to read

About the author

Wahiduddin Khan

310 books383 followers
Maulana Wahiduddin Khan is an Islamic spiritual scholar, who has adopted peace as the mission of his life. He was born in a family of landlords in 1925 at Badharia, a village near the town of Azamgarh, in the Indian state of Uttar Pradesh (formerly known as the Eastern United Provinces).

After his father’s death in December 1929 he was brought up by his mother, and his uncle, Sufi Abdul Hamid Khan, arranged for his education. He comments that becoming an orphan very early in life taught him that, to succeed in life, you have to take such situations as challenges and not as problems. Being an advocate of result-oriented and positive action, he explains that treating such situations as problems can only be negative in result. All you can do in this state is either try to fight to remove them or lodge complaints or protests against them. On the other hand, if you take such situations as challenges, you can positively and constructively work to overcome them yourself, as and when suitable opportunities present themselves. His success in life is largely due to the implementation of this and other such principles, which he has derived from Islamic scriptures.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
11 (57%)
4 stars
7 (36%)
3 stars
1 (5%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 8 of 8 reviews
Profile Image for Mahnoor Asif.
103 reviews59 followers
April 6, 2021
Maulana Sahab is a genius man.

The book is brief almost 94 pages in length. But discussing the most complex topic, science, and religion. Maulana Sahab starts the book with the concept of the basis of scientific theory. How a theory based on reasoning gets implemented. He then argues Bertrand Russell's views and pointed out his prejudice against religion. The author then went on to the details of the matter and how the scientist has invested a lot of their time in material things rather than the human body which is still unexplored. He also throws light over the concept of the big bang. Scientist argues the fact that religion should be proved if it exists but they forget that if they are considering the big bang as a source of everything then they should too prove it. Maulana Sahab concluded the book by saying that Science is just the explanation offered of the natural phenomenon but not on any ground science can make humans leave religion.
Profile Image for Ali Hassan.
447 reviews28 followers
May 1, 2021
If we concede that religion belongs to a domain, which lies outside the realms of logic, we must also grant that if its truth cannot be proved, then neither can its falsity.
This contradiction is not so much due to the fact that religion indeed belongs to a sphere in which scientific arguments cannot be applied to it, as to the fact that antagonists of religion do not want the same criterion, by which they have rejected religion, to be brought forward by religious people to affirm its truths. They should, in that case, be obliged to admit to the reasonableness of religion. They can be likened to a court in which the lawyer for the prosecution may perform his duties, but in which the accused may not engage the services of a lawyer to defend himself. The presence of the official lawyer shows that the government does agree in principle that to deal with a case, a lawyer is required, but when the culprit wishes to invoke the same principle, the government turns against him for fear that he may benefit from it.

"اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے۔ یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کی مانند ایک ہی سورۃ بنا لائو، اپنے سارے ہم نوائوں کو بلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کرکے دکھادو، لیکن تم ایسا نہیں کرسکتے اور یقینا کبھی نہیں کرسکتے۔‘‘
_____________________________________________________________________
A book that answers the questions raised by philosophers, scientists, and atheists on religion with logic and inference. Because, after all, as per science, we need to have empirical evidence to concede or reject an idea. This book explains the philosophy of religion and God with the same logical method a scientist adopts to prove his theory.
Profile Image for Dil Nawaz.
323 reviews17 followers
March 31, 2022
This is the 2nd book on Religion and Science Series by Maulana Wahid uddin Khan.

An eye opener for those youngsters or atheists who do not believe in Religion ( Islam ).

This book also available in English “ Religion and Islam “ by Maulana Wahid uddin Khan

Short to the point. Author shared many references from western philosophy books.

Few scientists believe in evolution and says that there is no God or religion. Everything is working as it is from evolution. They do not believe in souls. They only believe in physical body. Science is still young many things yet to be discovered.

Different things invented in different centuries. If you say someone 100 years ago that we can video call to anywhere in the world he will think that you are a crazy or a magician. But today everyone knows that it is possible.

Science still don’t know fully about human body and brain. Scientists say it is a complex system in a entire universe. They say human body is built on Golden Ratio. How anyone can make itself on Golden Ratio?


It is a Creation

Dil Nawaz
The Lion Studios
www.thelionstudios.com
www.instagram.com/thelionstudios
www.facebook.com/thelionstudios
whatsapp: +923472058390
Profile Image for Ahsan Iftikhar.
36 reviews10 followers
March 3, 2024
Mazhab Aur Science By Molana Wahid ud Din Khan

" مذہب کا جذبہ انسان کا فطری جذبہ ہے کسی طرح اس کو انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا "

🌟 اس کتاب میں بہت سے اہم سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں کئی سوالات جو مذہب ، خدا اور بھی بہت سی چیزوں کے متعلق ہیں ۔ یہ Review دوسرے Reviews کی نسبت تھوڑا تفصلی ہوگا کیونکہ میں نے اس کتاب کے ہر باب پر مختصراً لکھا ہے ۔ تفصیل سے جوابات آپ کو کتاب میں مل جائیں گے ان شاءاللہ

🌟 طریق استدلال کا مسئلہ:
کیا مذہب ثابت نہیں کیا جاسکتا ؟ مولانا نے کیا خوب طریقے سے اس سوال کا جواب دیا ہے ایک جگہ مولانا لکھتے ہیں کہ " اگر مذہب ایک ایسے دائرے کی چیز ہے جس کو دوسرے شخص کے سامنے ثابت نہیں کیا جاسکتا تو جس طرح اس کا ثابت کرنا نا ممکن ہے اسی طرح اس کا رد کرنا بھی نا ممکن ہونا چاہیے "
مولانا اس بات پہ بارہا سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مشاہد کرنے والوں کا مشاہدہ اس قدر مکمل ہوگیا ہے کہ وہ جان گئے ہیں کہ فی لواقع مذہب کوئی چیز نہیں ہے ؟
🌟 اسی طرح مولانا صاحب ڈارون کی تھیوری پر بھی اپنا اظہار خیال کرتے ہیں اور ان میں سوالات کے بھی بہت متاثر کن جوابات دیتے ہیں ۔ اسی حوالے سے مولانا لکھتے ہیں کہ علماء ارتقا کیلئے نظریہ ارتقاء تو یقینی ہے مگر ابھی تک سبب ارتقاء لا معلوم کیوں ہے ؟

🌟 برٹرینڈ رسل کے خیالات :
برٹرینڈ رسل کے خیالات پر بھی خان صاحب نے کمال وضاحت کی ہے ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ " حقیقت کا ظاہری ڈھانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں مگر اندرونی صداقت سے براہِ راست طور پر واقف ہونا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے "لیکن رسل نے بھی تشکیک ( شک یا Skepticism ) کا بھی انکار کیا اور مذہب کا بھی ۔
یہ کتاب میری لیے ابھی تک کی سب سے مشکل کتاب ثابت ہوئی ( یہ لائن میں اوپر لکھنے والا تھا لیکن اس لیے نہیں لکھی کہ کوئی صرف یہ لائن پڑھ کر ہی اس کتاب سے دور نہ چلا جائے ) ، مگر یہ کتاب ضرور ضرور پڑھنی چاہیے ، بس مولانا کی گاڑھی اردو نے مجھے بار بار الفاظ کے معانی دیکھنے پر مجبور کیا ہے ۔ چلیں اب اگلے باب پر چلتے ہیں

🌟 کائنات کی مشینی تعبیر :
سائنسدانوں نے اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ کائنات مشین کی طرح کام کر رہی ہے یعنی یہ چل پڑی اور بغیر کسی کی مدد کے چلتی جا رہی ہے ۔ مگر یہ بھی زیادہ دیر ثابت نہ ہو سکا ۔ ہم یہ ثابت نہ کر سکے کہ ریڈیم کے الیکٹرون ٹوٹتے کیوں ہیں ؟ ہمیں نیند کیوں آتی ہے ؟ مقناطیس کیوں لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے ؟ اگر واقعی کوئی قوت نہیں ہے جو کائنات کو چلا رہی ہے تو یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اس کے جواب میں بھی کائنات کو مشین کہنے والے خاموش ہیں ۔۔۔

🌟 کچھ نئی حقیقتیں :
اگلے باب میں مولانا روح اور موت کے بعد والی زندگی کے بارے میں بہت اچھے سے سمجھاتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ کیسے مغرب نے موت کے بعد کی زندگی پر کتنی ریسرچ کی اور وہ ماننے کو تیار ہوگئے کہ موت کے بعد کوئی زندگی تو ہے لیکن انہوں نے اس میں مذہبی عنصر سے پرہیز کیا جبکہ اگر موت کے بعد زندگی ہے تو وہ مذہب کے بغیر تو ممکن نہیں ۔ نفسیات اور فلسفے کے بڑے ناموں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ موت کے بعد کچھ بھی نہیں ہے ۔۔
روح کے بارے میں بھی مولانا نے بہت اچھے سے وضاحت کی ہے ۔ ذہن میں شعور اور لا شعور حصے ہوتے ہیں ۔ اگر ہم سمجھتے ہیں روح جسم سے الگ کوئی چیز نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ لاشعور وقت کا پابند نہیں ۔ یعنی کچھ تو ہے جو وقت اور فاصلے سے جدا ہے جبکہ ہمارا جسم تو یقیناً وقت اور فاصلے کا پابند ہے

🌟 مذہب اور سائنس:
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں سائنسدانوں ںے یہ ثابت کرنا شروع کر دیا ہے کہ زمین مختلف قوانین کے تحت جڑی ہے اسے کسی خدا کی ضرورت نہیں اسی وجہ سے اس دور کے کچھ لوگوں نے اور فلسفیوں نے خدا سے انکاری کی راہ اختیار کی ۔ وہ یہ ماننے لگے کہ ہر چیز قانون کے تحت ہورہی ہے بھلے نیوٹن کے لا ہوں یا ڈارون کی تھیوری یا Law of Nature سب میں قوانین کے تحت کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے ۔ اور یہ کہ یہ سب خدا کے تحت نہیں ہورہا لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس سب کا آخری سبب کیا ہے؟ یعنی کچھ لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ مشین کے پرزے خود با خود جڑ گئے اور پیٹرول خود با خود مشین تک میسر ہوگیا ؟ واہ یہ کہاں کی عقلی منطق ہے؟ سائنس صرف ڈھانچے کا علم دیتی ہے ہم نہیں جانتے یہ قانون جو سائنس نے دیا کب کہا جائے کہ یہ غلط ہے اور یہ بھی کہ آخری اسباب کیا ہیں ؟ ایسا ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے؟ اس سب کی آخری وجہ کیا ہے ؟

🌟 انسان، جس کو سائنس دریافت نہ کر سکی :
یہ باب بھی بہت اہم باب ہے اس میں ہم یہ جانتے ہیں کہ سائنس انسان کو دریافت نہ کر سکی یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ انسان انسان کو دریافت نہ کر سکا ۔ ہم ظاہری لحاظ سے میڈیکل اور کچھ سائیکولوجی کی مدد سے انسان کے خدوخال کے بارے میں تو جان سکتے ہیں مگر ہم یہ نہیں جان سکتے کہ اتنی ترقی کے بعد بھی ہم انسان کو مصنوعی خوشی کیوں نہیں دے سکے ؟ ہم نہیں جانتے کہ انسان جن عناصر سے مل کر بنا ہے ہم ان عناصر سے انسان کو دوبارا کیوں نہیں بنا سکتے ؟انسان کی تکلیف انسان کی مجبوری یہ انسان سے الگ کیوں نہیں ہو سکتی ؟ ایک جگہ مولانا لکھتے ہیں کہ" انسانی وجود کے مادی حصہ کے بارے میں تو ہم بہت کچھ جانتے ہیں مگر وہ انسان جو اس مادی وجود کو کنٹرول کرتا ہے اس سے ہم قطعاً لاعلم ہیں " لوگوں نے زندگی کے راز کو مادی علوم میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے مگر جتنے بھی علوم مل جائیں پھر بھی زندگی کا راز کے بارے میں نہیں جان سکتے ۔ انسان حقیقت کے راز جاننے کیلئے خدا کا محتاج ہے اور خدا نے اس حقیقت کو نبیوں کے ذریعے واضح فرمایا ۔

🌟 دور جدید کا مذہب اور جائزہ :
یہ دو ابواب ہیں پہلے میں ایک ایسے نقطہ نظر کے بارے میں ذکر ہے جو مختلف لوگوں نے دیا ہے کہ کیسے انسان نے مادی طور پر ترقی کی مگر احساسات ، خیال ، فکر اور مختلف انسانی ایسے حصوں کی جسے ہم چھو نہیں سکتے اس پر تحقیق بہت کم کی ہے ۔۔
لیکن دوسرے باب میں مولانا اسے بہت اچھے سے سمجھاتے ہیں کہ انسان میں مادی علوم اور انسانی علوم ہیں انسان ، انسانی علوم کو ویسے سمجھ ہی نہیں سکتا جیسے مادی علوم کو سمجھ سکتا ہے یہ بالکل نا ممکن ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں ایک جو مجھے بہت متاثر کی وہ یہ ہے کہ " انسان صاحب ارادہ مخلوق ہے " انسان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ہر لمحے تبدیلی کی طرف جاتا ہے
اسی باب میں ایک اور بات جس پر میں ذرا مشکل میں تھا کیونکہ مجھے اک عرصے سے اسکا جواب نہیں مل رہا تھا وہ یہ تھی کہ انسان میں ذہنی بیماریاں ہوتی ہیں جیسے کوئی جرم کرتا ہے تو اسکے پیچھے بھی کوئی وجہ بتائی جاتی ہے مگر مولانا یہاں بیان کرتے ہیں کہ بالکل اسباب تو ہوتے ہیں مگر اصلی سبب " فیصلہ " ہے
" جرم ایک ارادی واقعہ ہے اور بیماری ایک مادی واقعہ "
انسان ، انسانی علوم کی طرف بھاگ تو رہا ہے مگر ناکامی اس کے مقدر میں آرہی ہے یہی وہ وقت ہے جب اسے خدا کی رہنمائی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے مگر انسان خود اس رہنمائی کی طرف نہیں جا رہا

🌟 مذہب کی ملحدانہ تشریح اور تبصرہ :
یہ کتاب کے آخری دو باب ہیں پہلے باب میں مخلتف لوگوں نے مذہب کو تخلیاتی اور فرضی چیز بیان کیا گیا ہے
دوسرے باب میں مولانا اسکا جواب بہت تفصیل سے دیتے ہیں مگر ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ بالکل فرضی چیز انسانی تاریخ پر چھا جائے ؟ کیا دوسری کوئی ایسی چیز ہے جو " غیر حقیقی" ہو لیکن انسانی نفسیات پر اتنی اثر انداز ہو ؟ بالکل بھی نہیں یہ مذہب ہی ہے جو انسان کو اپنے اندر سے محسوس ہوتا آرہا ہے ۔
اس باب میں تصور مذہب اور حقیقت مذہب پر بھی بات ہوئی ہے کہ تصور مذہب اگر تو انسان کا اپنا ذہنی عمل ہے تو وہ تو ہر انسان کے مزاج کے حساب سے الگ الگ ہوگا لیکن حقیقت مذہب یہ ہے کہ مذہب کا حکم الٰہی ہوںا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک متعین شکل میں ہوتا ہے اس کی بنیاد پر ہی ہر شخص کے رویئے کا صحیح اور غلط کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ ایسا مذہب جو انسان کے ذہن اور نفسیات کا کرشمہ ہو وہ یقیناً لا الہٰ الاللہ کے کلمہ کے تحت نہیں بن سکتا ۔ یہ کوئی فکر تو ہوسکتی ہے مذہب نہیں ۔۔۔

🌟 میں نے کوشش کی کہ میں تمام ابواب پر لکھ مختصراً لکھوں تاکہ اگر کوئی کتاب فالحال نہیں پڑھ پاتا تو وہ جان سکے اس کتاب میں ہے کیا ۔ اور یہ باتیں میرے لیے اس کتاب کے نوٹس کے طور پر بھی کام آئیں گی ۔ اس چھوٹی سی کتاب کو پڑھنے میں مجھے چار دن لگے ۔ یہ 95 اوراق کی کتاب اپنے اندر 36 کتابوں کے References لیے بیٹھی ہے اس سے ہی اس کتاب کی ریسرچ اندازہ ہوتا ہے ۔۔۔ یہ کتاب ضرور پڑھیں مولانا وحید الدین خان مرحوم نے اس کتاب میں جو لکھ دیا ہے وہ آنے والی نسلوں کے بہت کام آئے گا۔ مولانا نے مذہب اور سائنس کے درمیان تعلق پر کچھ پیچیدہ سوالات کے جوابات بہت خوبصورتی سے بیان کیے ہیں۔ خدا ان کو اس سب کا اجر دے آمین یا رب العالمین ۔۔
بس اتنا ہی
@_qalb_e_momin
امید ہے آپ مجھے جانتے ہونگے


2nd Comment :
ایک جگہ مولانا لکھتے ہیں کہ" انسانی وجود کے مادی حصہ کے بارے میں تو ہم بہت کچھ جانتے ہیں مگر وہ انسان جو اس مادی وجود کو کنٹرول کرتا ہے اس سے ہم قطعاً لاعلم ہیں " لوگوں نے زندگی کے راز کو مادی علوم میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے مگر جتنے بھی علوم مل جائیں پھر بھی زندگی کا راز کے بارے میں نہیں جان سکتے ۔ انسان حقیقت کے راز جاننے کیلئے خدا کا محتاج ہے اور خدا نے اس حقیقت کو نبیوں کے ذریعے واضح فرمایا ۔

🌟 دور جدید کا مذہب اور جائزہ :
یہ دو ابواب ہیں پہلے میں ایک ایسے نقطہ نظر کے بارے میں ذکر ہے جو مختلف لوگوں نے دیا ہے کہ کیسے انسان نے مادی طور پر ترقی کی مگر احساسات ، خیال ، فکر اور مختلف انسانی ایسے حصوں کی جسے ہم چھو نہیں سکتے اس پر تحقیق بہت کم کی ہے ۔۔
لیکن دوسرے باب میں مولانا اسے بہت اچھے سے سمجھاتے ہیں کہ انسان میں مادی علوم اور انسانی علوم ہیں انسان ، انسانی علوم کو ویسے سمجھ ہی نہیں سکتا جیسے مادی علوم کو سمجھ سکتا ہے یہ بالکل نا ممکن ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں ایک جو مجھے بہت متاثر کی وہ یہ ہے کہ " انسان صاحب ارادہ مخلوق ہے " انسان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ہر لمحے تبدیلی کی طرف جاتا ہے
اسی باب میں ایک اور بات جس پر میں ذرا مشکل میں تھا کیونکہ مجھے اک عرصے سے اسکا جواب نہیں مل رہا تھا وہ یہ تھی کہ انسان میں ذہنی بیماریاں ہوتی ہیں جیسے کوئی جرم کرتا ہے تو اسکے پیچھے بھی کوئی وجہ بتائی جاتی ہے مگر مولانا یہاں بیان کرتے ہیں کہ بالکل اسباب تو ہوتے ہیں مگر اصلی سبب " فیصلہ " ہے
" جرم ایک ارادی واقعہ ہے اور بیماری ایک مادی واقعہ "
انسان ، انسانی علوم کی طرف بھاگ تو رہا ہے مگر ناکامی اس کے مقدر میں آرہی ہے یہی وہ وقت ہے جب اسے خدا کی رہنمائی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے مگر انسان خود اس رہنمائی کی طرف نہیں جا رہا

🌟 مذہب کی ملحدانہ تشریح اور تبصرہ :
یہ کتاب کے آخری دو باب ہیں پہلے باب میں مخلتف لوگوں نے مذہب کو تخلیاتی اور فرضی چیز بیان کیا گیا ہے
دوسرے باب میں مولانا اسکا جواب بہت تفصیل سے دیتے ہیں مگر ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ بالکل فرضی چیز انسانی تاریخ پر چھا جائے ؟ کیا دوسری کوئی ایسی چیز ہے جو " غیر حقیقی" ہو لیکن انسانی نفسیات پر اتنی اثر انداز ہو ؟ بالکل بھی نہیں یہ مذہب ہی ہے جو انسان کو اپنے اندر سے محسوس ہوتا آرہا ہے ۔
اس باب میں تصور مذہب اور حقیقت مذہب پر بھی بات ہوئی ہے کہ تصور مذہب اگر تو انسان کا اپنا ذہنی عمل ہے تو وہ تو ہر انسان کے مزاج کے حساب سے الگ الگ ہوگا لیکن حقیقت مذہب یہ ہے کہ مذہب کا حکم الٰہی ہوںا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک متعین شکل میں ہوتا ہے اس کی بنیاد پر ہی ہر شخص کے رویئے کا صحیح اور غلط کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ ایسا مذہب جو انسان کے ذہن اور نفسیات کا کرشمہ ہو وہ یقیناً لا الہٰ الاللہ کے کلمہ کے تحت نہیں بن سکتا ۔ یہ کوئی فکر تو ہوسکتی ہے مذہب نہیں ۔۔۔

🌟 میں نے کوشش کی کہ میں تمام ابواب پر لکھ مختصراً لکھوں تاکہ اگر کوئی کتاب فالحال نہیں پڑھ پاتا تو وہ جان سکے اس کتاب میں ہے کیا ۔ اور یہ باتیں میرے لیے اس کتاب کے نوٹس کے طور پر بھی کام آئیں گی ۔ اس چھوٹی سی کتاب کو پڑھنے میں مجھے چار دن لگے ۔ یہ 95 اوراق کی کتاب اپنے اندر 36 کتابوں کے References لیے بیٹھی ہے اس سے ہی اس کتاب کی ریسرچ اندازہ ہوتا ہے ۔۔۔ یہ کتاب ضرور پڑھیں مولانا وحید الدین خان مرحوم نے اس کتاب میں جو لکھ دیا ہے وہ آنے والی نسلوں کے بہت کام آئے گا۔ مولانا نے مذہب اور سائنس کے درمیان تعلق پر کچھ پیچیدہ سوالات کے جوابات بہت خوبصورتی سے بیان کیے ہیں۔ خدا ان کو اس سب کا اجر دے آمین یا رب العالمین ۔۔
بس اتنا ہی
احسن افتخار
امید ہے آپ مجھے جانتے ہونگے
12 reviews1 follower
April 24, 2023
The author starts by describing 4 types of argumentation that science employs for reaching conclusions. The last one discusses the possibility where you can't directly see the phenomenon or its direct effects, but can hypothesize/theorize about its existence by explaining natural facts in light of that theory, so that the theory is the most likely true explanation of some natural phenomena. Science also considers this as reasonable evidence, and uses it to think of Evolution as a credible scientific theory. Maulana sb goes on to show that you can justify religion using this same logic of argumentation. You don't SEE God, but you also don't SEE evolution being happened. You reason about natural facts to conclude that both God and Evolution exist.

Overall, the argumentation of book is philosophical, logical and strong. The author cites multiple leading intellectuals such as Russell, Miles and Toynbee to discuss or critique their viewpoints. The chapter on Russell's opinions is quite insightful. Maulana sb is clearly well informed on the topic of modern science as he correctly cites examples of scientific phenomena where the traditional cause and effect paradigm breaks, such as nuclear disintegration, theory of relativity and quantum physics.

I really enjoyed this short book. On some points, I didn't find his logic to be totally convincing, but overall I found the book to be very rational. Though sometimes, I really wished he would have expanded the view more extensively.

Whoever is interested in science, philosophy, religion, and the interplay of these fascinating topics, should definitely read this one! It doesn't go a lot in the rigorous details but it's a good introductory book, hence easy to understand.
Profile Image for Muhammad Mehdi.
15 reviews
September 30, 2021
Worth reading book by genius writer having true understanding of religion and its relationship with science. Actually he tried to explore the reason on the basis of which modern science has challenged the religious concepts or doctrine and proved that ultimately science can't negate the religion completely in its true sense but as a result it tried to shape another religion for his own satisfaction which is not even compatible to actual religious doctrine.
Profile Image for Qasim Bin Ali.
45 reviews
September 21, 2025
This booklet is a compilation of essays written by author. The writer tries to bridge the chasm between the religion (Islam) and modern science. The writer makes a compelling case for his hypothesis: Islam (religion) is strengthened by science, rather than being supplanted by it.
Displaying 1 - 8 of 8 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.