ستار طاہر اُردو کے اہم محقق، مترجم ، مدیر ، صحافی اور ڈھائی سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف، مؤلف اور مترجم تھے۔ ان میں سے سو کے قریب کتابیں بچوں کے لیے لکھیں۔ ستار طاہر یکم مئی 1940ء کو ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے۔ خاندان لائل پور منتقل ہوگیا تو بی اے تک تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ 1959ء میں صحافت کا آغاز کیا۔ ابن فتح، س ط اور ابو عدیل جیسے مختلف قلمی ناموں سے بھی لکھا۔ ماہنامہ کتاب، ماہنامہ معلومات، ویمن ڈائجسٹ، ہفت روزہ ممتاز، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت، اُردو ڈائجسٹ، سپوتنک، قافلہ اور قومی ڈائجسٹ میں ادارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ سیاسیات، ادب، فنونِ لطیفہ، عمرانیات، فلم غرض ہر موضوع پر لکھا۔ ستار طاہر جمہوریت پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ضیاالحق کے مارشل لا کے زمانے میں جو کچھ انہوں نے لکھا، اس کی بہت کم لوگوں کو ہمت ہوئی۔ اس پر انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ پندرہ روزہ ’’قافلہ‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف کئی یادگار تحریریں لکھیں جو قافلہ کے خصوصی نمبروں کی صورت میں شائع ہوئیں۔ بعد ازاں یہ کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں۔ ان میں زندہ بھٹو مردہ بھٹو، سورج بکف و شب گزیدہ، اورمارشل لاء کا وائٹ پیپر خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ستار طاہر کو بعد از وفات صدرِ پاکستان نے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے جمہوریت ایوارڈ دیا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے بچوں کے ادب میں کنٹری بیوشن کے اعتراف میں نشانِ اعزاز دیا۔ انھوں نے کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں جن میں ’’وعدے کی زنجیر‘‘، ’’انسان اور گدھا‘‘ اور ’’میرا نام ہے محبّت‘‘ شامل ہیں۔ ستار طاہر کی قلم کی یہ مزدوری 1993ء میں عیدالفطر کے دن تک جاری رہی۔ جب آخری سانس لیا، اس دن مارچ کی 25 تاریخ تھی۔