Jump to ratings and reviews
Rate this book

چلتا پرزہ

Rate this book
A translation of the 16th century Spanish novel called Lazarillo de Tormes by an anonymous author

75 pages, Unknown Binding

11 people want to read

About the author

Muhammad Saleem ur Rehman

26 books8 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
8 (61%)
4 stars
1 (7%)
3 stars
4 (30%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 6 of 6 reviews
Profile Image for Osama Siddique.
Author 10 books353 followers
September 2, 2022
Chalta Purza is a brilliant Urdu translation of the pioneering picaresque novel given to us by 16th century Spain - Lazarillo de Tormes. Lazarillo hails from Salamanca, receives indifferent parenting and facing abject poverty is forced to eke out an existence as an apprentice first to a blind beggar, then a stingy priest, a squire living in self-imposed exile, a friar, a fraudulent pardoner, a chaplain and eventually a lascivious arch priest. Consistent through all these engagements is the avarice, deception and tight-fisted nature of all these employers that causes poor Lazarillo to suffer and starve. As a result the poor boy goes to great lengths to outsmart his exploitative masters in order to steal and pilfer to fill his belly. In the process he makes observations and creates situations of great humor and levity.

A serious critique and satire of the Catholic Church, Spanish upper classes and social attitudes towards the poor, migrants and vagrants, this is a significant books for not just its style but also its politics and themes. It documents social maltreatment and also exposes the priests and friars making a rich living out of exploiting trusting believers - one particularly scathing episode deals with a cleric selling indulgences from the Church. As a result the book was plucked out for prohibition by the Inquisition; it was published anonymously in any case, envisioning such a clampdown. From a stylistic point of view it was a departure from the fantastical literature written earlier in highfalutin language that never lowered its gaze to ordinary people and their predicaments. It served as an inspiration also for the masterly Don Quixote that was to come later and has retained its popularity through the centuries.

This of course is an Urdu translation by one of the grandmasters of translation Saleem ur Rehman sahib and it is simply delightful. His astoundingly vast vocabulary captures every nuance, sentiment and object, and it was a marvel to discover so may new words. Some of the translations are hilarious - Holy Toledo translated into Toledo Shareef تولیدو شریف (as sacred cities in our part of the world have that suffix added; especially poignant as its inhabitants are depicted as uncharitable). Similarly a highly agitated priest on the look out at night for a thief stealing his bread is called Bambo Bhutna بھمبو بھتنا which so well captures his manic state of mind. Like any good translation this too pursue authenticity and accuracy but at the same time reimagines the book in the idiom of the language it translates into, so that it doesn't sound artificial and forced. The flair and versatility of Urdu is channeled to recreate the flow and wit of the original. A must read.

Profile Image for Rizwan Mehmood.
175 reviews10 followers
March 31, 2024
چلتا پرزہ سولہویں صدی سپین کا پہلا پکاریسک ناول شمار ہوتا ہے۔ پکاریسک ناول سماج کے نچلے طبقے سے رکھنے والے شریر لیکن سمجھ دار لڑکے کی ایڈونچرز پر مشتمل ایک کہانی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ایک کرپٹ معاشرے میں زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ اس طرح کے ناولز پر عموماً پلاٹ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ مختلف چھوٹے چھوٹے واقعات کو ملا کر ایک کہانی بنا دی جاتی ہے۔ معاشرے کے خامیوں اور افراد پر طنز ہوتا ہے۔ لیکن اصل میں برائی کی نشاندہی کر کے اصلاح مقصد ہوتا ہے۔

لاثاریو اس ناول کا ایسا ہی شرارتی کردار ہے۔ بچپن سے اس کو مختلف قسم کا گھرانا ملا۔ غربت کی وجہ سے چھوٹی عمر میں گھر سے نکلا اور مختلف لوگوں کے ساتھ ملازم کے طور پر وقت گزارا۔ ان کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں چھوٹے موٹے جرائم کا مرتکب ہوا۔ سنگین قسم کے جرم میں تو ملوث نہیں ہوا لیکن زندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس معلوم ہے کہ اس کو بچانے والا کوئی نہیں۔ وہ یا تو دھوکا کھا سکتا ہے یا دھوکا دے سکتا ہے۔ بہتری اسی میں ہے دوسروں کو دھوکا دے کر گزارا کیا جائے۔

سلیم الرحمٰن صاحب نے اس ناول کا بہت ہی خوبصورت ترجمہ کیا ہے۔ اس ناول میں کا اردو ترجمہ اتنا رواں اور بامحاورہ ہے کہ گمان ہے نہیں ہوتا کہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مختصر سا ناول ہے۔ سو سے بھی کم صفحات ہیں۔ ایک ہی نشست میں ختم کر سکتے ہیں۔ بہت اچھا ناول ہے۔
Profile Image for Waqas Manzoor.
48 reviews2 followers
April 11, 2023
The beauty of Saleem sb's translations is you will never feel that its a translation. He translates so perfectly that you'll always be at aww. No doubt he picks some of the best works to translate into Urdu.
Profile Image for Ahsan Iftikhar.
37 reviews10 followers
March 3, 2024
Chalta Purza

🌟 کچھ مہینے پہلے لاہور گلبرگ سے گزرتے ہوئے Readings جانے کا اتفاق ہوا یہ ایک کتاب گھر ہے لیکن ساتھ ہی لائبریری بھی ہے آپ وہیں بیٹھ کر پڑھ بھی سکتے ہیں ۔ وہاں پہنچے تو اردو کتابیں اتنی ہی تھیں جتنے فجر کے وقت مسجد میں لوگ ہوتے ہیں
خیر یہ بھی الگ دکھ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ لوگ اردو زیادہ پڑھنا نہیں چاہتے تو ہم رکھتے نہیں ۔ یہ اور دکھ ۔
اسی دکھ میں آوارہ گردی کرتے کرتے ہم ایک نا معلوم لکھاری کی کتاب تک جا پہنچے پہلی بار کوئی ایسی کتاب ملی جس کے لکھاری کا کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔
🌟 یہ ایک ہسپانوی یعنی کے سپین کا ناول ہے جو کہ آج سے تقریباً پانچ صدیوں پہلے لکھا گیا تھا کہانی اتنی پر اثر تھی کہ زبانوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ شائع ہوتا رہا کہانی کا مرکزی کردار ایک لڑکا یعنی کہ " لاثار لیودے تورمیس " ہے جو زمانے کی مکاریوں کے ساتھ بہتا بہتا بڑا ہو رہا ہے ۔ جو واقعی معصومیت کا لبادہ اوڑھے چلتا پرزہ ہے

🌟 یہ ناول اس وقت کے یورپ اور دنیا کی عکاسی کرتا ہے جہالت کے عروج پر ہونے کی نشانی اس ناول میں خوب ملتی ہے ۔ پادری جو اس وقت ملکوں کو کنٹرول کرتے تھے ان کے بارے میں بھی بڑی وضاحت اور طنز سے لکھا گیا ہے
یہ چلتا پھرتا پرزہ بچہ کیسے اپنے گھر سے گاؤں سے نکلتا ہے پھر ایک مالک سے دوسرے تک کیسے پہنچتا ہے یہ بھی انتہائی دلچسپ اور مزے کی کہانی ہے جو کہ آپ کتاب میں پڑھیں گے

🌟 ایک بات ہے کہ بڑے ناول کی ایک یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ وہ ہر زمانے میں ایسے لگتا ہے جیسے کہ آج کیلئے لکھا گیا ہو ۔ اور مجھے یہ پڑھ کر یہی محسوس ہوا ۔ یوں لگا یہ تو اپنے جعلی پیروں فقیروں اور لوگوں کی بات ہورہی ہے ۔ وہی ظلم زیادتی دھوکہ دھڑی وہی مکاری اب بھی ویسی ہی تو ہے اب بھی تو آنکھ چھپکنے سے پہلے لوگ جھوٹی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں اب بھی تو لوگ جعلی پادریوں اور ملاؤں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں

🌟 میں نے اردو ترجمے والی زیادہ کتابیں تو نہیں پڑھیں مگر محمد سلیم الرحمٰن نے جو ترجمہ کیا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے ۔ یہ چھوٹا سا ناول ایک نشست میں ختم کیا جا سکتا ہے
74 صفحات پر مشتمل 150 روپے کا یہ خوبصورت ناول واقعی پڑھنے کا حق رکھتا ہے ۔۔۔
اچھی کتابیں پڑھتے رہیں اور ہزاروں زندگیاں جئیں ۔
بس اتنا ہی ،مجھے اجازت
احسن افتخار
امید ہے آپ مجھے جانتے ہونگے
Profile Image for Saba.
32 reviews
December 31, 2024
منافقت کی گھٹی سے پروان چڑھنے والے معاشروں میں موجود افراد مکاری کے لباس زیب تن کیے پھرتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار بھی چھوٹا سہ ہی مگر مکار شخص ہے۔ سولھویں صدی میں جنم لینے والی اس کہانی نے سرحدوں کو پار کرکے خود کو مختلف زبانوں میں ڈھال لیا۔ ماضی کے دھندلکے اس تحریر کے مصنف کو بھی بھلا بیٹھے مگر کہانی آج بھی کئی کتاب دوست انسانوں کے ہاتھوں میں دھڑکتی نظر آتی ہے۔۔۔۔۔

مشہور ہسپانوی ناول میں مصنف کے لیے وہ تمام انسان "چلتا پرزہ" کہلانے کے لائق ہیں جو حسب ضرورت عیاری سیکھ چکے ہوں۔ جو پیٹ کی بھوک سے زیادہ نفس کی بھوک سے عاجز ہوں اور بھرے پیٹ بھی مزید کی چاہ میں مارے مارے پھریں۔ ناول کا مرکزی کردار بھی ایک ایسا ہی لڑکا ہے جو غلام بن کر کئی مالکوں سے ملتا ہوا بڑی عمدگی سے معاشرے میں موجود انسانوں کی اقسام کی تصویر کشی کرتا نظر آتا ہے۔ جن میں کچھ کو روپیہ جوڑ کر رکھنے نے فقیرانہ زندگی کا باسی بنایا ہوا ہے اور کچھ کو دکھاوے کی زندگی نے در بدر کیا ہوا ہے۔ وہ کسی کو مرتا ہوا تو دیکھ سکتے ہیں مگر اس کو بھوک کا علاج نہیں کر سکتے۔ ایسے ہی انسانوں سے روابط میں یہ لڑکا بھی دھوکے بازی اور خیانت کا چولا گلے میں ڈالے شہر شہر گھوم رہا ہے۔ یہ کہانی فقیروں، پادریوں اور الحامی کتب فروشوں کے قول و تضاد پر ایک طنزیہ تحریر ہے جسے بہت سی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر دبایا نہ جاسکا۔۔۔۔۔
Profile Image for Asjad.
21 reviews1 follower
December 21, 2023
This story was fabulous, the most interesting thing i found is that the character has narrated his story in a joyous manner even facing all the challenges in life and just at the end especially the last few ending lines where the character has just used his unemotional words to describe the whole feeling of his sober life.
Displaying 1 - 6 of 6 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.