اللہ ربُّ العزت جب کسی پر مہربان ہوتو’’عطا‘‘کیا کرتا ہے۔ عطائے سلطان السلاطین ذوالجلال والاکرام بڑی بات ہے۔ عطا کردیا جانا، متلاشی عاصیوں کے لیے بڑے نصیبے کی بات ہوتی ہےکہ ریگ زاروں میں ہزارسال ایڑیاں رگڑی ہوتی ہیں۔ سیاہ ماتمی سوگوار روحیں بجھتی آنکھوں کے قدیم شکستہ زندانوں کی زنگ خوردہ سلاخوں سے نجانے کتنی صدیاں لپٹ کے روئی ہوتی ہیں کہ کوئی ہنر نہ کمال ہم جیسےشکستہ حال تھکے ہارے روندے ہوئے مسافروں میں ہواکرتا ہے۔ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ کا چمکتا سنہری کاسہ ہاتھوں میں لیےہم جیسوں کو تو بس لامتناہی تلاش کے تپتے ریگ زاروں میں جلتے، مرتے، روتے ہوئے سرگرداں چلتے ہی چلے جانا ہوتا ہے۔ کیاخبر،کون جانے کس ساعت سعید میں دربار عالیہ سے ایک بے نیاز مگر محبّت سے بھری ہوئی نظرِ کرم ہو اور سارے جہاں سے ہارے ہوئے خود اپنی ذات میں بچھی ہوئی شطرنج پر چلی جاتی چالوں سے ہرلحظہ مات کھاتے ہوئے بس کسی بھی لمحے ڈھے جانے والے گمشدہ جاں بلب مسافر کے لیے ارشاد خداوند متعال کا نزول ہو اور حکم عالی شان جاری ہو.... عطا کیا گیا۔ جسم و جاں پر کرب وبلا اور تلاش کی تیزدھار لاحاصلیت دس سال مکمل ترین کاملیت سے چھائی رہی اور پھر جب پگھلتی ہوئی آنکھیں پتھر ہوجانے کو تھیں.... جب جسم جھلستی ہوئی ریت بن کر ہوا میں بکھرنے کو ہوا تو.... تھام لیا گیا، کرم ہوگیا،جلتے ہوئے زخم ٹھنڈے کردئیے گئے، قرار دیا گیا، دم جو نکلنے کو تھا اُسے واپس پلٹ جانے کا حکم ہوا.... ذہن کے دریچے وا ہوگئے اور علم کا ایک دروازہ پوری شان اورآب وتاب سے روشن ہوگیا.... فقیر کو ، نامراد،راندہ درگاہ کو.... مارکر دوبارہ زندہ کیا اور خود سے خدا تک عطا ہوئی۔کوئی شک نہیں ولم اکن بداعائک ربِّ شقیا کا ہی سہارا تھا لیکن خود پر ایسی عطا اور ایسے ہوجانے پر ایسی حیرت طاری ہوئی وہ عجب چھایا کہ جب تک فقیر اب جیے گا حیران شُد جیے گا۔ جتنی بڑی عطا ہوتی ہے اُتنا ہی بڑا پھر امتحان بھی لگتا ہے سو ادھر بھی لگا ہوا ہے۔ کتاب لکھنے والے خوب جانتے ہیں کیسے اپنے ہی لہو کی روشنائی سے لکھوایا جاتا ہے.... مسودہ ہوا.... سکھ کا سانس راستے میں تھا خبر پہلے آپہنچی کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ مجھ جیسا پست ہمت انسان کمپوزنگ، پرنٹنگ ، ڈیزائننگ اور پبلشنگ کے جنگلوں میں کھوجائے تو باہر کیسے نکلے.... پہلی چھپائی کے تجربہ میں ہی زبردست دھوکا کھایا اور کئی مہینے چپکا ہورہامگر کب تک.... چاروناچار پھر ہمت کرنا پڑی اور اب کی بار پبلشر تو بہت ایماندار اور مخلص ملامگر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اُن کے ہاں صرف قرآن پاک کی اشاعت اور سلیبس کی کتب ہی چھپا کرتی تھیں، اس لئے وہاں کتاب کی قاری تک رسائی کاکوئی نیٹ ورک موجود نہیں تھا۔ بہرحال کتاب چھپی، اچھی چھپی اور چل گئی.... ایسی چلی کہ گماں تک نہ تھا.... اللہ سند قبولیت عطا کردے تو مخلوق کے دلوں میں محبت اُترآیا کرتی ہے۔پہلا ایڈیشن دس دن میں ہی نکل گیا.... اب اتنی زیادہ فروخت ہوتی ہوئی کتاب سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کاجن بوتل سے باہر نکل آیا اور ایسے ایسے مسائل سامنے آئے کہ چھکّے چھوٹ گئے۔ لے دے کے ڈیڑھ سال گزرا اور اس عرصے میں کتاب کے سات ایڈیشن چھپے اور ہر ایڈیشن بلامبالغہ کئی کئی بار چھپا۔ قرین قیاس ہے کہ 40,000 سے زائد کاپیاں قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور گُوگل پلے سٹور پر موجود پی ڈی ایف ایک لاکھ سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہوگئی ہے.... غیرقانونی پی ڈی ایف توانٹرنیٹ پر خداجانے کتنی ڈاؤن لوڈ ہوئی ہے اس کا حساب ہی ممکن نہیں.... غالب گمان ہے گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں خود سے خدا تک پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہوسکتی ہے.... شُکر تو صرف اُس ربُّ العالمین کا ہے جوجسے چاہے بے حساب عطاکرتا ہے۔ کتاب کی اس قدر پذیرائی چونکہ وہم وگمان میں نہ تھی، اس لئے کئی بار پبلشنگ وقت پر نہ ہونے یا کمپوزنگ میں بہتری کے عمل کے دوران مارکیٹ سے کئی کئی دن کتاب غائب رہنا ایک معمول بن گیا تھا۔ اس کےمستقل حل کے لیےمیدان میں نکلا تو انکشاف ہوا کہ اللہ نے پاکستان میں کتاب چھاپنے اور چھپوانے والے بڑے ’’بابوں‘‘ کا ڈیرہ اب لاہور، کراچی نہیں بلکہ ’’بُک کارنر‘‘ کے نام سےجہلم میں لگا دیا ہے۔ یاحیرت.... یہ کیا ماجرا ہے.... اللہ بادشاہ ہے، دینے پر آجائے تو جس کو چاہے بے حساب دے ڈالتا ہے لیکن اُصول اُس نے ایک یہ بھی طے کررکھا ہے کہ محنت دیکھ کر دیتا ہے، خُوب اچھی طرح تول پرکھ کر دیتا ہے، اس بات کا اندازہ بُک کارنر آمد پر اس شاندار ادارے کی باکمال اور خوبصورتی کے اعلیٰ معیار کو چھوتی ہوئی کتابیں دیکھ کر خُوب ہوگیا۔ اللہ خوش رکھے کیا ہی خوبصورت لوگ ہیں۔ گگن شاہد اور امرشاہد دونوں بھائیوں کی ایک دوسرے سے محبّت،اتحاد اور کام کی لگن دیکھ کران کے والد گرامی اور ادارے کے بانی جناب شاہد حمیدؒ کی پروقار شخصیت اور تربیت کی ستائش کرنے کو بے ساختہ جی چاہتا ہے۔ جس باپ کی اولاد اُس کے جانے کے بعد اُسے اپنا ہیرو کہتی ہو یہ اللہ کا انعام ہے جو اُس نے اپنے بندے کواُس کی اولاد کی تعلیم و تربیت پر کی گئی شب و روز محنت کی جزا کی شکل میں عطا کیا ہے۔ اور بلاشبہ یہ ایسا عظیم انعام ہے جو دُنیا و آخرت دونوں میں شاہد حمیدؒ صاحب کے لیے جاری و ساری ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ اُن کے درجات بلند فرمائے۔آمین! ’’خود سے خُدا تک‘‘ اب بُک کارنر کے پلیٹ فارم سے شائع ہورہی ہے اور ان شاء اللہ امیدِ واثق ہے کہ یہ آپ کے معیار پر پورا اُترے گی۔ آخر میں امرصاحب ،گگن صاحب سے ملنے کے بعد اور ان کی محنت، ادارے کا معیار اور قارئین کی محبّت دیکھ کر میں یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ.... میری کتاب ’’خُود سے خُدا تک‘‘ کو جہاں ہونا چاہیے تھا، آخرکار وہاں پہنچا دی گئی ہے۔شکر الحمدللہ!!
جیسا کہ کتاب کے عنوان سے عیاں ہےاس کتاب میں قرآن و سنت اور مستند احادیث مبارکہ کی روشنی اور رہنمائی میں تزکیہ نفس سے خداکی تلاش کوجاتے رستے کی تفصیل سے نشاندہی کی گئی ہےاور ایسے ہوشربا رازوں اورحقائق سے پردہ اُٹھایا گیا ہے جن پر ابھی تک خاموشی کےگہرے پردے پڑے ہوئے تھے۔ خود سے خدا تک دقیق فلسفے سے قاری کو مزید الجھن میں ڈالنے کی بجائےاُسے نفسیاتی اُلجھنوں اورذہنی خلجان سے نکال کر اللہ کے سامنے لے جاکھڑا کرتی ہے۔
خود سے خدا تک انتہائی آسان اور آج کل کی عام فہم اُردو میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں کہانی، فلسفہ یا اِدھر اُدھر کی مشکل اور سمجھ نہ آنے والی باتوں کی بجائے بغیر وقت ضائع کئے عام انسان کے مسئلے پر بات کی گئی ہے کہ آخر تزکیہ نفس میں کرنے والے کام کیا ہیں اور کیسے انسان اپنی الجھی ہوئی پریشان زندگی کو سلجھا سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ پرلکھی گئی ہے۔۔۔یہ آپ کو بتائے گی کہ آپ کون ہیں؟ اسےپڑھ لینے کے بعد آپ کے اندر بے پناہ تبدیلی آئے گی۔ آپ کا زاویۂ نظربدل جائے گا ، بڑھ جائے گا۔ ذہن و دل میں عظیم انقلاب برپا ہوگا، آپ کوپہلی بارحقیقت میں ایک ایسا زبردست علم حاصل ہوگاجس کی مدد سے آپ خود کو بدل ڈالنے میں اللہ کے فضل سے کامیاب ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ کتاب آپ کو انتہائی تیزی سےمایوسی سے نکال کراللہ سے روشناش کروائے گی۔
فہرست موضوعات۔
خودی کیا ہے؟نفس کیا ہے؟۔ علم اور عقل۔ خیال کیا ہےاورسوچ کیا شے ہے؟ ۔ جسم اور ذہن کا گٹھ جوڑ ۔ تکرار کا لامتناہی چکر۔ یادداشت کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟ ۔ دل ، احساس اور توانائی۔کردارِنفس ۔ جبلیات نفس ۔ تکلیف ۔سستی کاہلی ۔ عدم تحفظ کا شدید احساس ۔ تجزیہ کاری ۔ خواہشِ ناتمام ۔ تنہائی ، اُداسی اور خلا ۔ وابستگیاں ۔ خوف ۔ بےچینی، دباؤ اور پریشانی ۔ شک اور عقیدہ ۔ تجسس اور عادت ۔ چاہے جانے کی آرزو ۔ اچھائی بُرائی ۔ ذہن اورنفس ۔ تربیتِ نفس ۔ توبہ اور ہدایت ۔ زمان ومکاں ۔ مراقبہ کی اصل حقیقت کیا ہے؟ ۔ مشاہدہ حق کیسے کیا جاتا ہے ۔ ارتکاز،دھیان کی اصلیت ۔ اعلیٰ شعورتک رسائی ۔ اللہ کی یاد ۔ ذکر ۔ اللہ کی پہچان ۔ شعریٰ اور قاب قوسین ۔ محبت ِرسولﷺ ۔ اعوذ بالله من الشيطان الرجيم ۔ دُعا ۔ اعلیٰ مقصدِ حیات ۔ معرفتِ نفس ۔ منتخب آیاتِ قرآنی ۔ اکتشافات
A must read. Insights on your thought processing and how to control your actions and results. Ultimately achieving a happy, blessed and fulfilling life. Understanding what can be controlled and directed to achieve this result.
What a travesty of a read. Picked it up on those rare occasions when i pick up a book on recommendation of a book-seller.
The book starts out with needless Urdu verbosity and to give it a touch of some sorts which i fail to understand,nearly every page has a verbatim english translation of the exact Urdu words. So you end up reading the same words and phrases twice in Urdu and then in English.
The content is lacking on substance and research.
The use of Quranic ayat too has been carelessly made.
While I have a deep appreciation for the author of "Khud se Khuda tak," I must say the book did not meet my expectations. It seems that while he excels as a speaker, his writing does not quite capture the same essence. I can easily listen to him for hours and glean so much more knowledge, but this book didn’t resonate with me, which is puzzling. I typically prefer reading as my primary means of learning; written content tends to linger in my memory far longer than audio or video.
Nasir Iftikhar shines as an orator but falls short as a writer. At the time I read his book, he was not yet present on video platforms—even his Facebook was private, and I couldn't quite connect with him through the pages. It left me feeling somewhat perplexed about his ideas and effectiveness as a communicator.
However, I’m thrilled that he has since launched his YouTube channel and started delivering video lectures, which I find truly invaluable. I’ve learned so much from those sessions. Even now, whenever I experience anxiety or feel spiritually down, I turn to his videos. He has proven himself to be a genuinely impactful spiritual healer, no doubt about it.
خود سے خدا تک انتہائی آسان اور آج کل کی عام فہم اُردو میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں کہانی، فلسفہ یا اِدھر اُدھر کی مشکل اور سمجھ نہ آنے والی باتوں کی بجائے بغیر وقت ضائع کئے عام انسان کے مسئلے پر بات کی گئی ہے کہ آخر تزکیہ نفس میں کرنے والے کام کیا ہیں اور کیسے انسان اپنی الجھی ہوئی پریشان زندگی کو سلجھا سکتا ہے۔
This entire review has been hidden because of spoilers.
Worth read + must read 📖 This book is bound to change your perceptions about many things & you will surely find changes in yourself. You will gain another kind of wisdom & knowledge from it. Simply its an incredible and soulful book.
بالاخر کئی سالوں بعد شیلف پہ رکھی اس کتاب کو مکمل کر ہی لیا۔۔۔🙏🏻 یہ کتاب مصنف نے "پڑھے" نہی "محسوس" کیے جانے کے لیے لکھی ہے اور اسی فرصت کو نکالنے میں مجھے اسے کئی برس انتظار کروانا پڑا۔ کتاب میں بہت سے جملے انتخاب ہیں۔ جیتے جاگتے، سانس لیتے، دل کو تھامتے الفاظ۔۔۔ مصنف نے نفس سے متعلق بہت سے موضوعات پر ایسی روشنی ڈالی ہے جو صرف حقیقت کا سامنا ہی نہیں کرواتی بلکہ حقیقت کو برتنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ اندھیرا دشمن نہیں بلکہ راستہ ہے،اور روشنی منزل نہیں بلکہ مستقل سفر ہے۔ کئی جملے ایسے ہیں جو دیر تک ذہن میں رہتے ہیں، اور یہی کسی بھی اچھی کتاب کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ختم ہونے کے بعد بھی آپ کے اندر زندہ رہے۔
اگرچہ میں نے کئی جگہوں پر الفاظ کی پیچیدگی اور موضوع کی complexity کو حد سے بڑھا ہوا محسوس کیا، اور چند مقامات پر مصنف سے مکمل اتفاق بھی نا کر سکی۔۔۔ لیکن مجموعی طور پر کتاب ایک نفع بخش مطالعہ ہے۔! یہ کامل تحریر نہیں، مگر اس میں وہ صداقت اور احساس ضرور ہے جو ان خامیوں کے باوجود اسے خوبصورت بناتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ کہ اگر کوئی کتاب ایک بھی جملہ ایسا دے جائے جو زندگی کے اندھیروں میں چراغ بن سکے، تو وہ کتاب قیمتی ہے — اور ’’خود سے خُدا تک‘‘ میں ایسے کئی جملے ہیں جو میرے ساتھ ہمیشہ رہیں گے، اور جنہوں نے مجھے وہ چند سچائیاں سکھائیں جو آنے والے وقتوں میں بھی روشنی کا ذریعہ بنیں گی۔
مجموعی طور پر ایک نافع اور بامعانی کتاب جسے فرصت نکال کے پڑھا جائے! اس کتاب کے اسباق کے ساتھ دو خوبصورت دوستوں کا احساس بھی ساتھ رہے گا۔ شکریہ بشری اس بامعنی تحفے کا۔۔۔ اور شکریہ اردم اسے ساتھ مل کے پڑھنے اور سیر حاصل گفتگو کرنے کا۔ ✨🤍
The book overview said it was an amazing book and it could change your thinking and stuff while i didnt feel anything of this sort.I hot extremely bored reading this book and i had very high expectations i couldn't even finish it because it was so boring