Ikramullah was born in 1930 in Jandiala, India, and finished primary school in Amritsar. After partition, he moved to Multan where he earned a bachelors degree before proceeding on to the University Law College in Lahore for LLB. He joined the Insurance trade in 1965, after practicing as an independent lawyer. His first collection of short stories ‘Jungle’ was published in 1962 to critical acclaim, followed by several other works of fiction including ‘Badaltey Qalib’, ‘Sawa Naizey Par Sooraj’ and ‘Saaye Ki Awaz’. He also translated Chinua Achebe’s ‘Things Fall Apart’ as ‘Bikharti Duniya’ on behalf of National Book Foundation.
ڈیڑھ سو صفحات مشتمل یہ کتاب اکرام اللّٰہ کی یادداشتیں ہیں اور ملتان شہر کی تاریخ کو بیان کرتی ہے۔ اسے سنگِ میل پبلیکیشنز نے احسن انداز سے شائع کیا ہے۔ تقسیمِ ہند کے ابتدائی سالوں میں اکرام صاحب ملتان اپنی کالج کی تعلیم مکمل کرنے گئے۔ تقسیمِ ہند اور انگریزی نظام کے اثرات نمایاں تھے۔ آبادی مختلف اقوام پر مشتمل تھی۔ لیکن مقامی اور مہاجر کی تقسیم نہایت واضح تھی۔ ملتان شہر کو ایسا لگتا ہے اکرام صاحب نے گھول کر پی لیا ہے۔ اب چاہے اس شہر کی تاریخ ہو یا ثقافت، زبان ہو یا ادب، کھیل ہو یا ادبی سرگرمیاں، غرض ہر پہلو سے اس شہر کو بیان کیا ہے۔ اور اس شہر کے ادیبوں اور دیگر مشاہیر کا ذکر ملتا ہے۔ اور سب خاص بات اس کتاب کا اختصار ہے۔ آج پاکستانی معاشرہ دنیا کے بدعنوان ترین معاشروں میں شمار ہوتا ہے۔ شروع میں ایسا نہیں تھا۔ اکرام صاحب اسکی وجہ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں جائیداد اور املاک کی غیر عادلانہ تقسیم بتاتے ہیں جسکے نتیجے میں معاشرے میں دولت سمیٹنے کی دوڑ جو شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے۔ جائیداد اور املاک کا بغیر محنت کے مل جانا معاشرتی برائیوں کی بنیادی وجہ ہے۔ میں نے مختصراً اس کتاب کے بارے میں بیان کیا ہے۔ تفصیل کے لئے کتاب کا مطالعہ اہم اور لازمی ہے۔