1 star for her writing style and humour, and Rayyan Sherazi. I really appreciate her writing style. It was good. The humour was well written, and my favourite characters from the book were Rayyan Sherazi and Rahim Afaq. They were the cutest! Even her other Story Nooreseen was very well written. Usri Yusra is often praised for its emotional intensity, faith-based themes, and the Quranic reminder “Indeed, with hardship comes ease.” Many readers find it spiritually uplifting and moving. However, it is equally important to acknowledge its deeply problematic elements, especially in how it portrays abuse and lack of consent.
This book glorifies, romanticizes and justifies domestic violence because Male lead has trauma and added religion to make it look nice. The female lead was constantly given lectures on patience by her MIL etc while she is being abused by her son, backed by how MIL was unaware of abuse.
The issue of Marital Rape: No book with marital rape has ever called it marital rape. It always uses words like Jaiz Haq, exactly what this book had BUT the writer said it’s not Marital Rape because the female lead had no right to say No/consent.
جب حق مہر دیا تو فارس نے فیصلہ سنایا کہ اب وہ حق مہر رکھ سکے گی۔نہ سوال تھانہ مرضی۔ “فیصلہ”۔ اس کے بعد جنت اتنی تذلیل کیوں محسوس کررہی تھی؟ اپنی مرضی سے رشتہ قائم کرنے پر عورت کا یہ سوچنا کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی چوٹ اور تذلیل یہ تھی،کہیں سے “مرضی” نہیں دکھاتا۔عورت بھی وہ جو بچپن سے ذلت سہہ رہی ہے۔جنت نے حق مہر مانگا بھی نہیں تھا، پھر فارس نے اسے کہا تھا رشتے کی حیثیت وہی ہے، بس تمہیں حق مہر ملے گا۔ تو جب اس نے کہہ دیا وہ رشتے کو موقع نہیں دے رہا تو پھر یہ واضح ہے جنت بخوشی راضی نہیں ہوسکتی کہ رشتہ بہتر ہوگا۔۔فارس کی بات کا معنی واضح ہے کہ رشتہ ویسا ہی ہے، بس مجھے میرا حق دو۔
اس کے بعد جنت کے اپنے الفاظ: “جب جی چاہوگے رشتہ کاغذی رکھوگے، جب جی چاہوگے میرے احساسات کی پرواہ کیے بغیر جائز حق بھی وصول کرلوگے۔” یہاں واضح ہے جنت کی مرضی نہیں تھی۔ اس کی مرضی اور اجازت کی اہمیت نہیں تھی۔ وہ کہہ رہی فارس نے جو کیا ہمیشہ اپنی مرضی سے کیا۔دل کیا تو کاغذی، دل کیا تو تعلق قائم کرلیا۔جو شکوک و شبہات تھے وہ مصنفہ نے واضح کردیے کہ شوہر کا حق ہے، منع نہیں کرسکتی، یعنی جنت کی مرضی کی اہمیت یا مرضی رائٹر کے نزدیک بھی نہیں۔اس بات کا ثبوت بھی ناول میں ہے جب فارس نے بولا تھا کہ “انکار یا اختیار کا حق تمہارے پاس ہے۔”۔یہ بات اس نے جنت کی پریگننسی کے بعد کہی۔ جنت کا جواب تھا جیسے میں نہیں جانتی تم اختیار چھیننے میں کتنے ماہر ہو۔ فارس نے حق مہر صرف جنت سے انکار کا حق چھیننے کے لیے دیا، اور اس سے زیادہ غلط کیا ہوسکتا ہے؟ جس ملک میں “نہ” پر عورت قتل ہو، وہاں “نہ” کا حق چھیننے والے کردار ہیرو کیسے؟
تابوت میں آخری کیل فارس وجدان کے اپنے الفاظ ہیں۔ “میرے احساسات بدل رہے تھے تو مجھے چاہیے تھا تم سے بات کرتا، نہ کہ تم پر اپنی مرضی مسلط کرتا۔” جنت قبول کررہی ہے اس کے احساسات کی پرواہ نہیں کی۔فارس قبول کررہا ہے مرضی مسلط نہیں کرنی چاہیے تھی۔رائٹر نے کہا انکار کا حق ہی نہیں۔سو اب کوئی قبول نہیں کرتا نہ کرے،لیکن جو چیز بہت سارے لوگوں پر واضح ہے،وہ اسے غلط ہی کہیں گے۔ حق مہر کے تقاضوں کے مطابق انکار کا حق جنت کو نہیں تو بیوی کی گردن دبوچنے کا حق، حق مہر کے کس تقاضے میں آتا ہے؟بیوی کو کمرے سے دھکے دے کر نکال دینا حق مہر کے تقاضوں میں کدھر ہے؟اس کے کردار پر اس قدر غلیظ الفاظ میں طعنے کا حق ؟ دوسری شادی کے طعنے کا حق؟ بانجھ پن کے طعنوں کا حق؟ جو مرد یہ سمجھتا ہو کہ میں بیوی سے جیسا سلوک کروں، ہاتھ اٹھاؤں گالی دوں، وہ مجھے منع نہیں کرسکتی کیوں کہ حق مہر میں نے منہ پر مار دیا ہے، اس سے زیادہ گھٹیا کیا ہوسکتا ہے؟
یہ عام شادی تھی بھی نہیں،زبردستی کی شادی اور عورت کی حق تلفی پر آپ کو اسلام نہ یاد آیا۔فارس وجدان کو کتنی چیزوں کا دین نےحق نہیں دیا، لیکن اس نے کیا۔ صاف سی بات ٹھہری، فارس انکار لینے والوں میں سے نہیں تھا، تبھی حق مہر دےکر اس سے انکار کا اختیار چھین لیا۔ اب آپ کے نزدیک یہ سب درست ہے، قابل قبول ہے تو پسند کریں۔ جن کے نزدیک نہیں ہے، انہیں ناپسند کرنےدیں۔ عورت انکار کرسکتی ہے،گناہ تب نہیں ہوتا جب مرد کو اعتراض نہ ہو۔ یعنی فارس ایسا مرد تھا جسے اس بات پر اعتراض ہوتا کہ جس عورت کو میں نے عزت نہیں دی،جس پر ہاتھ اٹھایا،جس کو بانجھ پن اور دوسری شادی کے طعنے دیے، جس کی مسلسل کردار کشی کی،وہ مجھے کیسے انکار کرسکتی ہے؟ ایسے “مردوں” اور “ہیروز” میرے لیے ناقابل قبول ہیں،آپ اپنی رائے میں آزاد ہیں۔ فارس نے کبھی جنت کو عزت نہیں تھی، ذلیل کیا، ہاتھ اٹھایا۔ پھر اس کے منہ پر حق مہر کی رقم ماری تاکہ اس سے انکار کا حق چھین لے، اور یہ جنت کے اپنے الفاظ تھے ۔ کیا بیویاں شوہر کو انکار نہیں کرتیں؟ کرتی ہیں، شوہر سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن یہاں لکھاری کی پوسٹ نے واضح کیا کہ جنت کو گھر چھوڑنا پڑتا انکار سے قبل یعنی فارس اسے گھر سے نکال دینا انکار کرنے پر؟ یہ وحشیانہ سلوک کیا ایک اسلامی ناول کے ہیرو میں ہونا چاہیے؟ حق مہر ایک عورت کو بنیادی حق ہے،اسے نائٹ مئیر بنا کر پیش کرنا کہ گھٹیا اور گرے ہوئے مرد بیویوں کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ان کے منہ پر مار کر انکار کا حق چھینیں؟ مہر عورت کی حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے، اسے خریدنے کے لیے نہیں۔ یہ عورت کا کیسا حق ہے جو اس کی عزت نفس، اس کا اختیار ، مرضی سب چھین لے؟ فارس جیسے امیر بندے کے لیے حق مہر منہ پر مارنا کون سا مشکل تھا؟
فارس پر ظلم ہوا تو ظالم برا دکھایا گیا، مگر جنت پر تشدد ہوا تو لکھاری نے اسلام، صبر اور حق مہر کے تقاضے یاد دلائے۔ہیرو کا تشدد بھی آزمائش بنا کر خوبصورت دکھا دو تو قابل قبول ہے۔برہان کا ظلم برا اور فارس کا ظلم اچھا کیوں؟ ظلم پر صبر کے نتیجے میں جنت کے حاملہ ہوجانے کے بعد لکھا تھا ظلم پر صبر نہیں ہوتا۔ جب آپ نے ظلم پر صبر سے ظالم کو بدلتا دکھا کر محبت کی کہانی بنادی، تو یہ جملہ اپنی اہمیت کھودیتا ہے۔ ہم کہتے ہیں بچیاں روح یارم اور یہ ہاتھ اٹھانے والے تشدد کرنے والے کردار پڑھیں گی تو ان پر کیا اثر کرے گا؟بالکل ٹھیک کہتے ہیں، لیکن بچیاں عسری یسرا جیسی کہانیاں پڑھیں گی تو؟ یہی سمجھیں گی کہ اگر کبھی ایسے مرد، جو ان پر تشدد کرے، اللّٰہ نہ کرے، سے شادی ہوجائے تو دین یہی کہتا ہے کہ صبر رکھیں۔اگر وہ مار رہا ہے تو کوئی وجہ ہوگی، اس کا ماضی سمجھنے کی کوشش کریں ۔اسلامی ناولز میں تشدد نہیں بلکہ آزمائش اور مشکل (عسر) ہوتی ہے۔ "میں نے حقیقت لکھی۔"آپ کو اگر بغیر گھریلو تشدد کی وضاحتیں دیے حقیقت نہیں لکھنی آتی تو معذرت کے ساتھ، اس میں قصور وار پڑھنے والے نہیں ہیں۔ فارس کے تلخ ہونے تک ٹھیک تھا، حاملہ ہونا؟گردن دبوچنا، بازو دبوچنا ،کردار کشی، پکڑ کر دیوارسےلگا دینا؟جسمانی ، زبانی، جذباتی ، جنسی تشدد سب ؟ حقیقت میں ہوتا ہے یہ سب، لیکن جو حقیقت میں غلط ہے،براہے، وہ کتاب میں خوبصورت، پیارا، درست کیوں ہے؟پھر ہم باقی کتابوں کو کیوں تنقید کانشانہ بناتے ہیں؟انہیں بھی نہیں بنانا چاہیے کہ تشدد کرتا ہے تو کیا ہوا، حقیقت میں بھی تشدد ہوتا ہے۔ دین ہے تو کتاب پر تنقید نہ کی جائے؟ ایک کتاب میں دین سکھایا جارہا ہے اور ساتھ ہی گھریلو تشدد کو بھی فروغ دیا جارہا ہے! دین کو براہ مہربانی ایسی کتابوں سے دور رکھا کریں، اور اگر لکھنا ہو تو کم از کم درست طریقے سے لکھیں ۔ ہر چیز ہمارے Chaotic Couple, Grumpy & Sunshineکے لیے نہیں ہوتی۔ " آپ کا قلم صرف میرے خلاف ہی کیوں چلتا ہے؟" آپ کے قلم سے ایسی چیز لکھی جائیں گی تو تنقید تو آئے گی۔ " اگر آپ کو فارس وجدان کے خلاف بات کرنی ہے تو باقی مظالم پر بھی کریں۔"یہاں فرق ہیرو اور ولن کا ہے۔ ورنہ آپ بھی برہان کو ہیرو بنا سکتی تھیں،کیوں نہ بنایا؟ ہیرو کی خامیاں اور شادی میں سمجھوتے قابلِ قبول ہیں، مگر تشدد کو قرآن کی آیات اور صبر شکر کے نام پر جواز دینا نہیں۔ جہاں شوہر ظلم کرے اور لکھاری اسے حق مہر اور خرچ کے بدلے عورت پر مسلط کردے، وہ سراسر دوہرا معیار ہے۔ "آپ ہوں گے ٹراما سے پاک۔" یعنی آپ کا کردار جس نے بہت سے لوگوں کا ٹراما ٹرگر کیااور ان کے ’مجرم‘ جیسا ہے،وہ ایسے انسان سے محبت کریں؟ کیا آپ کو کسی قاری کی ذاتیات اور ٹراما پر حملہ کرنے کا حق ہے؟ صرف اس لیے انہیں آپ کاتشدد کرنے،اور عورت کو ذلیل کرنے کے بعد اسے رشتہ قائم کرنے پر مجبور کرنے والا ہیرو نہیں پسند؟افسوس کی بات ہے کہ آج کل لکھاری سیدھا ذاتیات پر حملہ کرتے ہیں۔
Triggering: For any woman who gave her husband a second chance after being abused, that’s their choice. The thing is, sharing the experience of one person is different than promoting something. This is not another typical story - it is teaching you things that shouldn’t be taught, rather depending on people’s situations. If it’s helplessness making women stay, it should be portrayed as helplessness. Not romance. Women give second chances after direct slaps, after being beaten black and blue too. Men change after THAT too. The thing is, it isn’t something you glorify or make a love story about. You cannot write about patience and Sabr and all that when someone is being abused.
Topics like character assassination, lack of consent, and domestic abuse are sensitive, and triggering to a lot of people. That’s a trauma for people too, and reading love stories between abusers and victims isn’t acceptable for them. They’re allowed to hate. Can we forgive and make it “cutesy” about the people who wronged faris wajdan? No. That’s why many people can’t like him either. Loving a Character development is a personal decision.
جمیلہ داؤد۔ شادی کی پہلی رات ہی سمجھایا گیا: "محبت نفرت کو پاش پاش کر دیتی ہے۔" سوال یہ ہے کہ نفرت کہاں سے آگئی؟ حقیقت یہ تھی کہ بیٹے کے دل میں نفرت تھی اور زبردستی شادی کروا کے یہ ذمہ داری جنت پر ڈال دی گئی کہ وہ نفرت کو محبت میں بدلے۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ یہ شادی نہ ماں کی وجہ سے ہوئی، نہ خالہ کی وجہ سے، بلکہ یہ تمہارا نصیب ہے۔ یوں پہلی ہی رات اسے یہ سبق دے دیا گیا کہ یہ زبردستی کا رشتہ بھی تقدیر ہے، لہٰذا سب برداشت کرنا۔ وہ سہتی رہی، اور ساس دعا، صبر اور شکر کے لیکچر دیتی رہیں۔ کہا گیا کہ وہ “بے خبر” تھیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ جنت انجان تھی، نہ ہم قاری، نہ ہی مصنفہ۔ جب کوئی شخص ظلم سہہ رہا ہو، اور اسے کہانی میں صبر و برداشت کی تبلیغ سنائی جائے تاکہ ظلم بھی قابلِ قبول لگے، یہ سراسر غلط ہے،اور غلط پاکستانی دین کی عکاسی ہے۔ ظلم پر صبر نہیں کرتے، حالات پر کرتے ہیں۔عملی طور پر ظلم پر صبر کے بعد یہ جملہ اپنی اہمیت کھودیتا ہے۔
زبردستی کی شادی ۔ نصیب گھریلو تشدد ۔مشکل ذلالت۔آزمائش
ہر قسم کے ظلم کو اسلام سے جوڑ دیا ہے۔
Advising these girls to remain steadfast and combat their husbands' hatred and abuse with love is not okay.
May Allah bless the author with success in Dunyah and Akhira Both, but wrong remains wrong, and no one has the right to attack people’s trauma. You don’t “own” the topic of trauma that anyone disliking your book has no trauma.
I edited this review a bit, it was posted in 2024. Rest in first comment/if first comment isn't viewable, scroll down in comments to see..
Such a cute book!! It kept me awake for 3 nights while I binge read it, turning a blind eye to all my responsibilities. Tonight I finally finished it at 6:45 am sharp - while I have somewhere to be at 8 am. So right now I am writing this review with zero sleep and a hazy mind.
Apart from the rant and the subtle hint at how long it was (1400 pages no jokes), the fact that a book this lengthy was able to keep me hooked is impressive in its own. In the beginning it was all about the butterflies I'd get in my stomach at their cute interactions but soon the intense stuff started happening. Both our mls had a traumatic past man!!
My favorite part about this book has to be the cute bickering between Faris and Jannat. Both of them are so witty and sharp! Mrs Sherazi was such a ray of sunshine with her wise talks. Faris and Rahim's scenes were funny as well.
All in all I'm giving it 5 stars because of the full experience I got while reading it. I finished this long book in less than 3 days while I absolutely sacrificed all my other responsibilities and most importantly my sleep, but it was such a fun experience. Although I do agree that its length could have been shortened and some reads might have found it boring, the past stories were too detailed - we just wanted to find out what's happening in the !!present!! *wink* Other than that, this book exceeded my expectations and the main leads were so cute.
I recently read Usri Yusra by Husna Hussain, and I have mixed feelings that I want to share in this review. While the title itself is beautiful, I found the story and its execution deeply problematic.
The novel's central characters are Faris Wajdan, Jannat Kamal, and Jamila Dawood. The narrative revolves around the forced marriage between Faris and Jannat, a relationship Faris never wanted. His abusive behavior toward Jannat—both physical and emotional—is not only disturbing but also normalized and romanticized within the plot. Faris’s repeated insults, including calling Jannat barren, bringing up her failed marriage, and threatening to marry another woman, all constitute psychological abuse. Moreover, his actions, such as grabbing her by the neck and throwing her out of rooms, fall squarely into the realm of domestic violence. Yet, the novel attempts to justify this behavior under the guise of trauma and religious endurance.
One of the most controversial aspects of the book is its handling of marital rape. The writer defends this by referencing the concept of “haq mehr,” suggesting that Jannat’s lack of consent is irrelevant due to religious obligations. This rationalization is deeply flawed and dangerous. In no way does Islam condone domestic violence or marital rape. Islam emphasizes mutual respect, kindness, and protection within marriage, not coercion and abuse. Claiming that tolerating such behavior is an act of patience or endurance is a gross misinterpretation of religious teachings.
Jamila Dawood, Faris’s mother, adds another layer of problematic messaging. Throughout the novel, she continuously advises Jannat to exercise patience, reinforcing a damaging trope that women must silently endure abuse for the sake of maintaining relationships. Her character’s arc offers no substantial critique of her own role in forcing the marriage or her son’s behavior.
Many readers argue that the realism of Faris’s character—a flawed, traumatized man—makes the story authentic. However, realistic portrayals do not absolve writers from responsibility. If toxic behavior is shown without adequate consequences or meaningful growth, it risks normalizing abuse. Faris’s so-called redemption comes not from genuine remorse or character development but from discovering Jannat’s prestigious lineage. This reduces his regret to mere vanity rather than a true realization of his wrongs. He never sincerely apologizes to Jannat, which is not character growth but narrative failure. Usri Yusra frames Faris’s actions as forgivable due to his trauma and wraps the story in a romantic ending, undermining the gravity of his abuse.
The broader issue here is how abuse is framed in popular media and literature. Stories that justify toxic relationships by romanticizing trauma and endurance set a dangerous precedent. Abuse should never be excused under the pretense of love or religious obligations. Writers have a responsibility to challenge harmful societal norms, not perpetuate them.
Overall, Usri Yusra disappointed me deeply. While the writing style may appeal to some readers, the novel’s themes and moral stance are troubling. Romanticizing domestic violence and excusing marital rape in the name of patience and religious duty are narratives that need to be critically examined and rejected. Faris Wajdan’s character lacked meaningful development, and the resolution of his story arc was neither satisfying nor justified. In literature and life, abuse is abuse—and no amount of romance can erase its scars.
4.5 🌟 This is my second or third novel, which I read in episodic form. And I really enjoyed it. The whole journey of Jannat and Faris was really good. I am amazed at the writer's capacity because this is her second novel. Eagerly waiting for her new novel.
واہ ،کیا شاہکار ناول لکھا ہے مصنفہ نے اگر کوئی کہے کہ صرف ایک ناول بتاؤ جس سے تمہاری پسند کا پتہ چلے تو میں عسری یسریٰ کا نام لوں گی۔ اگر کوئی کہے میں نے زندگی میں صرف ایک ہی ناول پڑھنا ہے تو میں کہوں گی یہ ناول پڑھو، ہر لحاظ سے خاص اور مکمل تحریر، اس کا کوئی ثانی نہیں۔ کِرداروں کی بات آئے تو مصنفہ نے اتنی گہرائی میں جا کر کِرداروں کو لکھا کہ حقیقت کے رنگ بھر دئیے ، با لخصوص فارس وجدان اور جنت کمال کے اندر کی دنیا سے ہمیں یوروشناس کروایا کہ ناول ختم ہو جانے پہ ان دونوں سے بچھڑنے کا سا احسا س ہوا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کچھ ناول دماغ سے پڑھے جاتے ہیں اور کچھ دل سے۔ اِس ناول میں کیا نہیں تھا؟ میں ایک عرصے سے ناول پڑھ رہی ہوں اور کسی ناول کے کرداروں سے یوں جڑ جانا، ان کی کہانی کو ان کے جذبات کو گہرائی میں جا کر محسوس کرنا میرے لیے رواز کی بات نہیں۔ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے۔ کہانی شروع ہوتی ہے جہاں فارس وجدان صاف الفاظ میں جنت کو باور کراتا ہے کہ ان کی شادی صرف ایک کاغذی شادی ہے جس کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ اس ناول میں مصنفہ نے کئی سبق آموز پیغام دئیے، جن میں سے نمایاں طور پہ ایک یہ بھی تھا کہ ہم بہت جلدی ظاہری اور وقتی رویوں کی بنیاد پہ کسی کو بھی جانچ لیتے ہیں، یہ ایسا ہے یہ ویسی ہے۔ ہم نہ تو اس کے بچپن سے واقفیت رکھتے ہیں نہ اس بات سے کہ بچپن سے لے کر اب تک کے حالات و واقعات نے اس فرد کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب کیے۔ اسی طرح ایک بہت بہترین پیغام یہ بھی تھا کہ کسی بھی مرد یا عورت کے بارے میں لوگوں کی رائے کو،خواہ وہ اس کے بہت قریبی رشتہ دار اور فیملی ممبر ہی کیوں نہ ہوں، حرفِ آخر نہیں سمجھنا چاہیئے۔ کبھی اس سے بھی پوچھ لینا چاہیئے بتاؤ آخر ہوا کیا تھا۔بچپن کے واقعات کا کس حد تک اور کیسے کسی انسان کی نفسیات اور عادات پر اثر ہوتا ہے یہ مصنفہ نے بہت اچھے سے بیان کیا۔ مقبول ترین ناول پیرِ کامل، نمل، جنت کے پتے، متاعِ جاں ہے تو، بِن روئے آنسو،یہ سب میرے پسندیدہ ناولوں میں سے ہیں۔ میرے ٹاپ ٹین میں سرِ فہرست۔ لیکن عسری یسریٰ کا مقام ہی کچھ اور ہے میرے دِل میں۔ بہترین کِردار کشی، کہانی نویسی، رومانوی ڈائیلاگ، دلفریب منظر کشی – ان سب خصوصیات نے مل کر اس ناول کو بہت ہی منفرد بنایا۔ اِس ناول نے مجھے بارہا ہنسایا بھی، رولایا بھی، اور مایوسی و امید کے بیچ لٹکایا بھی۔ فارس وجدان اور جنت کمال انفرادی طور پہ بھی میرے پسندیدہ کردار ہیں اور جوڑے کے طور پہ بھی۔ پہلے مصنفہ ہمیں ان کے ماضی میں لے گئیں اور پھر ان کے بچپن میں۔بچپن والا حصہ تو بہت ہی باکمال تھا۔
Yaaay, found another fav book+ new fav author🥰🥰 Well, it's definitely a masterpiece💗 Too long but, honestly, not a single page will bore you. Beautifully written, an amazing sense of humor. It was a LOL novel for me🤣🤣 Some convos between Jannat and Faris are too hilarious, you can't help but laugh out loud😂 Absolutely LOVED IT💚💚💚
I did not finish this book. I DNFd it after episode 1. Bro has sm attitude and is so disrespectful as fuck. And it’s so pathetic. Idgaf about his trauma…trauma doesn’t mean u start giving other people trauma. I wanna buy this book just to burn it. Allah is bandy jesi aulad kisi ko na de. Aisa beta kisi ka ho to wo dukh se hi mrjaye k kitni Ghatia aulad pali hay. Bye bye
five glittery stars! this book was so refreshing, well-written, and well-versed. the author chose quite a sensitive topic and she handled it so elegantly given the nature of that topic. it was beautifully written and it showed that the topic was well-researched. the concepts of dua taqdeer and ikhlaaq were also beautifully covered. it was long but it was not boring. each page was fresh, organic and it moved the story. what I really loved about this book was that each and every single character had depth. they had their stories, their pasts, and their respective growths in either direction. I also thoroughly loved how the story comes a full circle, except that the characters are changed and they make better, learned choices to not repeat what they had gone through. it wasn't an overnight change and hence it really settled well even with the reader. the last few chapters, especially the choices made by characters in those chapters were really fresh. i really liked the fact that adeena's revenge was also mentioned for her son, which simply just explains the story of faris, and we as reader can imagine how it'll go. it was so good. my most favorite character remains dr. mustafa. it won't be wrong to say that he's the axis of positive change in the MC's lives and onwards. his scenes were far and few but they were solid and stood out a lot. That goes on to explain without explaining how much an impact kindness, empathy, and compassion can have on people around you. my second favorite character was that of jamila dawood. the kindness of her character made it easier for the reader to hold on to the rough parts of the story, they could rely that even if the MC's are going to go berserk, at least she'll be there. Other than that, i didnt really like haroon, hammad, adeena, aarzu and waleed. obviously. a slight edge i am going to give to aazam sherazi for kind of being good towards Faris. his words and behaviors were harsh for sure but the ending he got made it easier to kind of forgive him. rahim, james and william were good too, especially the roles they played in Faris's life. appreciate them. i also enjoyed the setting of the first few chapters. they are the suffereing of one of the MC but that just goes well with in the chapters that come next. also yeah sure i missed that there was no groveling after a certain scene, but even that just added to the slow and gradual build-up of a changed behavior rather a heat-of-the-moment apology. the banter between the MC was so so so good it punched me in the face. seriously. and as i mentioned, every character had its depth. hence zaid was also my favorite character! about the MCs: Jannat and Faris were flawed, full of humanness, and absolutely fire. their chemistry was absolutely breathtakingly good. their banter, on point, and their own individual characters were absolutely smart, fun and interesting. i wish i could write more about them but that'd take too long and give away too much :( tropes: enemies to lovers, second chance, childhood friends, marriage of convenience, slow burn, found family, bildungsroman, sunshine vs grumpy. p.s why was the book so short and how can i read it for the first time again???!!!???
not worth the hype۔ Faris was totally different in first half and second half. اس کا پہلا گھر بھی فارس کی وجہ سے ہوا اور اگر دوسرا ہوتا تب بھی اسی کی غلطی زیادہ تھی کیوں کے ہم تو کوئی بات clear کرنا ہی نہیں چاہتے اپنی بیوی سے۔ فارس کے خیال میں یہ ایک بہت اچھی چیز تھی کے وہ اپنی کسی بات کی وضاحت ایک بار بھی نا دے۔ اس نر جنت کے ساتھ بھی یہی کرنا چاہا۔ اگر جنت کو ساری حقیقت خود سے نا معلوم ہوتی تو اب تک فارس اسے بھی چھوڑ چکا ہوتا۔ جنت کی بات کریں تو اس میں بھی self respect کی کافی کمی تھی۔ بہت ساری ایسی جگہ جہاں اسے خود کی عزت کروانی چاہیے تھی فارس سے، وہ وہیں غلط کرتی رہی۔ اس چیز نے مجھے بہت تنگ کیا۔ ایک مرد کے پیچھے اپنی سیلف ریسپیکٹ قربان کرنا۔ مرد بھی وہ جو اسے پسند نہیں کرتا۔ بیوقوفی ہے۔ فارس کے لئے سب ٹھیک ہو گیا جب اسے معلوم ہوا کے جنت اس کی بچپن والی دوست ہے۔ مطلب کے اب وہ جنت سے اپنے غلط رویئے کی معافی بھی نہیں مانگے گا؟؟ اور جنت بی بی بھی سب صحیح ہے کر دیں گی؟ انسان کی اتنی importance تو ہو کے اگر کوئی کچھ غلط کرے آپ کے ساتھ تو وہ معافی تو مانگے۔
ایک سٹار وہ بھی اس لیے کیونکہ اس سے کم کا آپشن نہیں تھا میں نے خود پر جبر کرکے آخر پورا ناول ختم کیا کیونکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسے پورا نہیں پڑھتے وہ اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ تو انھیں بتاتی چلوں کہ نہیں ، ایسا نہیں ہے ۔ اس ناول میں مارٹل ریپ کا تذکرہ کیا گیا جسے لوگوں نے "حق مہر" کا کہہ کہ جواز پیش کیا کہ یہ جنت کی مرضی سے ہوا بلکہ لوگوں نے داد دی کہ مصنفہ نے کوئی نازیبا بات نہیں کی۔ بہت خوب! آگے چلتے ہیں۔ لوگ فارس کے جارحانہ رویے کو (اپنی بیوی کو دھکا دینا اور اسے بانجھ کہنا پھر اسے اس کی ناکام شادی یاد دلواتے رہنا میری نظر میں جارحانہ ہے ۔ البتہ اگر آپکے پاس اس سے بہتر لفظ ہے تو ضرور بتائیں) یہ کہ جسٹیفائی کرتے ہیں کہ اس نے بعد میں نہ صرف معافی مانگی بلکہ خود کو ذمےدار بھی ٹھہرایا ۔ اور بھی بہت کچھ لیکن معذرت کے ساتھ میرے خیال میں یہ ایک بیوقوفی ہے۔ اس لیے کہ ایک عورت کو بانجھ کہنا اور پرانی شادی کی یاد دلانا نا صرف میاں بیوی کے ایسے رشتے کی جسے ایک دوسرے کا لباس کہا گیا، اس کی توہین ہے، بلکہ اخلاقیات سے گری ہوئی بات بھی ہے۔ فارس کوئی چو چو چھوٹا بچہ نہیں تھا کہ اسے یہ بات نہ پتا ہو ۔ اس نے جانتے بوجھتے یہ بات کی ۔اس کے علاوہ بیوی کو گلے سے پکڑنا وہ بھی اس لیے کہ وہ آپکے کام کیوں کر رہی ہے کیا کسی کی نظر میں غلط بات نہیں ؟ کیا فارس کی معافی اور اس کی محبت اس چیز کا ازالہ کر سکتی ہے؟ لوگوں کا کہنا ہے ہاں لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ آپکا شوہر ، جو آپ کا محافظ ہے ، وہ ایسے کام کرے تو معذرت کے ساتھ یہ "domestic violence" کے زمرے میں آتا ہے۔ اور آپ لوگوں کا تو نہیں پتا لیکن یہ چیز میرا ٹریگر پوائنٹ ہے۔ مصنفہ کو چاہیے تھا اس ہی وقت جنت کو ایک مضبوط عورت کا کردار نبھاتے ہوئے دکھایا جاتا۔ آپ لوگ کبھی ایک بانجھ عورت سے پوچھیں کے اگر اُسکا شوہر اسے بانجھ کہے اور بعد میں معافی مانگ لیے تو کیسا لگے گا؟ ان الفاظ کا طعنہ دینا ایک بانجھ عورت کے لیے گالی ہے۔ آپ کسی ایسی عورت سے پوچھیں جس کا شوہر اسے اپناتا نہ ہو۔ پھر آپکو سمجھ آئے گا کے معافی سے اور محبت سے یہ ہتک اور ذلت بھولائی نہیں جا سکتی۔ یہ ساری عمر کس طرح ایک ناسور کی مانند ساتھ رہتی ہے۔ پھر آپکو سمجھ آئیگا کے جنت کس چیز سے گزری ۔ اور یہ بھی کے مصنفہ نے جنت کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی ۔ فارس نے اسے کمرے سے نکالا ۔ بھئی ، اگر فارس کو غصّے میں دیکھنا تھا تو کو جنت کو عزت سے رکھ کے بھی دکھایا جا سکتا تھا۔ لیکن نہیں ۔ پہلے اسے ایک عقل سے پیدل انسان کی طرح دکھایا گیا جس کی نظر میں اسکی بیوی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اور آپ سب سنت سے واقف ہیں۔ غلط اور صحیح کا فرق پہچانتے ہیں تو پھر فارس کو صحیح کس بات پر کہتے ہیں ۔مصنفہ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کے آپ ایک لکھاری ہونے کے باوجود یہ چیز کیسے لکھ سکتی ہیں؟ Realistic chacarters ایسے ہی ہوتے ہیں جی بالکل بجا فرمایا ۔ ہمیں اس ہی چیز کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اس چیز کو محبت اور ٹرامیٹک پاسٹ کا لبادہ پہنا کر پیش کرنا میری تو سمجھ سے باہر ہے۔ یہ غلط ہے۔ اب اس بارے میں بھی opinions ہیں۔ فارس اور جنت کے درمیان شروع میں نفرت دکھائی گئی اور اس میں مرچ مصالحہ لگانے کے لیے "بانجھ" "ویسے ي ادائیں تمہارے پہلے شوہر پ کام نہیں آئیں" "پتا نہیں کس گناہ کی پاداش میں میرے گلے پڑ گئی ہو" "سنا ہے کافی کالز آتی تھیں تمہیں" "سیلف رسپکٹ کیا اپنے ایکس ہسبنڈ کے گھر بیچ کھائی تم نے" اور یہی نہیں ، موصوف دوسری شادی کا کی دھمکی دی رہے تھے کیونکہ جنت بانجھ ہے۔ ارے ہاں یاد آیا "تم جیسی لڑکیوں کے لئے طلاق بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟" اب یہ ایک aurat- بلکہ ایک مرد نے اپنی بیوی کو کہا۔ اُسکے کردار پر انگلی اٹھائی۔ لیکن بعد میں کیوٹی نے معافی بھی تو مانگ کی نا۔ رومینٹک ہوگیا میرا مسئلہ یہ ہے۔ کے اگر فارس نے ایسی ایسی باتیں کی اس سب کے باوجود اس ناول میں دونوں کے درمیان رومانس دیکھا کیسے دیا؟ کیا ایک عورت کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ اپنے شوہر سے ذلیل ہو کیونکہ وہ اُسکا نان و نفقہ اٹھاتا ہے؟ آپ لوگوں سے یہ بات برداشت ہوگئی لیکن یہ جاہلیت میری برداشت سے باہر ہے۔ ایک مرد اپنی بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھے بعد میں محبت کے دعوے کرکے سب ٹھیک ہوجائے ، دونوں جسے خوشی رہنے لگیں۔ واہ ۔
I swear this book was so addictive. I just couldn’t put it down even with my exams coming up, I wanted to know more and skim it but didn’t want to leave anything behind, so 3 days later I’m am finally done. Just wow!
Great story. Would have been 110% percent better if only it didn't justify marital rape. Jab mere Allah ne apne deen main jabr nahi rakha to main ye kaise maan jaun ke miyan biwi ke rishte main jabr usko qabool hoga?
واہ!!بڑے عرصے بڑے بعد ایسا کچھ پڑھنے کو ملا۔ بڑے عرصے بعد کچھ پڑھنا شروع کیا تو دل کیا ایک ہی نشست میں پڑھ کر ہی اٹھوں۔ اتنا لمبا ناول پڑھ کر بھی دل کیا ابھی تھوڑا اور پڑھنا چاہتی ہوں۔ فارس کو جنت کو❤ کیا خوبصورت کردار تخلیق کیے گئے۔ ان کے دکھ محسوس کر کے بہت روئی، ان کی بیوقوفیاں پڑھ کر سر پیٹا نوک جھوک پڑھ کر ہنسی۔ ہر کردار کا حق ادا کیا گیا❤❤
اس کہانی میں ایک بہت بڑا ٹویسٹ تھا، لوگ اس پر بات ہی نہیں کرتے۔ پہلی ہی رات "بیوی" کو کمرے سے نکالنا، ہر موقع پر اسے ذلیل کرنا، اسی کے میکے کی شادی میں اسے پارکنگ میں چھوڑ کر اس کے کردار پر سوال اٹھانا، اس کو اس کی طلاق اور "بانجھ" ہونے کا طعنہ دینا، گلا دبانا، حق مہر اس کے منہ پر مار کر حق وصول کر کے اس پر ہی احسان کرنا۔۔۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے یہ یقیناً ولن ہے۔ ارے یہی تو ٹویسٹ ہے۔ یہ ہیرو ہے اس کہانی کا۔۔۔۔۔۔ہاں سچ میں۔
اس ناول کی کہانی یہ ہے کہ ہیرو ہیروئن دونوں کو اپنے اپنے بچپن سے اور پہلی شادی سے ٹراما ہوتا ہے لیکن پھر حالات کے پیشِ نظر ان دونوں کی ہی شادی کروا دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے ہیرو بالکل راضی نہیں اور کیونکہ "اپر ہینڈ" وہ رکھتا ہے تو وہ ہیروئن کے "زبردستی" اپنی زندگی میں گھسنے کی وجہ سے اس کے ساتھ ہر غلط سے غلط رویہ اپنا سکتا ہے۔ خود ساختہ تدبر کے ساتھ کچھ اسلام کا تڑکہ بھی لگتا رہتا ہے لیکن یہ صرف ہیروئن کے صبر تک محدود ہے۔ اور پھر۔۔۔۔۔۔ کچھ "حقیقتیں" منظر عام پر آتی ہیں تو ساتھ ہی "محبت" بھی۔
ہیرو نے ہیروئن کے ساتھ ہر گھٹیا سے گھٹیا سلوک کیا۔ چونکہ میں نے ڈائجسٹ اور پی ڈی ایف سے پڑھا تھا تو چند ایک وہ سینز بھی پڑھے جو اب کتاب سے نکال دیے گئے ہیں کیونکہ ان پر مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے کہ اگر ایسا رویہ کوئی اختیار کرتا ہے تو اسے "ہیرو" کیوں کہا جاتا ہے؟ فارس کے رویے کی توجیہ یہ دی جاتی ہے کہ اسے "ٹراما" تھا۔ اس کے ساتھ بچپن سے غلط ہوا، اس کی پہلی بیوی نے بھی اس کے ساتھ غلط کیا تو اتنا تلخ ہو جاتا ہے انسان۔ ٹھیک ہے۔ لیکن جنت بھی تو تھی۔ اس کا ٹراما بہرحال فارس جتنا ہی تھا بلکہ اس سے زیادہ۔ (مجھے جنت بھی مظلوم یا اچھا کردار نہیں لگی کہ اس نے اپنے ساتھ یہ ہونے دیا۔ خیر) لیکن جنت نے پھر بھی اس "ٹراما" کے زیرِ اثر دوسروں کی زندگی جہنم نہیں بنائی۔ اب اس پر یہ کہا جائے گا کہ اس کے پاس اس کے نانا ڈاکٹر مصطفیٰ تھے، وہ سنبھل گئی۔ فارس کے پاس بھی جمیلہ داؤد تھیں۔ وہ اپنی دوسری "بہو" کو "عسری یسرا" کا تدبر اور لیکچر دے سکتی تھیں لیکن اپنے ہی بیٹے کو نہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں؟ اس کو بھی کہتیں کہ صبر کرو۔ مشکلوں کے ساتھ آسانی ہے۔ اس کے رویے کو جنت کے سامنے شہزادوں کی کہانی سنا کر جسٹفائی کر دیا. ایک چیز جو اردو پاپولر فکشن میں ٹرینڈ بن چکی ہے وہ ہے قرآن کا "خودساختہ تدبر"۔ تدبر اتنا آسان نہیں ہے کہ آپ نے ایک آیت پڑھ لی ہے تو اپنی زندگی کے حالات کے پیشِ نظر آپ کو جو سمجھ آ رہا اسے اپنی مرضی کے مطلب میں ڈھال لیں۔ علماء نے ایسے ہی اپنی زندگیاں لگا لگا کر کتابیں لکھی ہیں؟ ناولز سے کون دین سیکھتا اور سکھاتا ہے؟ اصل کتاب سب پاس پڑی ہے، مستند اسلامی کتابیں موجود ہیں، اٹھیں اور پڑھیں وہاں سے سیکھیں اور سکھائیں۔ نہ کہ اپنے گھٹیا عشقیہ ناولوں میں اپنے ہی دین کا مذاق بنائیں۔ اس ناول میں بہت غلط طریقے سے مصنفہ نے ایک "ظلم برداشت" کرنے کو صبر کا نام دیا ہے۔ ہمیں صبر کرنے کا حکم ہے، ظلم برداشت کرنے کا نہیں۔ صبر اور برداشت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اور پڑھنے والوں کا بھی حال یہ ہے کہ اس کردار کا دفاع یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ اسے ٹراما تھا۔ آخر وہ ہیرو ہے، امیر بھی ہے، خوش شکل بھی دکھایا گیا، اوپر سے ہیزل آنکھیں تو اسے معاف کردیا جاتا ہے کیونکہ بتایا تو ہے ہیرو ہے وہ۔ لیکن یہی کام اگر جنت کا پہلا شوہر کر رہا تھا تو وہ غلط ہے کیونکہ وہ ولن ہے یا کسی بھی کہانی کا کوئی کردار اگر وہ امیر اور خوش شکل نہ ہو اور ایسا کام کرے تو اسے غلط ہی سمجھا جائے گا۔ کرداروں کو چھوڑ کر اصل زندگی کی ہی بات کر لیں۔ کوئی بھی عقل رکھنے والا انسان، اپنی بیوی کے ساتھ اس طرح کے سلوک کرنے والے کو غلط ہی کہے گا، یا ایسوں کو بھی "ہیرو" کا لقب دیا جائے گا؟ اب یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر اس نے اپنے غلط رویے کی معافی بھی تو مانگ لی تھی۔ وہ معافی ایسی تھی کہ مجھے تمہاری آنکھ میں آنسو لانے والا نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ تم ڈاکٹر مصطفیٰ کی نواسی تھی۔ گویا جنت کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس کی خیر تھی اس کو یہ معافی بھی نہ ملتی۔ ایسی معافی مانگی تھی اس نے۔ زبردستی کی شادی کے بعد، ہیرو کے ظلم کے بعد ہیروئن کا اسے معاف کر دینا اور پھر انہیں "ہیپی اینڈنگ" دے دینا بہت غلط ہے۔ (اس سے مجھے محبت دل پہ دستک والا اس نوفل کا کردار یاد آتا ہے۔ اس کو بھی تو سب گھٹیا سمجھتے ہیں حالانکہ معافی تو اس نے بھی مانگ لی تھی، ہیپی اینڈنگ بھی مل گئی تھی اسے) اصل زندگی میں ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی عورت اپنے ساتھ کیا جانے والا ایسا سلوک بھول سکتی ہے خاص کر تب جب اس کا اس دنیا میں کوئی ہو بھی نہ؟
مصنفہ کا اندازِ تحریر اچھا تھا اور چند ایک سینز پسند آئے۔ اس کے علاوہ بہت ہی روایتی لیکن گھٹیا کہانی ہے یہ۔ ایک سٹار ریٹنگ دینے کی بھی روادار نہیں میں تو۔
پی ڈی ایف کے صفحہ نمبر 102 سے 104 تک اور ڈائجسٹ کی دوسری قسط میں اپنے "ہیرو" کا اپنی "بیوی" کے ساتھ سین ملاحظہ فرمائیں:
پارکنگ ایریا میں اسے گاڑی کے پاس کھڑا دیکھ کر اس کی اٹکی ہوئی سانسیں ایک لمحے میں بحال ہوئی تھیں۔ "جتنے لوگ ہیں ، اتنی ہی کہانیاں ہیں اور ہر کہانی ایک سے بڑھ کر ایک انٹرسٹنگ ہے ۔ " وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں میں تضحیک ... جنت کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔
"تم جیسی لڑکیوں کے لیے بھلا طلاق بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟" "سنا ہے کافی افیئرز تھے تمہارے سنا ہے رانگ کالز آتی تھیں" اس نے سر گراد یا جھکا دیا. ہار مان لی مگر وہ "فارس" تھا۔ حملے سے باز پھر بھی نہ آیا۔
"ویسے طلاق کا سبب تمہارا وہی کارنامہ تھا یا پھر کوئی اور وجہ تھی ؟" "جو کچھ سن چکا ہوں وہ سب ممی کو بتاؤں گا تو وہ کیا سوچیں گی ؟ ایک ایسی لڑکی کو بہو بنا بیٹھی ہیں جو infertile ہے۔ جس نے اپنی سوتن کے بچے کی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ جس کے خاندان کے لوگ اسے اچھوت کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔ اور جوانی ماں کےموت کا سب بنی ہے۔" سانس روکے ، لب بھینچے اس نے سر اٹھا کر فارس کو دیکھا، وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ سرد پتھر ملی نگاہوں کچھ نفرت، کچھ حقارت سے کچھ بے رحمی، کچھ بیزاریت سے۔
"میں کل شام کی فلائٹ سے لندن جا رہا ہوں ممی کو فون پر کہہ دینا تم یہاں اپنی مرضی سے رک گئی ہو، جب تک میں واپس نہیں آؤں گا تم اپنی خالہ کے پاس ہی رہوگی ، اور ہاں ! اس نے رک کر تنبیہی نگاہوں سے جنت کو دیکھا، پھر انگلی اٹھا کر زہر خند لہجے میں دھمکی دی۔ اب اگر تم نے من مانی کی تو مجھ سے برا واقعی میں کوئی نہیں ہو گا ۔"
I do not stand by domestic violence. No matter what kind of man he is, no matter what happened in his past, and no matter how much trauma he has endured—nothing ever justifies abuse. It is never acceptable for someone to torture, manipulate, or be so toxic to another person.
The idea that trauma erases accountability is beyond dangerous. If we start justifying an abuser’s actions because of their past, then should we also excuse serial killers and murderers just because they had trauma too? Where does it end?
This book is a direct attack on the progress society has made. What are we supposed to learn from it? That if a man has trauma, he can treat a woman however he pleases, and we’ll just forgive him? That choking someone, degrading them, and calling his own wife characterless is okay as long as he’s "broken inside"?
And the worst part? He gets a romantic happy ending. Why? Why does a man who tortured someone, who was cruel beyond limits get a romantic happy ending with his victim?i am not saying that he doesn't desserve happiness!everyone does! But the fact that he got a romantic ending with his VICTIM! That is not acceptable at all! If this book had an ending where he faced consequences—if he lost her and then also fixed himself!this would've been a lil acceptable!
And people still defend Faris Wajdan. Why? Because he had trauma? What kind of trauma makes a man this horrible? And we still justify him? Every house has a man like this. Every. Single. House. So now, are we supposed to say, “Oh, you’re doing domestic violence? It’s okay. You had trauma. It’s all fine.”
Is that the world we’re building? It’s 2025. Grow up. Stop romanticizing abuse.
Let me start by saying—I’m no saint. Yes I read dark romance, and I’ve come across some seriously messed-up stories that I still liked. But when it comes to Urdu novels, my mindset is different. I read them to strengthen my faith, not to see my religion misrepresented.
Where does Islam say, ‘Tolerate your abusive husband because he had a traumatic past or is mentally unstable’? Justifying abuse and marital rape in the name of religion is beyond messed up.
Women are already judged and questioned for everything by society, and now you want them to believe Islam doesn’t protect them either?
Quoting Quranic verses in the worst possible contexts? I DNF’d the book at 600 pages—it was pure torture. The constant misuse of religious references was unbearable.
Maybe it’s just me, but I can’t stomach seeing domestic violence, abuse, and marital rape excused under the name of Islam. Because Islam does NOT support it.
FARIS WIJDAN AND JANNAT KAMAL! 🖤 The way their trials and heartbreaks are explained and the way they struggle through it all and found each other in the end! You'll laugh with them, cry with them and end up falling in love with them ❤️
This entire review has been hidden because of spoilers.
کہانی عام اور جانے پہچانے ٹروپس رکھنے کے باوجود بھی کافی دلچسپ ہے۔خاص طور پر مرکزی کرداروں کے پچھلے واقعات جو مصنفہ نے تھوڑے تھوڑے کر کے ظاہر کیے جسکی وجہ سے تجسس برقرار رہا۔ ناول کا عنوان اور اس سے متعلقہ میسج بھی اچھا ہے ... یعنی کسی حال میں بھی مایوس نہ ہوں اور اللہ سے بہتری کی امید لازمی لگائے رکھیں ... مزیدار ناول ہے اسی لیے میں نے بھی 3,4 دن کے اندر پڑھ کے مکایا۔ .... لیکن ، بہرحال کچھ خامیاں/ ناقابل تعریف باتیں بھی نوٹ ہو ہی جاتی ہیں😅 : جیسا کہ ( آگے سپائلرز ہیں) ...✓ جنت جب اپنے گھر سے بھاگ گئی تھی تو ایک جگہ ذکر ہوتا ہے کہ وہ "محض 22 سال کی لڑکی تھی" مگر کیسے ؟ 18 سال کی عمر میں اسکی شادی برہان سے ہوئی جو 5 سال چلی اور اسکے بعد اگر فوراً بھی اسکی دوسری شادی ہوئی تو بھی وہ ابھی تک 22 سال کی ہی ہے ـ کیسے؟ ✓ راحم کا کردار بس فلیٹ ہی لگا جسکا مقصد وقت پڑنے پر اپنی ہیکنگ کی مہارت کا استعمال کرکے فارس کی مدد کرنا تھا۔ ولیم اور جیمز بھی فلر کیریکٹرز لگے . ✓ فارس اور جنت کی گفتگو کہیں کہیں تو مزاحیہ لگی مگر مجموعی طور پر انکی اکثر بات چیت سے جنت کے کم عقل ہونے کا شبه بھی ہوتا ہے ...🤦 ✓ پھر یہ کہ فارس کاجنت کیساتھ شروع شروع والا خراب رویه مکمل طور پر بلا جواز تھا ... اوپر سے اسکی ممی کا جنت کو یہ کہنا کہ جب مجھے فارس سے کوئی گلہ نہیں توتم بھی اس سے کچھ مت پوچھو ...ماضی کے ٹراما اور ظلم وستم کی وجہ سے وہ ایسا ہو گیا ہے ... (واہ بھئی واہ! ہم نے خود سے توکسی کو کچھ بتانا ہی نہیں اور اگر کوئی ہم سے پوچھ بیٹھے تو اسکو آنکھیں دکھانی اور اسکی گچی مروڑ دینی ہے ) 😡 ...لیکن پھر قارئین کو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ فارس اپنے ساتھ ہونے والے تمام مظالم کا ذمہ دار اپنے دادا کو ٹھہراتا تھا .... وہی دادا مسٹر اعظم شیرازی جن کو اس نے بستر مرگ پر بتا دیا تھا کہ نہ صرف وہ انھیں معاف کرچکا بلکہ ان کے کاروبار کی ذمہ داری قبول کرنے کو بھی تیار ہو گیا تھا ... تو پھر جنت سے کس بات کا بدله لینا تھا؟🤔 ✓ مزید یہ کہ مذہب سے دلچسپی صرف خواتین تک ہی محدود رہی ... فارس کو کہیں بھی نماز یا قرآن پڑھتے نہیں دکھایا گیا ... *قصه مختصر , بات اگر فارس کی وجاہت ، دراز قد اور کالے ٹراؤزر پر آسمانی رنگ کی شرٹ کے جچنے کی نہ ہوتی تو جب اس نے جنت کو اسکے کردار کے طعنے دیئے اور پھر اسکی گردن دبوچ کر اسے ڈرایا : وہاں سے آگے پھر شائد ہی کوئی ناول جاری رکھتا کجا یہ ہائی ریٹنگز* 🙊🙉🙈 اور ہاں: یہاں لوگ سانس نہیں ، تنفس لیتے ہیں ـ
This book literally romanticised domestic abuse and justified it in the name of Islam.
Islam mai kahan likha hai domestic violence bardasht kiya jaye? kahin nahi. Islam kehta hai jo zulm bardasht karta hai woh woh zalim khud hai, toh writer ne har cheez islam ke naam pe kyun justify ki hai, book ko SABR per likha lekin yeh kahan ka sabr ke nam pe marital rape (writer kehti marital rape nahi huwa because she can't say no according to rules of haq mehar like wow that's such a great way to defend marital rape yeh rules tab kidhr the jab faris ne gardan se pakar kar kamre se nikala tha? ) bardasht karo shohar se maar khao? Usne uska gala pakra tha mental torture ki toh alag hi poori story hai. Shaadi ke pehle din hi kamre se bahir nikala tha aur yeh sab isliye kyunke woh traumatised tha? Maine aj tak nahi dekha real life mai traumatised mardon ko yeh karte huwe, it's always the ones with superior thinking jinki ghalat parwarish hoti hai.
Phir writer kehti hain ke kya asal mai aisa nahi hota? Asal mai 100% yeh sab hota hai lekin aap jese writers agar tarbiyat karen gi toh aur kya hi hoga aur asal zindagi mai romantise kahin nahi hota yeh woh aurton jo yeh sab bardasht karti woh inteha ki majbur hoti hain.
I would give this novel 4 stars because I absolutely love the story, but I have to dock a point for its length. 1450 pages? Seriously? I've read lengthy novels before, but the beginning had too many unnecessary cringe scenes of Jannat.However, I adore the character of Faris and his storyline, especially his bond with Jameela Daud. The plot, twists, and structure were all perfect, but I feel it could have been summed up in fewer pages. I wish the writer had developed Jannat’s character as well as she did Faris's because she acted childish in overall novel and it was CRINGE, I enjoyed Faris scenes with others more than with her I mean this is the first time i didn't enjoy a couple's scene together lol. Well, it was a good read or idk maybe?
P.S. I still can't find the scene where she slapped Faris :/
I have read the novel properly, and I understand that Faris had trauma. Nothing Faris had trauma, but that didn’t give him the right to take it out on Jannat by abusing her and being cruel to her.
Domestic violence is not something to be ignored.
This novel didn’t have any main plot
But yes, the verse that Jameela explained was very beautiful.
What a novel! After so long I found a good novel which is lengthy and not boring. Faris and jannat were such amazing characters. Their banter, their history everything was written perfectly. Can someone please more arranged marriage based novels like this one
The writing style was good but I didn't like the way author justified abuse. Abuse whether it's physical or mental is totally unacceptable and then justifying it using Islam is even worse. I would never recommend this to anyone. Also there was martial rape in it which made it even more worse.
Shroo se start krty hain… I wasn't expecting that after everything that was happening in their marriage, they would still have a child… like seriously bro?? ( and for me it’s considered as a marital r**e but the thing is this part of story can be written in some better way) If I was reading a novel from the 1900s, maybe I would’ve understood, but this was released just last year, I think? Even in fiction, these things don’t make sense anymore 🙂↔️🥲
Usky baad Jamila sahiba not knowing about Jannat’s past was still understandable, but after finding out—why was she only worried about her son’s past traumas?? When Jannat’s entire life of pain is right in front of her.
The writing style was a 10/10 for me… And yeah, the novel was long, but since it was a complex story, I think that’s justified. Other than that—for the writer’s first published complete novel story, it was really good. Best of luck for the future… In the end, every story has its loopholes—whether in fiction or reality
Usri Yusra is truly one of the most beautiful books I've ever read—deeply touching and close to my heart. It carries a powerful message: after every difficulty (عُسر), there is ease (یُسر). Sometimes we see the happiness clearly, and other times it unfolds in ways we don't immediately recognize.
The story follows two characters, Jannat and Faris, and their journey is filled with emotions, challenges, and hope. It's a reminder that no matter how hard life gets, better days always come. A truly inspiring and well-written novel. ❤️
4.25 This is my first urdu novel that I did complete. The writing was good and I loved the reflections of the quran through the characters. It took me a long long time to finish it. Made me cry and laugh. It was a good read.