ہمیشہ کی طرح سمیرا کے الفاظ زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا طرز تحریر بہت منفرد ، مسحور کن اور خوبصورت ہے ، قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہیں۔ سمیرا کے الفاظ ہمیشہ پرامید ہوتے ہیں جہاں زندگی کی تلخیاں آپ کو مایوسی کے صحرا کا مسافر بنا دیتی ہیں جہاں چلتے جاؤ چلتے جاؤ نہ کوئی زادِ سفر اور نہ کوئی منزل ، وہاں سمیرا کے الفاظ اُمید کی ڈور تھما کر آپ کو مایوسی کے بھنور سے نکالنے کا کام کرتے ہیں۔ مجھے سمیرا کی سب سے اچھی بات یہی لگتی ہے کہ ان کے الفاظ پرامید ہوتے ہیں جو لوگ تھک کر مایوس ہوکر بیٹھ جاتے ہیں ان کو دوبارہ اُٹھ کر مسکرا کر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
ولی بارہ افسانوں پر مشتمل کتاب ہے جس کی ہر کہانی معاشرے کی بھرپور عکاسی کررہی ہے۔ جہاں آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ خدا ہر مضطرب دھڑکن کی دعا بھی قبول کرتا ہے جہاں خدا ان گنت صفات کا مالک ہے اُن میں وہ سب سے زیادہ رحیم بھی ہے۔ وه بندوں پر ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ۔ یہ ہم ہیں جو اُس کے ساتھ ضد لگا کے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر یہی ضد ہمارے حلق کا کانٹا بن جاتی ہے۔ خدا اپنے بندوں میں اپنی کوئی صفت رکھ دیتا ہے جو اُس صفت کو پہچان گیا اور اُسے اُسی کی مخلوق کے کاموں میں صرف کرے ، اُسی کا فلاح پانے والوں میں شمار ہو گا۔
جہاں مرد عورت کو دین دار بنا کر اپنا ایمان کامل کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف عورت مرد کا اس طرح استعمال کرتی ہے کہ اُسے پیسے کی مشین سمجھ بیٹھتی ہے ، جہاں مرد اپنی خواہشات قربان کر کے اپنی زندگی اپنے خاندان کے لیے وقف کردیتا ہے۔جہاں انسان دوسرے انسان کے جسمانی نقص یا ظاہری خامی کو نظرانداز نہیں کر سکتا وہاں خدا اُسے ایسا ہنر عطا کرتا ہے کہ ظاہری خامی اُس کے آگے حقیر بن جاتی ہے۔ جہاں انسان اپنے نفس کے فریب میں آ کر حلال چھوڑ کر حرام کاراستہ اپناتا ہے پھر نادان انسان دوسرے کو بدکار ثابت کرکے اور خود کو پاکدامن سمجھ کر ہرگناہ سے بری الزمہ ہوجاتا ہے۔
جہاں معاشرے کی ذات پات اور طبقاتی تقسیم انسانوں کے دل پر پاؤں رکھ کر بڑی بے رحمی سے ان کے ہنستے بستے دل ویران کر دیتی ہے۔ ہم انسان اگر دوسرے انسانوں کی اپنے متعلق سوچ جان لیں تو ہمارا جینا کس قدر مشکل ہو جائے اور ہمیں انسانوں سے کراہیت آنے لگے ۔ بے خبری بھی کسی نعمت سے کم نہیں ۔
جہاں انسان اپنے اعمال پر عاجز ہونے کے بجائے تکبر اور گھمنڈ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے پھر خدا کو اس کا متبکر ہونا جچتا نہیں اور یوں وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے اعمال ضائع کر بیٹھتا ہے۔
میرے خیال میں اِس کتاب میں بعض افسانے ایسے ہیں جنہیں سمیرا زیادہ بہتر انداز میں لکھ سکتیں تھیں ۔ فقط لائبہ احمد
اس قدر مختصر لیکن پر اثر تحریر۔ مجھے حیرت ہوئی اور نہیں بھی۔ سمیرا حمید بہت ہی بہترین لکھتی ہیں خواہ موضوع دین اور بندے کا خالق سے تعلق ہو یا رومانوی محبت۔
کتاب میں کل 12 کہانیاں ہیں ہر کہانی ایک دوسرے سے الگ لیکن سبق آموز ہیں- میں نے سمیرہ حمید کے اب تک جتنی بھی کتابیں پڑھی ہیں سبھی بہترین رہی ہیں جن میں ام الیقین، طواف عشق، راہ نور, محبت من محرم, خیال یار اور اب ولی شامل ہیں - سمیرہ حمید بلاشبہ ایک بہترین لکھاری ہیں اور میری پسندیدہ بھی ہیں جن کی مقبولیت پاکستان میں تو ہے ہی اب ہندوستان میں بھی بڑھتی جا رہی ہے جس کی کئ وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ انکی کتابیں positivity اور امید سے پر رہتی ہیں وہ اپنے قاری کو ناامیدیوں میں گھرا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں- الفاظ کے ذریعہ کسی دکھی اور ٹوٹے دل پر مرہم کیسے رکھا جاتا ہے یہ سمیرہ بخوبی جانتی ہیں - یہ تو ہو گئ مصنفہ کی بات اب آتے ہیں کتاب کی طرف تو یہ کتاب کل 12 افسانوں پر مشتمل ہے جن میں سے میری سب سے پسندیدہ کہانی ہے "محب رب" محب رب ایک درویش صفت آدمی کی کہانی ہے جس کے پاس جادوئی آئنا ہوتا ہے جو لوگوں کی حقیقت کھول کر رکھ دیتا ہے ایسے ہی ایک روز درویش صفت آدمی ایک تقریب میں شرکت کرتا ہے جہاں شہر کی بڑی بڑی شخصیت موجود ہوتی ہیں اس تقریب میں موجود 4 شخص اس آئنے میں اپنی زندگی کی حقیقت دیکھتے ہیں جن میں سے تین لوگوں کی حقیقت وہ آینا کھول کر رکھ دیتا ہے لیکن چوتھا شخص ان تینوں کا انجام دیکھ کر اللہ کے حضور توبہ کر لیتا ہے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے دنیا والوں کے سامنے رسوا ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ - اگر آپ کو short stories پڑھنا پسند ہے تو یہ کتاب آپ کے لیے ہے - اس کتاب کی اندر معاشرے میں پھیلی برائیوں کو بڑے عمدہ طریقے سے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے- مصنفہ نے ہر پہلو ہر منظر بہترین طریقے سے صفحہ پر اتارا ہے ایسا لگتا ہے جیسے مصنفہ نے ہر طبقے کا بہت قریب اور باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے چھوٹی سے چھوٹی بات بڑی ہی باریکی سے بیان کی گئی ہے مختصر یہ کہ کتاب پڑھے جانے کے قابل ہے- اس کتاب کو اپنی ٹی بی آر لسٹ میں ضرور شامل کرئیےگا-
• کیا تمہیں یہ کسی انعام سے کم لگتا ہے؟ تم ان کی شہادتوں کی گواہ ہو؟
• کیا خدا کو گواہوں کی ضرورت ہے؟ وہ سب جانتا ہے.
• وہ سب جانتا ہے لیکن روز قیامت وہ اپنے لیے نہیں ” ہمارے لیے گواہ سامنے لائے گا۔ وہ انصاف پسند ہے، وہ سیدھے سیدھے سزا سنانا نہیں چاہتا۔ ورنہ یوم جز ا صرف یوم سزا ہوتا ۔
It is a must read book 📖. Everyone should read it and must have in their shelves💟🤌🏻. It is so beautifully written ❤. Each story is imapactful, either its Zahra, Jamal, Dinaar, khadija every character is a complete story 💟🛐🤌🏻.