مہرِ ثبت” ایسی کہانی ہے جو ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ دنیا کے بیشتر لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں۔ جب تک آپ کے پاس کچھ ہوتا ہے، وہ آپ کے قدموں میں بیٹھنے کو تیار ہوتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی آپ کا وقت بدلتا ہے، وہی لوگ آپ کو زمین میں دفن کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ کہانی انسانی منافقت، وقتی رشتوں اور اصل ثابت قدمی کے مفہوم کو نہایت خوبصورتی سے واضح کرتی ہے۔
کچھ کتابیں اور الفاظ انسان اس وقت ہی پڑھتا ہے جب اسے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بھی میرے لیے ایسی ہی کتاب ہے جسے میں نے صحیح وقت پر پڑھا ہے۔ اس کتاب میں شامل کئی کہانیاں میری پسندیدہ ہیں❤️
اگر آپ مختصر مگر اچھی ، زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بیان کرتی اور معاشرے کی خودغرضانہ سوچ کا پردہ چاک کرتی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ سمیرا حمید کے الفاظ میں اللہ تعالی نے بہت تاثیر رکھی ہے۔ ان کی کہانیوں کے موضوعات منفرد اور الفاظ کا چناؤ بہترین ہوتا ہے۔ مختصر کہانی ہو یا طویل ناول وہ اپنی کہانیوں کے موضوعات کے ساتھ بھرپور انصاف کرتی ہیں اور کہانیوں کو بلا وجہ طول بھی نہیں دیتیں۔
زیر تبصرہ کتاب میں شامل کہانیاں مصنفہ کے اوائل زمانے کی ہیں۔ سمیرا کا پہلا افسانہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ یہ مختصر کہانیاں معاشرے سے متعلق مصنفہ کے گہرے مشاہدے اور پختہ سوچ کی عکاس ہیں۔ اس کتاب میں شامل زیادہ تر افسانے عورتوں کو (بحیثیت ماں ، بیوی ، بیٹی اور عورت ) درپیش مسائل خصوصاً ازدواجی زندگی کے مسائل کے بارے میں ہیں۔ عورت کے ساتھ بحیثیت بیوی اور بہو ہمارے معاشرے میں جو سلوک کیا جاتا ہے اور اس سلوک کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوان لڑکیوں کے شادی کو لے کر جو تحفظات ہیں، سمیرا نے ان کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ یہ کہانیاں ہمارے معاشرے کا وہ گھناؤنا روپ دکھاتی ہیں جہاں کسی ایک عورت کی غلطی کی بنا پر، غیرت کے نام پر پوری عورت ذات پر بدکاری کا ٹھپہ لگا کر پورے گاؤں کی نومولود لڑکیوں کو ان کی ماؤں کی آنکھوں کے سامنے ان کے باپ ، بھائی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اور کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہوتا۔ یہ اس بے بسی اور تکلیف کا بیان ہیں جو کسی مرد کی دل لگی کی خاطر کی جانے والی محبت کی وجہ سے عورت کے دل اور زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔
یہ اس نوجوان کی کہانی ہے جس کی ایک لمحے کی غفلت نے اسے عشق حقیقی کی راہ سے بھٹکا کر عشق مجازی کی راہ کا مسافر بنا دیا اور خاک کر دیا۔ یہ دو ایسے مسافروں کی کہانی ہے جنہوں نے ایک ہی راستے پر سفر کیا مگر ایک موتی اٹھا لایا اور دوسرا پتھر، کہ وہ علم جو انسان کے دل میں بڑائی اور تکبر پیدا کر دے وہ سنگ لاحاصل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور یہ کہانی ہے ان لوگوں کی جو رب کو ساتھی مان کر کبھی تنہا نہیں رہتے کہ رب خود پر توکل کرنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہ کہانیاں اگر ہمیں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقت دکھاتی ہیں تو اسی معاشرے کا فرد ہونے کے ناطے ہمیں اپنا جائزہ لینے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔
I have always been a fan of Sumaira Hameed's writing style. The way she tells a simple story but with a deep meaning. This one was same too. Everything was good but I didn't understand the part why village people were asking everything from Sidree, instead of that they should have asked to Allah directly. When you are in pain you don't go to a Huzur and ask him to pray in your place, if you're suffering that means Allah wants you to return to him before you return to him.