کتاب “چار آدمی” ڈاکٹر امجد ساقب کی تصنیف ہے، جو چار ممتاز شخصیتوں کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب سر گاندھرام، ڈاکٹر امجد ساقب، مین میراج خالد، اور ڈاکٹر رشید چوہدری کی زندگیوں اور ان کے انقلابی کاموں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ چاروں افراد نے اپنی محنت کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی مدد کی اور مثبت تبدیلیاں لائیں۔
ہماری ذہنی پریشانیوں اور پاگل پن کی وجہ یہی لفظ " کیوں" ہے۔ ہم میں سے کچھ اس کیوں کے ساتھ نباہ کر لیتے ہیں وہ پاگل خانے سے باہر ہیں اور جن کو اس کیوں کا جواب نہیں ملتا وہ پاگل خانے کے اندر ہیں۔ کیا ایسا ممکن نہیں کے ہم لغت سے اس لفظ کیوں کو ختم کر دے یا پھر ہمارے ارد گرد موجود ہر " کیوں " کا جواب دے دیں۔۔۔۔ #چار_آدمی ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب
کتاب کا نام: چار آدمی مصنف کا نام: ڈاکٹر امجد ثاقب صنف: سوانح صفحات کی تعداد: 336 اشاعتی ادارہ: بک کارنر جہلم قیمت: 1250
یہ کتاب میرے ہاتھ کیسے لگی،یہ داستان بھی عجیب ہے۔ اس سے پہلے میں ڈاکٹر امجد ثاقب سے واقف ہی نہیں تھی(یہ میری کم مائیگی ہے)۔ پھر میرے شوہر نے اسلام آباد میں اخوت کا ایک ڈونر ایونٹ اٹینڈ کیا۔ وہاں یہ کتاب charity کی مد میں خریدی گئی اور میرے ہاتھ گویا خزانہ لگ گیا۔
اس کتاب کا صرف عنوان ہی "چار آدمی" نہیں ہے بلکہ یہ لکھی بھی واحد متکلم کے صیغے میں چار مختلف اسالیب کے ساتھ ہے۔ تحقیق اور معلومات تو ظاہر ہے ڈاکٹر امجد ثاقب کی کشید کردہ ہیں مگر واحد متکلم کے صیغے میں جب رشید چودھری اپنی کہانی سناتے ہیں تو اس میں انکی ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں سے ہمدردری، پاکستان میں اس حوالے سے پائی جانے والی جہالت پر دل گرفتگی اور فاؤنٹین ہاؤس کو موجوہ شکل تک پہنچانے کے سفر میں مدد کرنے والے ہر شخص لیے سپاس گزاری کا جذبہ نظر آتا ہے۔ جناب ملک معراج خالد جب اپنی کہانی سناتے ہیں تو اس میں انکی شخصی سادگی کے ساتھ ساتھ استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف گھن گرج، نوکر شاہی نظام سے بیزاری اور تبدیلی کی کروٹ لیتی امنگ صاف محسوس ہوتی ہے۔ جب گنگا رام اپنی کہانی کا آغاز کرتے ہیں تو اسلوب میں جہاں رعب، دبدبہ اور عزم اپنی جگہ بناتا ہے وہاں لاہور کی تاریخ بھی قاری کے علم میں اضافے کا عزم لیے داخل ہو جاتی ہے۔
اس منفرد اسلوب کی وجہ سے کتاب خشک نہیں لگتی بلکہ کئی مقامات پر تو آپ بھول ہی جاتے ہیں کہ آپ سوانح پڑھ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ چار کرداروں ر مشتمل ایک ناول ہے جسمیں ضمنا کئی اور کردار بھی گاہے گاہے اپنی چھب دکھاتے چلے جاتے ہیں۔ اور شاید مصنف نے یہ داستانیں اس واحد متکلم اسلوب میں لکھی بھی اسی لیے ہیں کہ ایسی نابغہ روزگار ہستیاں مرتی ہی کہاں ہیں، وہ تو اپنی باقی رہ جانے والی نیکیوں کے باعث ہمیشہ زندہ رہتی ہیں
اب بات ہو چار آدمیوں کی:
رشید چودھری صاحب کی شخصیت کی حلاوت دل موہ لینے والی تھی۔ انہوں نے خدمت خلق کو اپنا قبلہ بنا کر تب من دھن سب اس پر لگا دیا اور پھر اتنی برکت پائی کے محبت کے اس سرچشمے سے ابھی بھی بیسیوں سوتے پھوٹ رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔
جناب معراج خالد درد دل رکھنے والے آدمی تھے بچپن سے ہی نظام اوقات ترتیب دینے کے عادی ،گہہ سیاست میں بھی پاکیزگی کی مثال بن گئے۔ انجمن اخوان، دیہات سدھار، ایفرو ایشیائی اتحاد کی کوششوں سے لے کر، سامراجی استحصالی نظام کے خلاف للکار تادم آخر مدھم یا ملفوف نہ ہوئی۔
میں سر گنگا رام کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئی ہوں۔ انکی شخصیت میں جو بات مجھے پسند آئی وہ انکا رعب، دبدبہ، کام سے لگن اور لفظی اور تقریری داؤ پیچ میں الجھنے کی بجائے عملی میدان میں طاقت صرف کرنا تھی، اسکے علاہ قدیمی روایات اور جدید طرز فکر کو ساتھ لے کر چلنا انکی ایسی خوبی تھی جو ہمارے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو سیکھنی چاہیے ۔ لاہور سے انکا عشق قابل تحسین اور قابل رشک تھا۔ افسوس کی ہم نے مذہبی تعصب یا پتہ نہیں کن بنیادوں پر گنگا رام کو بھلا دیا۔ نئی نسل کو بتایا تک نہیں کہ آدھے سے زیادہ لاہور تو ہے ہی گنگا رام کے ذوق تعمیر کا رہین منت ۔ اور نہیں تو طلبا ان سے لگن، انتھک محنت،اور وسعت قلبی ہی سیکھ لیتے۔
ان سب کے علاوہ کتاب کے آخر میں "اخوت" سے باضابطہ اور تفصیلی تعارف بہت سود مند اور امید افزا ثابت ہوا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب!!! واہ!!!!!کیسا انسان ہے جو سود کی لعنت ختم کرنا چاہتا ہے۔ طوائفوں کے بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو دوست رکھتا ہے، انہیں ہنر سکھاتا اور جیب خرچ دیتا ہے۔ محلق اور جان لیوا امراض میں مبتلا معصوم بچوں کی بھولی بھالی آخری خواہشات پوری کرتا ہے۔ قرض حسنہ دے کر اجرت کی امید اللہ سے رکھتا ہے۔۔۔یہ کیسا انسان ہے!!!!! ڈاکٹر رشید چودھری کا بھانجا ہے تو ایسا ہی ہو گا نا!!!!!
اسلوب شستہ مگر سادہ ہے۔ غیر ضروری تصنع سے پرہیز کیا گیا ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ نثری ادب کی باریکیوں کو لے کر کہیں چوک ہوئی ہو ۔ انداز بیاں اتنا رواں اور دلچسپ ہے کہ خود نوشت میں افسانے یا ناول کے مزے آنے لگتے ہیں۔
مجھے یہ کتاب ختم کرنے کی جلدی اتنی تھی کی اسے بند کرنا مشکل لگتا تھا مگر مجھے اسے سست روی سے پڑھنے کو دل بھی اسی قدر چاہ رہا تھا تاکہ یہ دیر تک میرے زید مطالعہ رہتی۔
ایک تکون کے تین کنارے! دستِ ہنر، دستِ فیض، دستِ شفاء۔ سر گنگا رام، ملک معراج خالد ، ڈاکٹر رشید چوہدری یہ کتاب تین اہم شخصیات کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے اور جزوی طور پر مصنف کی اپنی زندگی کی کہانی بھی بیان کرتی ہے۔ کتاب کا مرکز "فاؤنٹین ہاؤس" ہے، جو لاہور میں واقع ایک تاریخی عمارت ہے۔ ابتدا میں یہ سر گنگا رام کی جانب سے بیواؤں کے لیے بنایا گیا ایک آشرم تھا، لیکن ڈاکٹر رشید چوہدری کی کوششوں اور وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد کے حکم سے یہ ذہنی امراض کے مریضوں کی پناہ گاہ بن گیا۔ آج ڈاکٹر امجد ثاقب اس کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ چاروں باری باری اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہیں۔ ملک معراج خالد، ڈاکٹر رشید چوہدری اور سر گنگا رام تینوں ہی معمولی کسانوں کے گھر پیدا ہوئے لیکن اپنی محنت اور دیانت سے اپنا نام اور مقام پیدا کیا۔ ایک ڈاکٹر، ایک سیاستدان اور ایک انجینئر۔ اور سب سے بڑھ کر یہ انسان دوست تھے۔
"ڈاکٹر رشید چوہدری" جو پاکستان میں ذہنی صحت کے علمبردار ہین اور جنہوں نے فاؤنٹین ہاؤس کو جدید نفسیاتی علاج گاہ میں تبدیل کیا۔ انسانیت کی خدمت ان کا مشن تھا۔
"ملک معراج خالد" جو ایک سیاستدان ہونے کے باوجود سادگی اور دیانت کی پیکر شخصیت تھے۔ انہوں نے سیاست کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ فاؤنٹین ہاؤس کی ترویج کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا اور ڈاکٹر رشید چویدری کا ساتھ دیا۔
اور پھر "سر گنگا رام" جو برصغیر کے نامور انجینئر اور عوامی خدمت گزار رہے۔ لاہور کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مال روڈ، گنگا رام ہسپتال، میو سکول آف آرٹس (این سی اے)، ایچی سن کالج اور اس طرح دیگر عمارتیں سر گنگا رام کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے اپنی دولت کو رنگ، نسل، مذہب کی تفریق کے بغیر سماجی بہبود کے لیے وقف کر دیا۔
یہ تینوں شخصیات کہانی سنا چکیں تو مصنف "ڈاکٹر امجد ثاقب" کی باری آئی جو "اخوت فاؤنڈیشن" کے بانی ہیں۔ انہوں نے فاؤنٹین ہاؤس کو ایک جدید ادارے کے طور پر پروان چڑھایا اور انسانیت کی خدمت میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ خدمتِ خلق، سادگی اور دیانت جیسی قدریں ان شخصیات میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ کتاب کی نثر رواں ہے اور اسلوب سادہ مگر پراثر ہے۔ مجھے خاص طور سے سر گنگا رام والا حصہ زیادہ پسند آیا اور ان کی شخصیت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ جدید لاہور کی بنیاد انہوں نے رکھی۔ گنگا رام بلاشبہ قدیم لاہور اور جدید لاہور کے درمیان سنگ میل تھے۔ کتاب میں مال روڈ اور دیگر علاقوں کی تعمیراتی، سماجی اور تہذیبی جھلکیاں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لاہور کی تاریخ قاری کے سامنے سانس لے رہی ہو۔ لاہور سے محبت رکھنے والوں کو یہ باب بہت پسند آئے گا۔
گفتگو انہی سے نہیں ہوتی جنہیں دیکھا اور چُھوا جا سکے. زمان' و مکاں سے ماورا بھی مکالمہ ہوتا ہے بعض اوقات ایک ساعت میں زمانوں کا سفر طے ہو جاتا ہے۔ شاید یہ ایسا ہی کوئی لمحہ تھا۔ ہلکے پھلکے بادل، تازہ ہوا اور یہ تین آدمی۔ مکمل خاموشی اور تنہائی۔'
واہ کیا کتاب ہے یہ! اتنی خوبصورت نثر۔ اتنا دلچسپ انداز!
'چار آدمی' ایسی ہستیوں کے بارے میں ہے جو دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کو اپنی زندگی کا اہم مقصد بنا لیتے ہیں ۔ اس دنیا میں موجود منفی سوچوں، منفی جذبوں اور اعمال کو بُرا بھلا کہنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے، وہ مثبت سوچ اور عمل کا بیج ڈالتے ہیں۔ اور اس بیج کے نتائج میں نیکی کے درخت سے دوسروں کی زندگیوں میں بھلائی اور آسانی کے پھول تقسیم کرتے ہیں۔
یہ کمال کتاب ہر لاہوری کو پڑھنی چاہیے۔ تاکہ وہ دیکھ سکے کہ آج کے لاہور میں کیا کچھ گُم ہو گیا ہے۔
This books covers 4 prominent figures from Lahore. These include Sir Ganga Ram, Malik Mairaj Khalid, Dr. Rasheed Chaudhry and last but not the least, Dr. Amjad Saqib himself.
It is a plausible effort. However, as the writer narrates about the 3 personalities other than himself, the description seldom lets us forget that it is, in the end, probably about the writer himself than anything else. This one aspect makes the reading at times less objective, even harbouring on the border of self aggrandizement and thus boring. This is not to say anything about the writer's contribution through his initiatives for micro loans. It is the way this book is penned that makes it a rather difficult, less enjoyable of a read.