جنوری 1970ء میں اردو ادب کے افق پر ’’سب رنگ‘‘ کا پرچہ ہلال کے مانند نمودار ہوا تھا۔ نوّے کی دہائی نے اسے ماہِ کامل بنا دیا تھا۔ پھر یہ ہرسُو روشنیاں بکھیرتا ماہتاب کہانیوں کے دیوانوں کو اپنی کِرنوں میں نہلاتا گھٹتے گھٹتے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ڈوب گیا۔ اس کے چاہنے والے تو سکتے کی سی کیفیت میں تھے کہ وہ تو ان کی شہرزاد تھی جو اپنے شہر یاروں کے لیے ہر ماہ دنیا کے، انجانے دیسوں، اجنبی ملکوں، کہیں دُورافتادہ سمندروں کے سینوں پر اُبھرے قطعوں اور زمینی و فلکی دُنیاؤں سے اُن کے لیے رنگارنگ ثقافتوں، مختلف النوع تہذیبوں، تمدنوں اور کائناتی اسرار کی تحیر میں ڈوبی ہوئی عجیب و غریب سی کہانیاں لے کر آتی۔ اس کے عاشقان اس کا انتظار کِسی دلنواز محبوبہ کی طرح کرتے۔ اس کی آمد کے تسلسل تک تو معاملہ ٹھیک تھا مگر جب رخنے پڑنے لگے تو اضطراب پیدا ہو گیا۔ کیوں؟ کا سوال عاشقوں کے ہونٹوں پر مچلتا شکیل عادل زادہ تک بھی یقیناً پہنچتا۔ پھر کبھی کبھی آمد ہونے لگی۔ ’’سب رنگ‘‘ آ گیا ہے کی ندائے دل نواز سنتے ہی حصول کے لیے طوفان کھڑا ہو جاتا۔ پھر اُمید کا یہ شوروغوغا بھی دم توڑ گیا اور ’’سب رنگ‘‘ ایک الم ناک یاد کی صورت اس کے عشّاق کے دلوں میں زندہ رہا۔ ’’سب رنگ‘‘ کہانیوں کی کتابی صورت میں اشاعت نے دیرینہ محبت کی اس شمع کو پھر روشن کردیا ہے جو عشاق کے دلوں میں فروزاں ہے۔ حسن رضا گوندل نے اپنے اس اثاثے کی جس محبت، محنت اور لگن سے ترتیب و تدوین کی ہے دنیائے ادب کے قارئین ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ امر شاہد اور گگن شاہدکے بھی شکر گزار ہیں کہ اُن کا محبوب سجا سنورا ایک نئی سج دھج سے انھیں پھر ملا ہے۔
شکیل عادل زادہ پاکستان کے مقبول ناول نگار، صحافی اور کثیر الاشاعت ڈائجسٹ سب رنگ کے سابقہ مدیر ہیں۔ ان کی پیدائش یکم فروری 1938ء کو مراد آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام محمد شکیل ہے ۔ جون ایلیا نے ان کا قلمی نام شکیل عادل زادہ رکھا۔
سب رنگ کہانیاں۔ ہمیشہ کی طرح عمدہ کہانیوں کا انتخاب۔ تیسری اور چوتھی جلد میں زیادہ کہانیاں بٹریل اور ریوینج کی گرد گھومتی تھیں لیکن اس جلد میں مختلف موضوعات پر کہانیاں ہیں۔
ایک کہانی “پاتال” میں ایک وقوعے کو مختلف زاویے سے بیان کیا اور اس طرح سے بیان کیا کہ ہر طریقہ قابل عمل لگ رہا تھا۔ اس خوبصورتی سے لکھا کہ گویا سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو۔ مقبول جہانگیر صاحب کی کہانی ننگا ہاتھ بھی دلچسپ کہانی تھی۔
اس جلد کے اداریے میں شکیل صاحب نے اردو رسالوں کی اشاعت اور ان کے بند ہونے کہ وجوہات پر روشنی ڈالی۔ رسالہ شروع کرنا شاید اتنا مشکل نہیں لیکن اس میں معیاری کہانیاں اور اس کے فروخت کو مسلسل قائم رکھنا یہ ایک مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ کہانی کے انتخاب سے لے کے کمپوزنگ، سرکولیشن، کمیشن اور اشتہارات تقریباً سب موضوعات پر شکیل صاحب نے تفصیل سے بات کی۔
حسن رضا گوندل صاحب نے یہ خبر دی کہ ابھی سمندر پار کہانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ شکیل صاحب کی بھی یہی مرضی ہے۔ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ پانچویں جلد کے بعد مقامی کہانیوں کی باری آئے گی۔ لیکن لگتا ہے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔