Mirza Athar Baig is a Pakistani novelist, playwright and short story writer. He is associated with the Philosophy Department at the Government College University in Lahore. His fiction works include the novel Ghulam Bagh (The Garden of Slaves) which is considered one of the central works of literature in the Urdu language. The novel has acquired cult following among the youth and prestige among Urdu language critics. Three editions of Ghulam Bagh have been published in Pakistan within two years.
In addition to Ghulam Bagh, a collection of his short stories, titled Beh Afsana (The Non-story) was published in 2008. His second novel, Sifar se aik tak (From zero to one) was published in 2009.
Athar Baig has also written several television plays, including Daldal, Hissar, Khwab Tamasha and Nashaib.
مقامی معاشرے کے منشیات فروش، پولیس چھاپوں کے ڈر سے روپوش ہونے سے پہلے اپنے خریداروں کو کچھ کہہ دیتے ہیں. یہی کہتے ہیں کہ وہ لوگ آکر اپنا 'دانہ پانی' اکٹھا لے جاکر مقید ہوجائیں۔ اسی طرح جب مرزا صاحب کا یہ ناول چھپ کر آیا تو میں نے اپنے دوست مداحوں کو بھی یہی کیا کہ تعداد پانچ سو کا ایڈیشن ہے. نجانے کب ختم ہوجائے. اپنا دانہ پانی یعنی ناول کی کاپی منگوا کر رکھ لیں. وہ الگ بات ہے کہ پانچ سو بتا کر پانچ ہزار چھپوا لیں. پبلشرز کو کون پوچھتا ہے۔
مرزا صاحب کے ناول کا اس حد تک انتظار تھا اور بدقسمتی سے توقع سے ہٹ کر ناخوشگوار تجربہ رہا. اس ناول میں مرزا صاحب نے پیرا نارمل یعنی ماورائے عمومی واقعات کو مرکزِ موضوع بنایا ہے. انھوں نے انٹرنیٹ کے زمانے سے قبل، پاکستان میں دستیاب اس موضوع سے متعلق محدود مواد سے استفادہ کرکے اس ناول کو لکھنے کا ارادہ کیا۔
مرزا صاحب نے انتہائی اچھوتا موضوع منتخب تو کیا مگر ان کے پاس کہانی کو آگے لے کر جانے کے لیے مضبوط بنیاد ہی نہیں تھی. بظاہر ناول کی بنیاد کی صورت میں انھوں نے مرکزی کردار کی بھوت شکاری مہم جات کو سامنے رکھا. ان تمام واقعات میں کہانی کی پیش رفت اور شفافیت پر زور دینے کی بجائے ان کو لایعنی نتائج پر لا کر چھوڑ دیا گیا۔ اتنی ضخامت میں ڈھنگ کا کوئی واقعہ نہ ہونے کے برابر ہے. کاغذات کا پیٹ بے جا طویل مکالمہ جات سے بھرا گیا. ماورائے عمومی واقعات کے بارے میں لفظ فشانی کرنے کے لیے دو مکاتبِ فکر ہی موجود رہتے ہیں حمایت یا اختلاف. اس نگارش میں ان موضوعات پر بحث کرنے کی بجائے ناکام مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے. مزاح میں مرزا صاحب کسی حد تک گرفت رکھتے ہیں. مگر مضبوط کی غیر موجودگی سے صرف مزاح سے وہ خلا پر نہیں کیا جاسکتا.
Thought 1 (just after finishing): The ending was multi layered and creepy. It induced an unsettled ontological feelings and emotions inside of me.
Thought 2 (prevailed after halfway through): This was a strange kind of book which I really enjoyed but wanted it to end soon. Actually, ending it means I wanted to finish (by reading - my interaction with the book) it asap. At the same time, the affiliation was such that I was worried that it had to end. Its quite possible that this applies to other things in my life as well.
I had other thoughts about this book which I've lost for now. Will write later if possible. Anyways, I have always enjoyed reading Mirza Ather Baig. Apart from an interesting story, this was full of philosophical, linguistic (author's favorite probably), and societal insights. And the characters...
مرزا اطہر بیگ کا نام جب بھی کہیں آتا تو فوراً ذھن میں "غلام باغ " اور "صفر سے ایک تک" کے نام آتے ہیں۔ پھر ان کے تیسرے ناول"حسن کی صورتحال " کے بارے میں بھی بہت سوں کی بہت اچھی رائے پڑھنے کو ملی۔ ۔ اسی لئے جب ان کے نئے ناول "خفیف مخفی کی آپ بیتی" بارے جانا تو فوراً سے پہلے منگوا لیا۔ اب جب اس کو پڑھنا شروع کیا تو شروع کے اڑھائی سو صفحات پڑھ کر محسوس ہوا جیسے یہ وہی ناول ہے جو ضرور پڑھنا چاہئے تھا۔ خفیف مخفی اور اس کے پیرا سائیکالوجیکل اسسٹنٹ محکم دین کے درمیان کی صورتحال اتنی مضحکہ خیز اور مکالمے اتنے برجستہ اور مزاحیہ ہیں کہ مسکراہٹ آپ کے لبوں پہ کھلتی رہتی ہے۔ اور انہی صفحات کے دوران آپ کی اس ناول سے وہ توقعات وابستہ کو جاتی ہیں جن کا بعد میں پورا نہ ہونا آپ کو بڑا کھلتا ہے۔غیر ماورائے مخلوق اور ان سے جڑے واقعات کی توقع لے کر آپ جوں جوں آگے بڑھتے جاتے ہیں آپ کی بے چینی بھی توں توں بڑھتی جاتی ہے اور خیال آتا بادشاہو کس پاسے ٹر پئے ہاؤ۔ بہت سے غیر ضروری اور غیر متعلقہ واقعات کا طولانی بیان آپ کی اس ناول میں دلچسپی دھیرے دھیرے کم کرتا چلا جانا۔۔ ایک خاص سٹیج کے بعد آپ سوچنے لگتے جو بات چار پانچ سو سے بھی کم صفحات میں سمیٹی جا سکتی تھی اسے ہزار صفحات تک کھینچنے کی کیا ضرورت تھی۔ گو محکم دین ، عبدل، نجف جبلی، پیر نجیب مسکی، اور اکرم جیسے کردار بہت دلچسپ ہیں لیکن ان کے گرد بُنی گئی سچویشنز اور کہانی ان انتہاء درجے کے کرداروں کو گہنا کر رکھ دیتی ہیں۔ ۔ ناول کی جیسی اٹھان تھی ویسے ہی اگر کہانی کو آگے بڑھایا جاتا تو یقیناً ایک شاہکار سامنے آتا لیکن جس حالت میں اسے ٹریٹ کیا گیا ہے کہانی کا ختم کرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے