Iffat seher Tahir the most famous and most liked writer in novels world , She raises the social issues of the society . Her writing ability binds the readers in the story and the readers desperately wait for her novels . Her dialogues and some special scans are liked in the readers that they enjoy very much of them
عفت سحر طاہر بہت مقبو ل لکھاری جو آج کل کی ناول کی دنیا کی پہچان ہیں ۔ان کے ناول خواتیںن میں بہت پسند کیے جاتے ہیں ۔اچھا انداز بیاں اور کرداروں کے ساتھ انصاف کہانی میں جان دال دیتا ھے اور یہ خاصیت سرف ان چند لیکھاروں میں موجود ھے جن میں عفت سحر طا ہر سر فہرست ہیں ۔ مختلف ڈایجسٹ میں لکھی جانے والی کہانیاں خاصی مقبول ہیں اسی لیے ان کہانوں کو ھم نے آپ کے لیے الگ کر کے لسٹ بنا لی ھے اس امید کت ساتھ کے آپ کو آسانی ہو
سب سے پہلے تو بہت خوبصورت کور ہے۔ اس ناول کو پڑھنے کا میں نے دو ہفتے پہلے اراداہ کیا تھا۔۔۔ لیکن بس لے لے کر پھر رہی تھی پڑھ نہیں رہی تھی۔ اور پھر آخر کار پرسوں میں نے سیڑھیوں میں بیٹھ کر شروع کیا پھر تھوڑا گاڑی میں تھوڑا بستر پر، دو دن میں ختم۔ بہت ہی interesting کہانی ہے۔
میں نے پڑھنا شروع کیا تو یوں لگ رہا تھا جیسے کہانی مجھے اپنے ساتھ باندھتی جا رہی ہو۔ اس ناول میں دو لوگوں کی کہانی ہما وقت چل رہی تھی۔ اور ان دو کرداروں کے ساتھ اور بھی بہت سے کردار تھے جنہوں نے کہانی میں جان پیدا کی۔
کردار بہت سارے ہیں۔ کوشش کروں گی کچھ کچھ ذکر سب کا کروں، بغیر اس خوبصورت ناول کو spoil کیے۔
کہانی میں دو مرکزی کردار تھے، تابندہ اور صبیرہ۔ جب کہانی شروع ہوئ تو مجھے پلاٹ کا کوئ اندازہ نہیں تھا۔ ان دونوں کو پڑھتے پڑھتے مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ دونوں عورتیں ایک ہی کیٹیگری کے دو الگ الگ ورثنز ہیں۔
تابندہ ضیا؛ یہ وہ لڑکی تھی جسے ساری زندگی جھولیاں بھر کر ماں باپ کی توجہ اور پیار ملا۔ منہ سے نکلنے والی ہر بات پوری ہوئ۔ اور انہیں تمام تر محبتوں کے نتیجہ میں وہ ایک پر اعتماد اور باوقار لڑکی کی صورت میں بڑی ہوئ۔ اور یہی وجہ تھی کے وہ بغیر کسی خوف کے بڑے وثوق سے کہتی تھی کہ مجھے ایک بولڈ اور تھرلر سے بھری لایف گزارنی ہے۔ اور جب زندگی پہلی بار اسے خود میں اور ماں باپ میں سے کسی ایک چننے کا کہا گیا، تو اپنا دل مارنا اسے ناممکن لگا۔ بقول تابندہ کے یہ اسکا شرعی حق تھا۔
سہی کہا تھا اسنے، بھلا اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق کس کے پاس نہیں ہوتا؟
لیکن یہی تو مسئلہ ہے۔ اپنا حق لینے کا گُر سب کو آتا ہے لیکن فرائض کی کوئ بات ہی نہیں کرتا۔ آگر ہم اپنے فرائض ادا کرنے پر پرے خلوصِ نیت سے دھیان دیں تو حقوق خود ملتے ہیں۔
اور یہی فرق تھا تابندہ ضیا اور صبیرہ علی میں۔
صبیرہ علی؛ اپنوں کی محبت کے بغیر جوان ہونے والی۔ لحاظہ اسے محبتوں کی بہت قدر تھی۔ پر اعتماد اور باوقار شخصیت کی حامل۔ ساری زندگی کسی بھی مرد کی شفقت کے سائے سے دور رہتے اور اکیلے زندگی گزارنے سے اسے یوں لگتا تھا کے عورت کو زندگی گزارنے کے لیے مرد کی کوئ ضروت نہیں۔ لیکن مرد اور عورت تو ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ تابندہ اور صبیرہ، دونوں کی کہانی بہت لمبی اور گہری ہے۔ لیکن ان سے جڑے کردار ان کی زندگی پر بہت اثر ڈالتے ہیں۔
وقار علی؛ یہ کردار میرے حساب سے ایک بہت عام سے آدمی کا کردار تھا، جس میں روایتی طور پر جزباتی پن کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ اور اسی وجہ سے اسکے منہ سے نکلنے والی ہر بات اور کیا جانے والا ہر عمل اسے ایک اور مسئلے میں پھسا دیتا تھا۔
فوزیہ؛ آج تک اس ملک میں جتنی ایسی عورتیں ہیں، جو زندگی کے چالیس پچاس سال گزارنے کے بعد بھی اپنے سسرال والوں کے ساتھ گزارے وقت کو یاد کر کے تکلیف محسوس کرتی ہیں، اس کے پیچھے کسی نہ کسی فوزیہ کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔
صدیقہ بھابھی؛ بہت مثبت کردار۔ وہ خود بھی بہت مثبت تھی اور اپنے آس پاس بھی تمام لوگوں کی زندگی میں بہت مثبت کردار ادا کرتی تھیں۔
ثمین؛ کا کردار وہ کردار تھا جس کی وجہ سے تمام یونیورسٹی کی دوستوں کو ملنے سے پہلے ہی snakes کا لقب دے دیا جاتا ہے۔
شفق؛ بہت پیاری سی لڑکی، اسکا شمار ان دوستوں میں ہوتا ہے جن کے ساتھ پہلے سے ہی snakes کا لقب لگا کر زیادتی کردی جاتی ہے😂
زارا اور ثوبان نے مجھے تو بہت ہسایا ہے۔ بہت کیوٹ تھے دونوں بھئ۔
باقی بات کرنے کو بہت کچھ ہے، لیکن میں نہیں چاہتی کے کہانی آپکے لیے spoil ہو۔
اس پوری کہانی میں مصنفہ نے ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے جن میں بھر بھر کر جذباتی پن بھرا ہوا ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے، جزبات میں آ کر بھی کبھی کوئ فیصلہ سہی ہوا ہے کیا؟
اگر آپ کوئ ایسے ناول پڑھنا چاہتے ہیں جس میں رومانوی (Romance) کا عنصر اچھا خاصہ موجود ہو اور ساتھ ہی ساتھ ایک اچھا اور مفید سبق بھی موجود ہو تو یہ ناول آپکے لئے ہے۔
مجھے ذاتی طور پر بہت مزاہ آیا۔ بہت اچھی اور interesting کہانی تھی۔ تبصرہ پڑھنے کا بہت شکریہ!
Acha tha. There was a lot of things which I didn't likez just it's it's vibe. Mjhe old school, college romance bohat pasand hai, that's why I reas these kind of novels who have alpha males