'National Laureate, Dato' Abdullah bin Hussain, was born on 25 March 1920 at Sungai Limau Dalam, Yan Kedah. In 1926, he received his early education at the Malay School until he passed his standard five in 1931 and continued his education at the St. Michael School, Alor Setar, Kedah from 1935 till 1933. Later in 1935, he continued his studies at the Anglo Chinese School, Alor Setar, Kedah until he passed his standard VII. During the Japanese occupation in the year 1943, he had a chance to study at the Syonan Koa Kunrenzo (Training School for Top Ranking Officers) in Singapore for three months. Career * Assistant Store-keeper, at a tin mine in Pahang (1939) * Served in the Publication Department, Sahabat newspaper, Penang (1939) * Assistant Editor, Saudara newspaper (1940) * A clerk and dobhi at an army camp in Sungai Petani, Kedah until the invasion of the Japanese army * A journalist of Merdeka newspaper, Berita Indonesia and Majalah Merdeka, Singapore (1951) * Editor of Majalah Bintang, Majalah Filem and Semenanjung newspaper * Assistant editor, the Franklin Book Programme and Oxford University Press (1965-1968) * An editor, Angkatan Baru magazine (1965-1968) * A research officer, Dewan Bahasa dan Pustaka (DBP), (1968-1978) * Head of Language and Literature Unit, Dewan Bahasa dan Pustaka, Sabah branch (1978-1979) * Creatve Writer, Centre for Humanities Study, Universiti Sains Malaysia (1979-1981) * Head, Department of Literary Development and Progress, Dewan Bahasa dan Pustaka (DBP), Brunei Darussalam (1982) * Senior Literary Officer, Dewan Bahasa dan Pustaka, Brunei * Guest Writer, Dewan Bahasa dan Pustaka His first literary work was a humorous story that was published in Tanah Melayu magazine around 1939. Later he kept on producing literary works such as in short stories, novels, biographies / an autobiography, translationa and literary essays. To date, he had produced 25 novels, three volumes of short stories, nine translations, an autobiography and six biographies. Besides using the pen-name Zamroed, he was also known as Roslani Shikin, A.A. Adiwijaya, A.H., Andijaya, Asly, Bintang Kecil, Iskandar Muda and Suryakanta. Through his writing literary works, he managed to portray the positive values of the society and worked hard in building his identity as a writer. He was a veteran literary figure who was committed and diligent in developing his creative talents. Now coming nearer to 74 years of age, his spirit of perseverance in the literary world is still blossoming. To honour his contributions and services, he was conferred the S.E.A Write Award at Bangkok in 1981 (first winner of the Sayembara Novel Nasional prize - a tribute to Pak Sako), First Prize for the National Novel competition organised by Utusan Malaysia and Public Bank for the year 1992/94 for his novel entitled Iman, the Pingat Jasa Hukom Ngon Adat Lembaga Adat Kebudayaan Aceh in 1995, the National Laureate Award in 1996 and the Dato' Setia DiRaja Kedah (D.S.D.K.) in 1996 which carries title Dato
عبدہ اللہ حسین کو تحریروں کو یقینا مکمل پاکستانی ادب کہا جا سکتا ہے۔ باگھ میں بھی ایسے موضوع پر لکھی گئی تحریر ہے جس نے آگے چل کر ہمارے معاشرے میں وہ زہر گھولا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے اپنے ہی لوگوں کو مذہب اور حب الوطنی کی افیون دے کر ایک نہ ختم ہونے والی آگ کا ایندھن بنائے چلے جا رہے ہے۔ یہ تحریر کشمیر میں مجاہدین کی کھیپ کی تیاری اور بھیجنے کے اوائل دور کے تناظر میں لکھی گئی۔
The first and last novel of Abdullah Hussain which I read. It's a tale of love and motive being cultivated in mountains of Kashmir. You will have to retrieve central thought behind this novel. I read it page and page. I drank it like last drink for your life while sitting in mountains of my village. One of the best novels I did read. Master Piece.
اداس نسلیں کے بعد عبدلله حسین کا یه دوسرا ناول ھے جو میں نے پڑھا ھے. اسد مرکزی کردار کا نام ھے اور اسی مناسبت سے ناول کا نام باگھ رکھا گیا. روایتی ناول نگاری سے ھٹ کر یھاں کحانی کی بھول بھلیاں نھیں ھیں نه ھی کرداروں کی بھرمار ھے. منفرد اور دل سوز بُنت هے . ایسا نفسیاتی الجھاو کے سب کچھ اور واضح ھو جاے. عبدلله حسین جیسی کردار نگاری میں نے شاید ھی کسی اور کے ھاں پڑھی ھو. انسانی شخصیت کی دراڑیں اور گھاو میں نے ان سے ذیاده عمقیق نظر سے دیکتھے شاید ھی کسی کو دیکھا ھے.
ناول "باگھ" . عبداللہ حسین ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یادداشت کی بھی کیا آزاد زندگی ہوتی ہے جہاں یہ جوان ہوتی ہے وہاں ہمیشہ ہی جواں رہتی ہے - جہاں بوڑھی ہو جاتی ہے وہاں سایوں کی طرح ڈھلتی چلی جاتی ہے، ابھی یہاں ، ابھی وہاں ۔۔ . میرا کتاب پڑھتے سمے اکثر من ہوتا کہ کوئی تو ایسی کتب ہو جس کی پڑھت کے وقت مجھے جگہ اور وقت کا ہوش نہ رہے۔ آسان عام فہم اور ندی کی طرح رواں نثر ہو اور میں کرداروں کے ساتھ ساتھ جنگلوں، بیلوں، پہاڑوں اور دریاؤں کے پار اترتا چلا جاؤں۔ عبداللہ حسین کا ناول "باگھ" جسے وہ اپنے تخلیق سفر کا سب سے اہم پڑاؤ مانتے تھے ایسا ہی ایک ناول ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں "گمشد" میں پنپتی یہ کہانی جہاں مرکزی کردار اسد اپنی سانس کی تکلیف کی غرض سے آیا اور وہاں کے حکیم کے ہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے. "یاسمین" اسدی کہ "یاس" حکیم کی بیٹی کے ساتھ اسد کے پیار کی خوبصورت داستان پروان چڑھ رہی ہے۔ وہیں کبھی کبھار ایک "باگھ" کے دھاڑنے کی خوفناک آواز سنائی دے جاتی ہے جو بھٹک کر اس علاقے کے جنگل میں آ نکلا ہے۔ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی گئی مجھے اسد اور باگھ (ہم معنی نام) کی زندگی اور کہانی میں ایک عجیب سی ہم آہنگی ملی۔ جو انجام تک جاتے اور بھی واضح لگی(شاید یہ صرف میرا خیال ہو) ۔ تین سو ساٹھ صفحات کی شاید ہی کوئی ایسی تحریر ہو جو اس خوبصورت ردھم کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ چند کرداروں کی یہ کہانی جس میں ہر کردار چاہے کتنے ہی مختصر دورانیہ کا کیوں نہ کو واقعات کو آگے بڑھانے کی ایک ناگزیر کڑی ہے۔ اچھے وہ پھر ولی ، حکیم میر احسن ، ذولفقار ،یا سرحد کے اس طرف کے کردار(سرحد کے اس طرف کیوں؟ یہی تو کہانی کی خوبی ہے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں) سلطان، ریاض وغیرہ ہوں ۔ زندگی کی فلاسفی کو ہلکے پھلکے انداز میں بتاتی یہ کہانی سادہ مگر پر لطف نثر کا شاھکار ہے۔ سارے کردار اور واقعات کا بیان بہترین ہے پر مجھے اسدی اور یاسمین کے کرداروں کی کیمسٹری اور ان کے درمیان بے حد محبت مجھے اس کہانی کی خاص بات لگی. ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی آخری دس صفحات میں مصنف کچھ ایسی باتیں بھی کہہ بتا گئے جو آج کل شاید ہی کوئی کہہ سکے
عبد اللہ حسین نے اپنا ناول باغ اس طرح لکھا کہ اس نے آس پاس کے علاقوں اور مناظر کی ہر ایک چھوٹی سی تفصیل بیان کی جس سے قاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس منظر میں بزاتِ خود شامل ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار کے جذبات کی متاثر کن تفصیل اس کے بچپن سے اور پھر مختلف حالات سے گزرتے ہوئے کہ وہ کیسے نوجوان میں تبدیل ہوا۔زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور اُن سے کیسے نبرانداز ہونا ہے۔ اگرچہ مصنف نے ذکر نہیں کیا لیکن قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کہانی کشمیر کے علاقوں کے آس پاس کی ہے۔
second Novel of Hussain for me ,again produced a feeling of very pleasant experience of very rich writing, though un matched to Udas naslain,yet it's a master piece in terms of Hussain's detailed and beautifull narration of a simple story
میں کئی بار ہی لکھ چکا لیکن سچ یہ ہی ہے کہ عبداللّٰه حسین ایک رائٹر ضرور ہے لیکن کمال کا نہیں کہہ سکتے بس نارمل ہی ہیں لیکن جو گمان تھا وہ تو ایک پرسنٹ بھی پورا نہیں ترا۔
صاحبو۔ اپنے کو تو اس ناول کی سمجھ آئی اور نہ ہی مزا آیا۔ نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ عبداللہ حسین صاحب بیان کیا کرنا چاہتے تھے؟ انجام جاننے کی تجسس میں سارا ناول پڑھا لیکن آخری صفحے پر پہنچ کر شدید احساس زیاں ہوا۔ ناول پڑھنا لاحاصل سی محنت معلوم ہوا