Jump to ratings and reviews
Rate this book

Kitab-e-Zindagi

Rate this book
KITAB E ZINDAGI by MAULANA WAHEED UD DIN KHAN

256 pages, Hardcover

Published January 1, 2012

15 people are currently reading
74 people want to read

About the author

Wahiduddin Khan

310 books383 followers
Maulana Wahiduddin Khan is an Islamic spiritual scholar, who has adopted peace as the mission of his life. He was born in a family of landlords in 1925 at Badharia, a village near the town of Azamgarh, in the Indian state of Uttar Pradesh (formerly known as the Eastern United Provinces).

After his father’s death in December 1929 he was brought up by his mother, and his uncle, Sufi Abdul Hamid Khan, arranged for his education. He comments that becoming an orphan very early in life taught him that, to succeed in life, you have to take such situations as challenges and not as problems. Being an advocate of result-oriented and positive action, he explains that treating such situations as problems can only be negative in result. All you can do in this state is either try to fight to remove them or lodge complaints or protests against them. On the other hand, if you take such situations as challenges, you can positively and constructively work to overcome them yourself, as and when suitable opportunities present themselves. His success in life is largely due to the implementation of this and other such principles, which he has derived from Islamic scriptures.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
13 (46%)
4 stars
12 (42%)
3 stars
3 (10%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 3 of 3 reviews
Profile Image for Farhan Khalid.
408 reviews88 followers
September 9, 2019
پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ ہم ان چیزوں کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکیں جن کو ہم بدل نہیں سکتے

آدمی کو با مقصد بنا دیجئے اس کے بعد اپنے آپ اس کی ہر چیز درست ہو جاۓ گی

کامیاب زندگی کا راز کانٹوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ ان سے بچ کر چلنا ہے

ضرورت ہے کہ خوبی کو دیکھا جاۓ اور کوتاہی کو برداشت کیا جاۓ

کامیاب انسانوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ جب وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے اپنی ناکامی کو حرف آخر نہیں سمجھا

دنیا کا قانون یہ ہے کہ عمل کا ثبوت دینے والے کامیاب ہو جایں اور رد عمل میں مصروف لوگ برباد ہو جایں

ناکام وہ ہے جو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال میں ناکام رہے، کامیاب وہ ہے جو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال میں کامیاب ثابت ہو

اپنی ذاتی کمی کو جان کر اسے دور کیجئے، اس کے بعد آپ کو احتجاج کی ضرورت نہیں ہوگی

بچت بھی ایک قسم کی آمدنی ہے

آدمی کو چاہئے کہ وہ مسلہ اور مقصد میں فرق کرے

مسلہ کی رعایت صرف اس وقت تک کرے جب تک اس کا ٹکراؤ مقصد سے نہ ہو

مسلہ کو حل کرنے میں اپنی قوت صرف کیجئے، مگر اس کی ایک حد رکھیے

حد آتے ہی مسلہ کو چھوڑ کر مقصد کو پکڑ لیجئے

یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے حل میں زیادہ فیصلہ کن چیز حالات ہیں

آدمی خواہ کتنا ہی پریشان ہو، آخر کار ہوتا وہی ہے جو حالات کا تقاضا ہو

بہترین عقل مندی یہ ہے کہ ایک حد تک مسائل پر ذہن لگانے کے بعد انھیں حالات پر چھوڑ دیا جاۓ

گھڑی میں آٹھ بجنے تک مسلہ پر توجہ دیجئے، آٹھ بجنے کے بعد مسلہ کو حالات کے حوالہ کر کے سونے کے لیے چلے جائیے

زیادہ دیکھو اور زیادہ بن جاؤ

تجسس تمام ترقیوں کی جان ہے

اپنے آپ کو ہمیشہ نہ جاننے والا سمجھو تاکہ جاننے کی خواہش کبھی ختم نہ ہو

اس دنیا میں کھونا پہلے ہے اور پانا اس کے بعد

مصیبت میں پڑ کر ہلاک نہیں ہونا چاہئے بلکہ سبق اور نصیحت حاصل کرنی چاہئے

بڑی کامیابی وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو ہر ایک سے سبق حاصل کرتے ہیں، خواہ دوست ہو یا دشمن

بند ذہن ہر قسم کی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے

ہماری زندگی کا سفر بے شمار انسانوں کے درمیان ہوتا ہے

اگر ہم فکر و خیال کے اعتبار سے نچلی سطح پر سفر کرتے رہیں تو بار بار دوسروں سے ٹکراؤ ہوتا رہے گا

دانش مند آدمی اپنے سفر کی سطح کو بلند کر لیتا ہے تاکہ دوسروں کے ساتھ ٹکراؤ پیش نہ آے

اس حکمت کو اختیار کرنے کا نام اعراض ہے

سیکنڈ بیسٹ پر قناعت خود کو پیچھے دھکیلنا نہیں بلکہ قابل عمل سے آغاز کرنا ہے

حال کو مان لینا مستقبل کا راستہ کھولتا ہے

عسر کی زمین سے یسر کی فصل اگتی ہے

کامیاب دکان دار پہلے خود ایک گاہک ہوتا ہے

گہری وابستگی کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا

نا ممکن کے پیچھے دوڑنا ممکن سے بھی محروم کر دیتا ہے، ممکن پر قانع ہونے والا ممکن کو بھی پاتا ہے نا ممکن کو بھی

صحیح آدمی، صحیح فکر، صحیح آلات، صحیح نتیجہ

بامقصد آدمی کبھی محروم نہیں ہوتا، محروم وہ ہے جو مقصد سے محروم ہو جاۓ

تعمیر قوم تعمیر شعور کا دوسرا نام ہے

زندہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اعتراف ہے

حوصلہ مندی کمزور آدمی کو طاقت ور بنا دیتی ہے

زندگی میں ٹھہراؤ نہیں، ہمیشہ اپنے ارتقا کی فکر کیجئے

ضروری تیاری کے بغیر رہنمائی جرم ہے

کامیاب کاروبار کے لیے ضروری ہے - محنت، دیانت داری اور اشتراک عمل

قدرت کا سبق یہ ہے کہ جب زندگی کا طوفان اٹھے تو وقتی طور پر اپنا جھنڈا نیچے کر لو

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے

اگر آپ چاھتے ہیں دوسرے آپ میں دلچسپی لیں تو آپ بھی دوسروں میں دلچسپی لینا شروع کر دیں

دوسروں کو حقیر سمجھنے کا انجام یہ ہے کہ انسان خود دوسروں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جاۓ

یکسوئی اور لگن کے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوتی

قدرت سے مطابقت کا نام تعمیر ہے، قدرت سے عدم مطابقت کا نام تخریب

پانے والا وہ ہے جو کھونے میں پانے کا راز دریافت کر لے

ذہن کی اصلاح عمل کی اصلاح ہے، ذہن کی تعمیر زندگی کی تعمیر

اس دنیا میں ہر طرف ایک مگر کی رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے، اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا نقشہ بنائیے

سفر حیات میں خارجی حالات کی رعایت شامل کیجیے

برداشت والے اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام مظاہرہ ہے، بے برداشت والے جلوس نکالیں تو اس کا نام فساد

اعلیٰ ترقی کا راز یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر دیا جاۓ

اگر آپ عزت چاھتے ہیں تو لوگوں کے کام آئیے حتی کہ ان کے لیے فخر بن جائیے

نصیحت کرنے والا تعریف کرنے والے سے بہتر ہے

اپنی فطرت پر قائم رہیں

دور عروج میں آگے بڑھنا ہوتا ہے، دور زوال میں پروگرام کی تیاری

Be the master of change rather than the victim

رکاوٹیں زینہ ہیں

ہر انسان کے اندر ضمیر ہے، یہ ضمیر خدا کی عدالت ہے

زندگی کم پر راضی ہونے کا نام ہے

آج کا صحیح مصرف آج کو قربان کرنا نہیں، آج کا استعمال کرنا ہے

جو شخص ہم سے لڑتا ہے ہمارے اعصاب مضبوط کرتا ہے

جھوٹ کا سب سے بڑا قاتل وقت ہے

Keep distance

چھپی ہوئی صلاحیتیں چیلنج سے بیدار ہوتی ہیں

سلیقہ مند زندگی کا نام خوش حالی ہے

زندگی نقصان پر راضی ہونے کا نام ہے

جس شخص کا ایک سوچا سمجھا مقصد ہو، وہ اپنے منصوبہ کی تکمیل کے لیے اعراض کا طریقہ اختیار کرے گا

خدمت سے بے پناہ قلبی سکون ملتا ہے

انتخاب خوش گوار اور نا خوش گوار کے درمیان میں نہیں، انتخاب نا خوش گوار اور تباہی کے درمیان

ٹالرنس اسی حکمت عملی کا نام ہے

ہندوستانی مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تہذیبی تخشص کی بجاۓ اخلاقی تشخص کو اپنا نشانہ بنائیں

دوسرے کی تخریب کی بجاۓ اپنی تعمیر میں لگ جائیے

عقل مند کو چاہئے کہ وہ دوسرے کی انا کو جگانے سے حد درجہ پرہیز کرے

اپنے پیچھے ہونے کا احساس آدمی کو دوبارہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے
Profile Image for Rana Umair.
11 reviews1 follower
August 12, 2022
Excellent lessons with small stories and daily life incidents.
Displaying 1 - 3 of 3 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.