Dasht e Soos is a novel about story of Hussain bin Mansur Hallaj. This novel was first published in 1983. The story of Hallaj is both fascinating and sad. Hallaj an anxious and curious spirit had questions unanswered, he was seeking some answers and wanted to get those like Hazrat Musa(Moses) got at Kohe Tur (Mount of Sanai). He wanted to reach to God like where there is no Hijab (veil) left, so he indulges himself into such prayers and meditation that were tough and beyond the capacity of normal human beings and they bring to him such awareness which he could not muster and in mystification said something that took him to the woods and was crucified. But that was not the only reason for his crucifixion, there is lot in between, a relations of hate and love. Love not only with the immortal and pristine but also with a mortal and beautiful princess. Which Love finally takes him to gallows is an interesting tale narrated in this novel.
اس کتاب نے مجھے بہت الجھایا ہے۔ کبھی تو تلملا کر اسے رکھ دینے کا جی چاہتا ہے اور کبھی اس طرح پڑھتے رہنے کا کہ آدمی ختم کر کے ہی دم لے۔ میرے خیال میں مصنفہ نے اس کتاب کو “ایک غنائہ” قرار دے کر بالکل سچ لکھا ہے کہ اس کے مندراجات کسی اور زمرے میں شاید ہی آتے ہوں، مگر افسوس کے چند مقامات ایسے ہیں جہاں یہ غنائہ بکھر جاتا ہے اور قاری کو کتاب جاری رکھنے کیلۓ محنت کرنی پڑتی ہے۔ حسین بن منصور حلاج جیسے کردار پر لکھنا ایک کٹھن کام ہے مگر زیرِنظر کتاب میں مصنفہ نے ان کے بچپن سے لے کر تختۂ دار پر سزا پانے تک کے دنیاوی اور باطنی سفر کو قلم بند کیا ہے۔ اس داستان کا سب سے اہم حصہ مکالمات یا واقعات نہیں بلکہ اس کے کرداروں کی خود کلامی ہے جن کے ذریعےوجود،تصوف،روحانیت اور عشق ایسے مشکل اور کنجلک موضوعات پر خیال آرائ کی گئ ہے۔ ابنِ منصور کے دیوانگی و مجزوبیت کے سفر کو جس طرح یہاں بیان کیاگیا ہے میری راۓ میں یہ انداز اردو نثر میں منفرد ہے لیکن کئ مقامات پر جمود اور واقعات کی تکرار کا احساس کتاب کی قدر کم کر دیتا ہے۔ “دشتِ سوس” کا اختتام میرا پسندیدہ حصہ ہے کیوںکہ انجام جاننے کے باوجود میں کتاب کو مکمل کئے بغیرنہ چھوڑ سکا، چناچہ کلائمیکس کی وجہ سے میں تین کی بجاۓ چار ستارے دینے پر مجبور ہوں۔ بہر حال یہ ایک منفرد تجربہ تھا۔
حسین بن منصور حلاج، ایک راندہ درگاہ کی داستان حیات کو پڑھو جو خالق کی تلاش میں حدود و قیود کو پھلانگتا چلا گیا۔ وہ تلاش میں اس قدر مضطرب رہا کہ اپنے وجود میں خدا کو محسوس کرتے ہوئے 'انا الحق' یعنی میں ہی حق ہوں کے نعرے لگانے لگا اور واجب القتل ٹھہرا۔
وہ کہتا تھا کہ خدا اس کے وجود میں سمایا گیا ہے یا یوں ہے کہ وہ اس کے وجود سے کبھی الگ رہا ہی نہیں۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتا رہتا ہے کہ مخلوق خالق ہی کا تو ایک پرتو ہے پھر اس سے الگ کیسے ہو؟
فکشن میں تصوف اردو ادب میں کوئی نئی جہت نہیں، اور دلچسپی نہ ہونے کی باعث میں بھی اس سے کچھ کھنچا کھنچا ہی رہتا ہوں۔ لیکن جمیلہ ہاشمی نے دشت سوس میں اس موضوع کے تانے بانے اس کمال مہارت سے بنے ہیں کہ اش اش کرنے کو جی چاہتا ہے۔
تصوف کے موضوع پر اس قدر جاندار تاریخی فکشن، زبان پر ایسی گرفت، تلمیہات ایسی عمدہ اور خوبصورت منظر نگاری، بالخصوی اذانوں کا بیان ایسا پرفسوں ہے جیسے اذان عرش سے اتر کر سیدھا رگ و جاں میں سرائیت کر رہی ہو، اور پھر تخلیقی جواہر کے ساتھ موضوع اور ادوار پر مصنفہ کی اس قدر جامع تحقیق فاروقی اور اسد محمد خاں کے فکشن کی یاد دلا دیتی ہے۔
فاروقی اپنے افسانوں میں دلی کو اور اسد محمد خاں شیر شاہ سوری کے ہندوستان کو جس طرح زندہ کرتے ہیں، تو دل کیسے ان دنیاوں میں گم ہوجاتا ہے، ویسے ہی عباسی دور کے ایران و عراق کو جمیلہ ہاشمی نے اس ناول میں زندگی دی ہے۔
تاریخی فکشن میں اکثر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار کیا ہوگا، لیکن اس کو داستان بنا کر پیش کرنا بھی ایک کمال ہی ہے۔
بغداد کا فسوں، دجلہ کا حسن، محلات کی سازشیں، نت نئے فرقے، عجیب ادیان، اور عجیب تر عقائد کا حیرت انگیز بیان جو اس پھیلی ہوئی اسلامی سلطنت میں کئی فتنوں اور قیامتوں کو ہوا دیتے رہے اس داستان کا حصہ ہیں۔
حسین کی خدا کو پا لینے کی جستجو اور راندہ درگاہ قرار دیے جانے کی یہ داستان بہت پرفسوں ہے۔ کہتے ہیں کہ حسین ابن منصور اور حامد بن عباس (جو حسین کی موت کا طلبگار تھا) کی دشمنی چند سیاسی اور سماجی وجوہات کی بنا پہ تھی۔ لیکن مصنفہ نے اسے رقابت میں بدل کر اسے فکشن کا رنگ دیا ہے اور زیبِ داستان کے لئے کہیں کہیں اس داستان میں عشقیہ رنگ بھی شامل کیا ہے، وہ اور بات کہ اس میں محبوب کے دیدار کے بھی محض چند ہی لمحات ہیں کجا کہ نظروں کا چار ہونا۔
اس ناول میں کرداروں کے طور پر حضرت جنید بغدادی، خواجہ حسن بصری، ابوبکر الشبلی، سہل تستری جیسی عظیم بزرگ ہستیاں حسین بن منصور کے اساتذہ کی صورت میں جلوہ افروز ہوتی ہیں۔ وہ تمام بزرگ اس کی بے چین روح کو تھم جانے، ٹھہر جانے کا ہنر سکھانے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ سبھی اساتذہ حسین بن منصور حلاج کو تربیت نفس کی، مجاہدے اور ریاضت کی، نفس کو باندھے رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں کہ کہیں اس کا علم اسے بھٹکا نہ دے۔ لیکن اسکی مضطرب طبیعت میں ٹھہراو کو نہ پا کر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ خود بھی بنا ہادی کے ہدایت اور منزل پا لینے کا متمنی تھا۔ ‘وہ ایک شعلہ مستعجل تھا ایک ستارے کی طرح جو محض اس لئے فضا میں ٹوٹ کر بکھرتا ہے کہ آسمانوں پر محو سفر رہنے کا اس میں حوصلہ نہیں ہوتا۔‘ وہ اپنے آپ ہی کو اپنا مرشد سمجھتا رہا۔ علم و عبادت کے سبب جو کرامتیں اسے نصیب ہوئیں وہ ان پر اختیار نہ رکھ سکا اور مریدوں کی موئدب بھیڑ اور اشاروں پر چلنے والے رفیقوں نے اسے گھیرے رکھا۔ جن کے سامنے وہ اپنے حق ہونے کا اظہار کرتا رہا۔ یہی اس عبادت گزار بندے کا واحد قصور بنا کہ اس نے اپنا اور خدا کا تعلق لوگوں کے سامنے کھول دیا۔
لیکن خدا تو غیور ہے، پردوں میں رہتا ہے، تو اس کے رازوں کو اس طرح افشا کرنا، عوام کے درمیان نشست جمانے اور خدا سے اپنے رشتے کا بے حجابانہ اعلان کردینے کی کچھ سزا تو ہوگی ہی۔ وہی سزا اس کا مقدر بھی ٹھہری۔
پڑھنے والو، اس ناول کو پڑھو اور جانو کہ جمیلہ ہاشمی نے اس ناول کی خوبصورت نثر میں تاریخ و تصوف کے کیسے کیسے حسین موتی پروئے ہیں۔ اور داستان ابن منصور اس خوبصورتی سے لکھی ہے کہ پڑھ کر جی ہی نہیں چاہتا کہ یہ کتاب ختم ہو۔ لیکن اچھی کتابوں کا یہی تو مسئلہ ہے کہ بالآخر ختم ہوجاتی ہیں، اور ختم ہو کر دل کی دنیائیں آباد کردیتی ہیں۔ مزید کی کھوج میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
حسین بن منصور حلاج پر لکھنا اور پھر ایسا لکھنا ایک سندِکمال ہے۔ بہت وقت ہوا آتشِ شوق حسین بن منصور حلاج کو اور قریب سے جاننا چاہتی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ اس ذات کے بارے میں کچھ اور دروازے وا ہوں۔ اس انالحق کی صدا کی کچھ بازگشت روح محسوس کر سکے اور اس وفورِشوق کا کچھ پتہ ملے جو قافلہ عاشقاں کو شادکام اور شادمان رکھتا ہے۔ اسرار کی وہ کونسی منازل ہیں جو عشاق کو پابجولاں دار تک رقصاں لے کر جاتی ہیں۔
وفورِ شوق کی منازل جہاں ہوش و خرد کا کیا تزکرہ۔ جہاں جدائی اور محبت کا مطلب ایک ہو جاتا ہے۔ سوز اور محبت کا مطلب ایک ہوتا ہے۔ فنا اور بقا کا رستہ ایک ہے۔ خود فنا اور بقا ایک ہی ہیں۔
شوریدہ سری ہی سندِ محبت ہے۔ محبت کا رستہ فنا اور بقا۔ باقی رستے گم کردۂ راہ۔
قافلہء عاشقاں میں کیوں کسی ایک کے لئے عشق مزرع گلاب ہے اور کچھ کے لئے جان سے گزرنے کا نام۔ شاید یہ اپنا اپنا مقدر ہے۔
کربلا میں رودِ فرات کے کنارے قتلِ حسین کے بعد بغداد میں رودِ دجلہ کے کنارے قتلِ حسین کے بعد
سرِ مقتل، سرِ دار ایک وجد ایک تسبیحِ رواں، زمزمہ موت جو زمزمہ عشق ہے۔
فلسفہ عشق اور اسرارِ خودی جو ایک ذرے کو رقصاں کر دیتا ہے۔ اور ذرے کی چمک وقت کے سیلِ رواں سے ماورا ہو جاتی ہے۔ عدم اور وجود سے ماورا اور عاشق پابجولاں قربان گاہِ محبت کی طرف گامزن کہ کچھ کے لئے تو عشق مزرع گلاب نہیں جاں سے گزرنے کا نام ہے۔
"Aey Sarbaan aahista chal k meri paslion me aag hai" One of the best Book of urdu literature. In the intriguing journey of this book make your caravan on a steady pace in order to absorb the full heat of its chest.
اس ناول کی زبان شاید آج کے قاری کو مشکل میں ڈالے، مگر یقینا جمیلہ ہاشمی جیسی نثر لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، نثر تو ایک طرف یہ ناول ایک زمانے کا عکاس ہے اور ایک عظیم شخص کا احاطہ کرتا ہے یہ چیزیں اس ناول کو اور نمایاں کرتی ہیں.
جمیلہ ہاشمی نے حسین بن منصور حلاج کی زندگی کو ایک غنائی انداز سے بیان کیا ہے اور کیا خوب بیان کیا ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی سب سے حیران کن خوبی انکا زبان پر عبور اور انداز تحریر جو یقیناً فیضان نظر بھی ہے اور مکتب کی کرامت بھی ہے۔ میرا ان سے پہلا تعارف " تلاش بہاراں" سے ہوا جو مجھے متاثر نہیں کر سکا۔ لیکن اس ناول نے مجھے حیرت زدہ کر دیا کہ تصوف کے موضوع پر ایک خاتون نے طبع آزمائی کی ہے اور وہ بھی پوری مہارت کے ساتھ۔ یہ ایک سوانحی ناول ہے جو حسین بن حلاج کی زندگی اور خاص کر مشہور نعرے اناالحق تک اس کی زندگی کو بیان کرتا ہے۔ یہ خالص مشرقی تاریخی ناول ہے۔ ناول نگار کا لہجہ بہت بے باک ہے شائد آج پاکستانی معاشرہ اتنا روادار نہیں کہ اس ناول کو ہضم کرسکے۔ اچھے وقتوں میں چھپ گیا اور ہم نے پڑھ لیا۔ ناول کے اندر اتنی جان ہے کہ یہ ایک زائد مطالعہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ آج کے اردو قارئین کے لیے یقیناً اسکی قرات ایک آزمائش سے کم نہیں ہوگی۔ پانچ سو سے زائد صفحات کو سنگ میل پبلیکشنز نے شائع کیا اور اسکی قیمت نو سو روپے ہے۔
میری آنکھیں میری جان تیرا عبادت خانہ اور اپنے لیے اک نار جحیم میرا دل ہرنوں کے لیے میدان عظیم اور اپنے لیے اک خانۂ بیم دیکھ ذرا حلاج کا رقص جس نے اپنی مٹی اپنا خون نہ سمجھا اپنا خون جس کے لیے لایا ہے کوئی ایک وصال دوام ایک چراغ مبین
تین وجوہات کہ اس کتاب کو کیوں پڑھنا چاہیے۔ 1: خوبصورت نثر 2: اسلامی تاریخ و مقامات (خصوصاً عباسی عہد خلافت) کی جانکاری 3: عشق الہی یا تصوف اصل میں ہوتا کیا ہے۔ یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے۔
باقی یہ تو سب جانتے ہی ہیں کہ یہ حسین بن منصور حلاج کی زندگی پر لکھی گئی ہے۔