Jump to ratings and reviews
Rate this book

Zarguzasht / زرگزشت

Rate this book

332 pages, Hardcover

First published January 1, 1976

75 people are currently reading
1256 people want to read

About the author

Mushtaq Ahmad Yousufi

17 books180 followers
Mushtaq Ahmad Yousufi D.Litt (HC), SI, HI is an Urdu satirical and humor writer from Pakistan. Banker by profession, Yousufi has also served as the head of several national and international financial institutions.
He has received Sitara-e-Imtiaz and Hilal-e-Imtiaz, the highest civil honors by the Government of Pakistan. He was also given the highest literary award by Pakistan Academy of Letters in 1999 the Kamal-e-Fun Award.
His books have received many awards and critical acclaim.

Yousufi was born in British India in a learned family. His father Abdul Karim Khan Yousufi was chairman of the Jaipur Municipality, and later Speaker of the Jaipur Legislative Assembly. Yousufi completed his early education in Rajputana and earned B.A. from Agra University while M.A. Philosophy and LL.B from Aligarh University. After partition of India his family migrated to Karachi, Pakistan.

Ibn-e-Insha, himself an Urdu satirist and humourist, wrote about Yousufi: "...if ever we could give a name to the literary humour of our time, then the only name that comes to mind is that of Yousufi!"
Another scholar Dr Zaheer Fatehpuri wrote, "We are living in the '...Yousufi era' of Urdu literary humour..."
The Yousufi era started in 1961 when Yousufi's first book Chiragh Talay was published.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
214 (57%)
4 stars
98 (26%)
3 stars
40 (10%)
2 stars
10 (2%)
1 star
9 (2%)
Displaying 1 - 21 of 21 reviews
Profile Image for W.
1,185 reviews4 followers
September 14, 2019
The vintage Urdu used in this book,made my progress a bit of a stop-start affair.I'm glad I persevered though,and was rewarded with some truly hilarious moments.
Profile Image for Ubaid Talpur.
184 reviews
September 17, 2014
One of best funny autobiography I've ever red the author (Mushtaque Ahmed Yousafi Shb) has not only discribed good times of his live but his problems & tragedies are written in very funny way, as far as I think one can't stop laughing while reading this book. : -D
Profile Image for Tarun.
115 reviews60 followers
October 14, 2018
یوسفی صاحب کی ایک اور عمدہ تصنیف ۔ ہنستے ہنساتے کتنا کچھ کہہ جاتے ہیں
Profile Image for Syed Ali Hussain Bukhari.
232 reviews4 followers
November 19, 2024
زرگزشت
(سوانح نوعمری)

از: مشتاق احمد یوسفی

یوسفی صاحب کا یہ تیسرا شاہکار ان کے بینک ملازمت کے دنوں کی "زرگزشت" ہے، جس میں وہ اپنے منفرد انداز تحریر کی شوخیوں کے ساتھ عمر رفتہ کے اس حصے کی یادوں کو الفاظ کے پیرائے میں ڈھال کر ہمارے حوالے کر گئے ہیں، جب وہ بینک ملازمت سے وابستہ ہوئے تھے۔

ہمیں ان مضامین میں جہاں ان کی اپنی شخصیت اور اس سے جڑی یادیں ملتی ہیں، وہیں ہمیں ان کے کچھ ایسے رفقاء کی شخصیات کے خاکے بھی بغرض مطالعہ ملتے ہیں کہ قاری کے دل میں ان کےلئے انس پیدا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اپنے جن ساتھیوں کی یادوں کا نقشہ یوسفی صاحب نے اس کتاب میں کھینچا ہے، ان میں:
یعسوب الحسن غوری، ڈی سوزا، عباد الرحمن قالب، (سابق) سیکنڈ لفٹن این۔ ایم۔ ایم۔ ایم۔ این۔ پی۔ کنجو/[نواب محمد عمر مجاہد نحاس پاشا کنجو]، نصیر احمد خاں، چاچا فضل دین، خان سیف الملوک خان، قنبر علی شاہ، مسز شوارز، فینی ڈارلنگ، نور الحسن شیخ، ولیم اینڈرسن اور مس ریمزڈن وغیرہ شامل ہیں۔(چونکہ اصل نام یوسفی صاحب نے صیغہء راز میں رکھے ہیں، لہذا ہم انہیں ناموں سے ہی آشنا ہیں)۔

'تزک یوسفی' اس کتاب کا مقدمہ ہے۔

'سبق یہ تھا پہلا کتاب ربا کا'، 'رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر'، 'کیا کوئ وحشی اور آ پہنچا، یا کوئ قیدی چھوٹ گیا؟'،
'علم دریاؤ' ؛ یہ وہ مضامین ہیں جنہیں میں نے بے انتہا پسند کیا ہے۔
'پروٹوکول' اور 'فینی ڈارلنگ' بھی گوریوں سے متعلق ظرافت کی اپنی مثال آپ ہیں۔

'کوئ قلزم، کوئ دریا، کوئ قطرہ مددے!' میں یوسفی صاحب نے اپنی دوران بینک ملازمت مفلسی کا وہ نقشہ کھینچا ہے جو آج بھی ہر سفید پوش طبقے کے فرد کے حالات پہ صادق آتا ہے۔

'ناٹک' میں کراچی کے ایک تھیٹر اور اس کے ڈرامہ نگار منشی ریاضت علی سوختہ سندیلوی کی تخلیقات اور ڈائیلاگز کے ساتھ تھیٹر کے خدوخال اور سٹیج کی بناوٹ کے ساتھ بیان کردہ منظر نامے کا اپنا ہی لطف ہے۔

'جانا ہمارا کاک ٹیل پارٹی میں'، 'موصوف' اور 'موصوفہ' میں یوسفی صاحب نے ایک کاک ٹیل پارٹی کے احوال اور اپنے باس اینڈرسن کےطبع و عادات کے ساتھ 'موصوفہ' یعنی مس ریمزڈن کے اینڈرسن کی طبیعت پہ واقع پونے والے اثرات کو شوخ اور پرلطف انداز میں بیان کیا ہے۔

بہرحال یہ تصنیفات اردو ادب کا بےبہا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کا مطالعہ ہمیں اپنے خود کے قریب ہونے میں مددگار ہے۔
Profile Image for Haseeb Ur.
1 review1 follower
June 4, 2020
master piece of legendary yousufi sb.. a perfect combination of humor and grief .. a perfect autobiography
Profile Image for Danyal Saeed.
28 reviews1 follower
July 17, 2021
کتاب کی پشت پر ابنِ انشاء اور ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے کتاب کے بارے میں بیانات لکھے ہوئے ہیں۔ دونوں کے مطابق مزاحیہ ادب کا پورا عہد، پورا ایک دور ہی یوسفی کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیئے۔ کتاب پڑھ کر سمجھ لگتی ہے کیوں۔ (میں نے خود کوئی مزاحیہ کتاب پہلی دفعہ پڑھی ہے، تو آپ چاہیں تو اختلاف کر سکتے ہیں)

عام طور پر ہماری کتابوں میں بہت زیادہ طباعت اور چھپائی کی غلطیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس کتاب مشکل سے شاید ایک شعر میں آدھا لفظ غائب تھا، باقی کوئی ایسی خامی نظر نہ آئی۔ اِس کتاب کو خاص کر ایسے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل مدریران اور ناشرین کی ضرورت تھی۔ کیونکہ جیسے عنوان میں "سرگزشت" سے "زر گزشت" نکالا گیا ہے، ایسے ہی یوسفی متن میں بھی مزاح پیدا کرنے کے لیے الفاظ اور حروف کا ہیر پھیر کرتے ہیں۔ ایسی تحریر میں اگر طباعت کے کسی مرحلے میں بھی ایک حرف کی غلطی بھی داخل ہو جائے تو قاری کو ایسی بات، خاص کر جو (میرے لحاظ سے) کافی مشکل اردو یا کوئی اور علاقائی زبان یا فارسی میں لکھی گئی ہو، کی کچھ سمجھ نہ لگے۔ لغات کے استعمال کے باوجود۔

پڑھنے سے بہت لطف اندوز ہوا، کئی مقامات پر تو با قاعدہ قہقہے لگا کے ہنسا، وہ بھی اکیلے بیٹھے ہوئے (اکیلے میں حالانکہ کم ہنسی آتی ہے)۔ مزاح، مزاحیہ بھی ہے، ہوشیار اور حاضر دماغ بھی، اور اخلاق کے دائرے سے باہر بھی نہیں جاتا۔ (جیسے اچھا مزاح ہونا چاہیئے)۔

مگر میں نے کتاب شروع اس لیے کی تھی کہ ساتھ ساتھ علم میں بھی اضافہ ہو۔ (مجھے شروع کرنے سے پہلے نہیں پتہ تھا کی کتاب کے کیا موضوعات ہیں)۔ میرا خیال ہے اور مجھے امید ہے کہ میرا زبان پر عبور بہتر ہوا ہے۔ مگر میں سوچ رہا تھا ساتھ ساتھ شاید پاکستان کی تاریخ، یا کراچی کی تاریخ، یا دفاتر کے ماحول اور رواجات کا تنقیدی جائزہ بھی ہو گا۔ وہ کافی کم تھا۔( یا شاید میں شہاب نامہ پڑھنے کے بعد ایک چھوٹے شہاب نامچے کی توقع کر رہا تھا۔) جیسے پیش لفظ میں درج ہے، یہ مصنف کی زندگی میں آنے والے کئی دلچسپ کرداروں کی تصویر کشی ہے۔ باری باری۔ ہر باب میں، یا باب کے ایک حصے میں، ایک مرکزی کردار ہوتا ہے۔ باقی کردار بھی ہوتے ہیں، پر مرکزی وہی ہوتا ہے۔ مصنف کے اپنے بارے میں بھی ہمیں کافی کم پتہ چلتا ہے۔

کچھ باتیں جو مجھے بہت دلچسپ لگیں (آگے پڑھنا بند کر دیں اگر آپ اپنی کہانی کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتے):
Profile Image for Abdullah Shams.
124 reviews5 followers
November 23, 2018
(Full disclosser, I skimmed the last 20-30% of the book). Nicely written, makes you wonder how mandane things have the depth of comic in them. However I might pick this book up at some time in the future, I don't find much apreciation for comic view of life at this point. Fortuantly I am aware of the mistake.
52 reviews1 follower
June 20, 2018
Very funny autobiography of Mushtaq Sahab for certain period in his life. Loved the way of his writing but found it little complicated in terms of reading as language used is quite difficult / pure Urdu.
Profile Image for sohail bhatti.
567 reviews3 followers
July 21, 2018
One of the best autobiographies ever written. Extraordinary writing style of Mushtaq Ahmad Yousafi Saheb. A gem of Urdu literature. Anyone wants to have a taste of Urdu literature must read it obviously along with others.
17 reviews
May 19, 2025
Anything by Mushtaq Ahmad Yousufi is a treat. As a reader, one needs to have extended grip on Urdu or a dictionary nearby to fully understand him but once you do, there is quite no match for his wit and humour.
Profile Image for Fahad Murtaza.
17 reviews3 followers
December 20, 2017
مزاح میں یوسفی صاحب کا کوئی ثانی نہیں. یہ کتاب اس بات کا عملی نمونہ ہے .
Profile Image for Tariq Sheikh.
134 reviews4 followers
January 21, 2020
This was my first book of Yousufi. It was wonderful, really enjoyed reading it.
4 reviews1 follower
Read
September 8, 2020
Had to leave it since it's too difficult to read in one go. But I liked it so much! Will surely return to it when my Urdu is stronger.
Profile Image for Zara Khuld.
33 reviews4 followers
May 12, 2023
اس کتاب میں مشتاق احمد یوسفی نے اپنی زندگی کو مذاحیہ انداز میں پیش کیا ہے
Profile Image for Syed Muhammad  Hamza .
124 reviews1 follower
Read
January 12, 2023
کتاب زرگزشت از مشتاق احمد یوسفی
یہ کتاب مصنف کی سوانح عمری ہے جس میں انہوں نے زیادہ تر اپنے ابتدائی دورِ ملازمت کو موضوع خاص بنایا ہے۔ کتاب کی شروعات میں ہی یوسفی صاحب نے اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ انہوں نے کرداروں کے نام اندیشۂ فتنہ و فساد کے تحت مصلحتاً تبدیل کر دیے ہیں۔
یوسفی صاحب نے اپنی کمال حسِ مزاح کا شاندار مظاہرہ اس کتاب میں کیا ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایسے واقعات جس کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان کو بھی مزاح کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔
کتاب کے کرداروں کی بات کی جائے تو جو کردار سب سے زیادہ غالب نظر آتے ہیں ان میں اینڈرسن سر فہرست ہے، اینڈرسن اس بینک کا ڈائریکٹر جنرل تھا جس میں یوسفی صاحب ملازم تھے، یوسفی صاحب نے اینڈرسن کی تمام عادات و اطوار کو پرخلوص انداز سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ اس کی جہاں اچھی عادات نظر آتی ہیں جو کہ قلیل مقدار میں ہیں وہیں انہوں نے اس کی بری عادات کو بھی پیش کیا ہے جن میں شراب نوشی تو مقدم ہے۔
اینڈرسن کے علاوہ چند دیگر کردار جن میں یعسوب الحسن غوری،خان سیف الملوک خان،عبادالرحمٰن قالب،پروفیسر قاضی عبد القدوس اور مرزا عبدالودود بیگ شامل ہیں۔
یوسفی صاحب نے بہت سی شخصیات کے خاکے پیش کیے ہیں اور خاکہ نگاری کے فن کا ان کی تحریر میں بہت شاندار نمونہ ملتا ہے۔
اگر فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کتاب یوسفی صاحب کی مکمل زندگی کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ یہ ان کی ملازمت کے ملنے کے دور سے لے کر اس عرصہ پہ محیط ہے جس میں انہوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ یوسفی صاحب نے اپنی زندگی کو مطمح نظر بنانے کی بجائے اپنی ملازمت کی کہانی لکھی ہے جو میرے نزدیک ایک مکمل سوانح عمری تو نہیں کہی جاسکتی لیکن اسے سوانح حیات سے باہر بھی نہیں نکالا جا سکتا۔
اس کے علاوہ ہمیں ان کی تحریر میں ایک عام آدمی صنف نازک کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کون سے اجزاء(صنف نازک کے) آدمی کو زیادہ پرکشش لگتے ہیں ان پر بھی اپنی مثال اور عوام الناس کی سوچ کے لحاظ سے مزاح کے طور پہ بات کی ہے جو صرف ان ہی کا خاصہ ہے۔
مجموعی طور پر زرگزشت واقعی میں ایک شاندار سوانح عمری ہے جو کہ مختلف لوگوں کے خاکوں اور مختلف مزاح سے بھرپور واقعات پر مبنی ہے جس میں ہمیں لطافت اور شائستگی کی شیرینی سے بھر پور عمدہ مزاح پڑھنے دیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے۔
تبصرہ = سید محمد حمزہ نقوی
Profile Image for Hashim Hussain.
39 reviews
September 15, 2025
A great autobiography, the writer has this uncanny skill of explaining intricate details of his life in a highly elaborative way with a subtle but eminent humor instilled. The life messages and struggles along the corporate banking career were so well articulated.
Displaying 1 - 21 of 21 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.