A literary work in history and philosophy of the creation of Pakistan. Mukhtar Masood brings into this text his close observation of the years of upheaval preceding the partition of India and the end of Victorian rule. The books details the events, forces, people, and ideas that lead to the creation of Pakistan.
Mukhtar Masood (Urdu: مختار مسعود) is a Pakistani Urdu writer and bureaucrat. A graduate from Sir Syed's Muslim University Aligarh, he migrated to Pakistan after independence and was among the three candidates who succeeded in the civil service competitive exam held in January 1949. He then gradually rose to become a commissioner and a federal secretary. Later on he served as chairman of the Pakistan Industrial Development Corporation (PIDC), Agricultural Development Bank of Pakistan (ADBP) and secretary-general of the Regional Cooperation for Development (RCD).
So far he has written 3 books in Urdu: 1. Awaz e Dost (Urdu: آوازِ دوست) 2. Safar e Naseeb (Urdu: سفرِ نصیب) 3. Loh e Ayyam (Urdu: لوحِ ایام)
He has been awarded Sitara-i-Imtiaz, one of the highest civil awards by Government of Pakistan.
کتاب شروع کی تو سوچااس کتاب سے چند اقتسابات دوستوں کے ساتھ شئیر کروں گی مگر کتاب ختم کرنے کے بعد نگاہ کی تو تقریبا" ساری کتاب ہائ لائٹ کر چکی تهی پڑهتے وقت خواہش ہوئی کہ اس زمانے کا حصہ ہونا چاہئے تها.ان عظیم لوگوں کو قریب سے دیکهنے کا موقع تو ملتا.اس عظیم تحریک کا حصہ ہوتے .وہ سب ایک ایک کر کے دریائے زیست کے اس پار چلے گئے اور یہاں قحط پڑ گیا اب تو قائداعظم،اقبال،ظفر علی خان،بہادر یار جنگ اور تحریک پاکستان کے ہر رکن اور کارکن سے معذرت کرنے کی خواہش ہے کہ ہم نے انکی جدوجہد انکے خوابوں کی تعبیر کو کیسے حسرت و غم میں بدل دیا ہے
It took me almost one month to finish this book since I live in a society where book reading has become obsolete and the reader is considered an antiquated :)
I am speechless after finishing this book... Cried when I realized Qahat-ur-Rajal Adored when I read ideology of our country Emotional when I read about independence activists Confused when I read the about-face of personalities before and after partition
If any witness can define the struggle of independence, British influence over Indian mindset, post-independence fate of Muslim struggle, hopeless political leadership after the demise of Quaid-e-Azam; I would call him Mukhtar Masood. We have surely gotten an independent state but unfortunately our minds, approach, system and bureaucracy is still a slave of pre-partition mentality. Our nation lost virginity the very first year of its birth. After all, a very good reading for all those who are in love with Pakistan and its ideology.Awaz-e-DostMukhtar Masood
تبصرہ کتاب آواز دوست(مختار مسعود ) بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو انسان جلد ختم کرنا نہیں چاہتا ہے کیوں کہ اسے ایک انجانا سا خوف ہوتا ہے کہ اگر یہ کتاب مکمل ہوگئی تو پھر میں کیا پڑھوں گا ۔آواز دوست ایک ایسی ہی کتاب ہے۔شروع سے ہی یہ کتاب آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور یہ سحر بدستور آخر تک قائم رہتا ہے۔ ایک ادبی پارہ یا اردو کلاسیک تحریر کرنے کے لئے مصنف کے پاس وافر ذخیرہ الفاظ اور تاریخی و ادبی حوالے ہونے چاہیئے اور مصنف ان تمام خوبیوں میں طاق حیثیت رکھتے ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی چھاپ آپ کے ذہہن پر رہ جاتی ہے اور آپ نہ چاہتے ہوئےبھی کتاب میں پیش کئے گئے نظریات کو اپنی سوچ کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ آواز دوست بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ مصنف نے اس کتاب کا دیباچہ یوں لکھا ہے۔ "اس کتاب میں صرف دو مضمون ہیں۔ ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر۔ ان مضامین میں فکر اور خون کا رشتہ ہے۔ فکر سے مراد فکر فردا ہے اور خون سے مراد خون تمناء۔ کتاب کا پہلا مضمون مینار پاکستان کے بارے میں ہے۔ مصنف مینار کی تعمیراتی کمیٹی کے رکن ہیں اور وہ مینار کی بنیادوں سے لے کر بالائی منزل تک کا سفر طے کرتے ہیں اور اس مختصر سفر میں اپنے خیالات اور چشم بینا کا طویل اور جامع سفر پیش کرتے ہیں۔ کبھی مصنف مصر کے احرام میں محو ہیں تو کبھی روم و فرانس کے بلند قامت میناروں پر غور و خوض کرتے ہیں۔ غرض مصنف کے ساتھ ساتھ آپ بھی تاریخ و سیاست کے سفر پر نکل پڑتے ہیں ۔ دوسرا مضمون قحط الرجال کے بارے میں ہے۔ "" قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔"" اس مضمون میں مصنف کافی دل گریفتہ نظر آتے ہیں اور ماضی کی کچھ عظیم شخصیات کے بارے میں بتاتے ہیں اور افسوس کرتے ہیں کہ ہم نے ان کی قدر نہ کی اور نہ ہی ان کے نقش قدم پر چلے۔ بات ایک آٹوگراف البم سے شروع ہوتی ہے جس میں کچھ عظیم شخصیات کے دستخط درج ہیں۔ اس کتاب میں اگر مسلم لیگ کے قائداعظم کے تدبر کا ذکر ہے تو کانگریس کی سروجنی نائیڈو کی حق گوئی کے قصے بھی ہیں۔ اگر ای ایم فاسٹر کے ناول کی تعریف ہے تو ٹائن بی جیسے مورخ کی تحسین بھی ہے۔ اگر حسرت موہانی کی حق گوئی کے واقعات ہیں تو مولانا ظفر علی خاں کی انگریز کے خلاف بغاوت کے قصیدے بھی ہیں۔ اگر راجا آف محمود آباد کی فراست کا ذکر ہے تو نواب بہادر یار جنگ جیسے عاشق رسول مقرر کی باتیں بھی ہیں۔
اگر اس کتاب کو اردو کی شاہکار کتاب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔
محترم جذبات کی روح میں بہ کر بولتے ہیں ان کے جملوں میں جذباتیت ہمارے زہن کا خاصا بھی ہے ۔ لکھتے ہوئے اتنے جذباتی ہوئے کہ موت سے ڈر کو زوال مسلماں قرار دے دیا۔۔۔ شاید انھوں نے لاہور جلتا نہیں دیکھا خوں میں نہائے لوگ نہیں دیکھے ادبی پارے کے طور پر یہ شہکار ہے جس میں الفاظ کا تعمل تخیلقی آسمان سے باتیں کررہا ہے مگر تاریخی حقائق کے اعتبار سے اس کی حثیت صفر ہے ایک اچھے ادب میں ممکن ہے کہ آپ کسی تنیجے پر بھی نہ پہنچ پاہیں مگرعلم کی معراج یہ بھی کہ وہ آپ کے اندد thought process کا آغاز کرتی ہے آپ اس کتاب کو تحقیقی نگاہ سے دیکھیں تو اس کا حاصل صفر ہے لیکن اگر تخلیق کی بات کی جائے تو مختار مسعود بالکل بھی الگل مقام رکھتے ہیں جسے چاہے تو آپ مینار پاکستان جتنا اونچا کر لیں اور چاہے تو زمیں پر گرا دیں لیکن ایک بات ہے ان کو مینار پاکستان بننے میں بہت مان ہے یوں کہ جیسے یہ دل سے ایک رستہ جو انہیں ماضی کی یادوں میں لے جائے۔ میں کہتا ہوں شاید محبت میں آکر سچ معانے کھودینا چاہتا ہے اور وہاں جذبات سے ہی کام چلتا ہے۔ محبت تو کی ہی ہوگی آپ نے ؟
مینار پاکستان کی بنیادیں ڈل رہی ہیں مختار مسعود تحریک پاکستان کا قصہ چھیڑے مینار پاکستان کے مناروں پر غور کرر ہے ہیں کبھی بات تکنیکی ڈزاین پر آجاتی کبھی علی گڑھ کا منظر الفاظ سے بہنے لگتا ہے ان کی یادوں میں مسلمانوں کی قربانیوں کے قصے خون کے منقسم چھینٹوں کی طرح الفاظ بن کر مجھ سے باتیں کرنے لگتے ہیں ۔۔۔ گو کہ میں جذباتی ہو جاؤ گا مگر میری منتک کے گھیرے میرے بے چین روح کا اضطراب ..... یہ بڈھا تحریک آدھا سچ بتا رہا ہے" میں جواب دینا چاہتا تھا میں نے پڑھ رکھی ہے India wins freedom کا بھی پتا ہے Atlantis charter مجھے خفیہ معاہدے
مگر وہ مطمن روح نے ایک اور قصہ چیڑھ لیا .میں سوچتا رہا خدا کے قریب ہو کر سوالات پر لاجک کی ضرورت کیوں نہیں ہوتی ۔۔۔ ان کو بھی قرب الہی کا تریاق لگ گیا تھا اور وہ مطمن تھے ۔۔میری دال یہاں نہیں گلنے والی ۔۔۔۔ سچ بے شک ان سے بہت دور تھا لیکن جس دور میں آنہوں نے آنکھ کھولی اسکا سچ پاکستان تھا پھر خوشی کی لہر اس ادھیڑ عمر کو جوان کر دیتی ہے پاکستان بن گیا۔ کبھی ان کی آواز انسانی زبوں حالی پر نوح کناں ہوتی روم اور ایتھنز کے قصوں سے جاملتی ہے تو کبھی بات قران پر آجاتی ہے پھر تھک گئے تو مجھ سے کہنے لگے بیت کر لوکسی کی۔۔۔۔اس پر ایک قصہ سنایا کسی دوست کا بدلتا معیار ان کو یوں چبھا کہ گویا مجھ سے کہہ رہے ہوں برضغیرکے سیاسی مومن اور پاکستان کا مالدار بزنس میں بڑا فرق ہے "بہادر یار جنگ " کے نام سے واقف ہو؟ "نہیں " میرے ذہن کی ایک اور نوشتہ دیوار گرگئی اس شعلہ بیاں مفکر سے تاریخ کا تانا بانا ادھیڑنے لگے کہ مجھے پتا چل سکے کہ آذادی کی گونجھ میں اصل ہیروز کا ضرف کیا ہوتا ہے میں سوچنے لگ گیا ہم جذباتی اتنے کیوں ہیں ؟ میرے ذہن میں آغا کاشمیری آئے اقبال کی شاعری آئی ۔۔۔ کیا جذبات کی روح میں بہانے کے علاوہ بھی لوگوں کسی طرح لوگوں کو اکھٹا کیا جاسکتا ہے؟ پھر ای ایم فوسڑ کا ذکر آیا تو میرے انگریزی دماغ کو اپنائیت کا احساس ہو انھوں نے غلام ہندوستان اور مالک انگریز کا جو موازنہ کیا ہے اس سے یہ بھید عیاں ہو جاتا ہے کہ ہم چوری ، چغلی اور بغض منافقت کو اتنا پسند کیوں کرتے ہیں ؟ میرے آباد دل کی وارفتگی سے عقل ہٹ کر عقل بہت کچھ سوچنا چاہتی تھی کہ کھڑکی کو بارش کا گمان ہونے لگا اور میں ۔۔۔ وہ ابھی کمرے میں نہ آئے تھے مجھے لگا منٹو کے ٹائپ رائڑ جیسا خزانہ یہاں بھی ہوگا مگر میں نے میز پر ماضی کی یادوں کو بکھرا دیکھا ایک صفحہ انکھوں کے قریب کیا تو ذہن نے نام حسرت موہانی پڑھا میں بدک گیا ، یہ شاعر ۔۔۔ یہ بھی مشکل شاعری میں غالب کا بھائی ہوگا مگر ورق پلٹے تو فقیری کا گماں ہوا
پھر مولانا طفر علی خاں اور عطا اللہ شاہ بخاری کی باتیں۔۔ عطااللہ شاہ بخاری کہتے ہیں مسلمانان ہند نے نئی سیاست اور تعلیم کو اپنایا اس لیے دین سے دوری ان کے زوال کا سبب بنی۔۔۔ میں ان سے کہتا ہوں ۔۔ علی گڑھ کے بانی کی تعلیمات ہی پڑھ لیتے ۔نئی تعلیم اور سیاست وجہ زوال ہے تو وجہ عروج انگلستاں کیا ہے؟ گورے نے ہم سے بہت کچھ سیکھا ہم کیوں نہیں ان سے سیکھ سکتے؟ موصوف کے ایک دوست کہنے لگے کہ قائد نے مسلم لیگ کو مئنارٹیز لیگ بولا تھا۔۔۔ میرا دل کیا ان کو بتاؤں راجہ صاحب کل جرنل کہ رہا تھا یہ صرف مسلمانوں کو وطن ہے
کتاب ایک مقصد کو حاصل کرنے والے ان کے قریبی ساتھیوں کے گرد گھومتی ہے؟ اس مقصد کی سب سے بڑی چپ " کیوں " ہے؟ یہ وطن کیوں حاصل کیا۔ اس میں مختار صاحب کنفیوز نظر آتے ہیں ان کو بڑا تامل ہے کہ وہ بہت بڑی بڑی شخصیات سے ملے لیکن اہمیت چند کھری لوگوں دی۔۔۔ کتاب میں بہت سے خوبصورت جملے ہیں لیکن یہ میرے پسندیدہ ہے قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی... زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے ذیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں 1870 اس دہائی میں بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے گاندھی جی بے دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش میں اس دہائی سے ایک سال قبل پیدا ہوگئےوہ دس برس بھی کیا منتخب سال تھے کہ اگر یورپ میں چرچل ، لینن اور سٹالن پیدا ہوئے تو براعظم میں قائدعظم ، علامہ اقبال ، محمد علی جوہر اور ظفر علی خان بھی انہیں برسوں میں پیدا ہوئے۔۔۔۔ ہمارے حصے میں تو ایک ہجوم آیا سرگشتہ اور برگشتہ
کچھ کتابیں ہوتی ہیں جو شروع کر لی جائیں تو ختم کیے بغیر رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ زندگی کی گو نا گوں مصروفیات ایسی دلچسپ کتاب کو ایک ہی نشست میں ختم کرنے کی مہلت اب کم ہی دیتی ہیں اور ہر دفعہ اگلی بار کا انتظار رہتا ہے۔ عرصہ دراز کے بعد ایسی ہی ایک بہترین کتاب زیر مطالعہ آئی ہے۔ لفظ لفظ قابل داد، بعض فقرے لاجواب اور بعض صفحات داد سے بالاتر۔ مختار مسعود صاحب نے موجودہ دور میں قحط الرجال کا رونا رویا ہے اور قابل فہم طور پر ماضی سےعظیم لوگوں کا ذکر لائے ہیں۔ تحریک پاکستان اور اس سے متعلقہ مشاہیر کا ذکر اور مختار صاحب کا اچھوتا اندازِ تحریر دلچسپی سے خالی نہیں۔
"ایک اچھے نظریے کے لیے بہت سے دوسرے نظریوں کا ہونا ضروری ہے ." - لائنس پالنگ .
نامِ بیاض پراسرار , پرانی روایات انفرادی زاویے سے مرتب ہیں.تحریر بسیط, مصفا اور ادبی فراست سے لبریز. پڑھنے میں اجتماعی خودشناسائ کا احساس ہر سطر میں غالب رہتاہے. یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی کتاب ٹھری کہ میرا آدھا دن دیباچہ پڑھ کے کٹا تو باقی کا انتساب . دیباچہ زیرِ نظر آیا تو آہ نکلی , انتساب پڑھا تو واہ نکلی. باقی مضامین کے لیے تو بس دل لگی کا سا رشتہ بن گیا .
کبھی جی میں آتا کہ علی گڑھ کے یونین ہال میں جا بیٹھوں اور سروجنی کو سنوں تو کبھی حالی کی بے حالی پہ آنسوں بہاؤں . کوئ مسدس آنکھوں سامنے لکھی جائے, تو کوئ سیرۃ النبی لکھنے والا مل جائے.
کتاب کے دو مضامین یا حصے ہیں اور حاصل ان گنت.
۱. مینارِ پاکستان. ۲. قحط الرّجال.
پہلے میں اگر علؤمینار ہے تو دوسرے میں علؤ افکار. اردو ادب اور شاعری میں ہر مردِشناس نے مزاح کوپیش پیش رکھنے سے چنداں عار نہ کی. اوریہی شیوامختار مسعود صاحب کا بھی وقتاً فوقتاً رہا ہے البتہ دوسرا حصہ چونکہ نہ موقع بنا نہ ہی دستور تو گریز لازم ٹھرا.
کتاب کے دوسرے حصے میں مختار مسعود صاحب قدرشناسی سے ان لوگوں کی زندگیوں کا تجزیہ کرتے ہیں جن سے یہ ملے یا دیکھا اور آٹوگرافس لیے. ان میں کل ۱۳ شخصیات ہیں جن میں حالی, مولانا ظفر علی خان, عطاءاللہ شاہ بخاری , سروجنی نائیڈو, ٹائن بی ..... اور آخر میں قائد اعظم کے بارے میں تحریر ہے.
علی گڑھ بھی پوری کتاب میں نمایاں مقام رکھتا ہے . اور میرے خیال سے یہ کتاب کی شرطِ اول بھی ٹھری ہوگی کیونہ بغیر علیگڑھ اور اس کے طلباء ٰ پاکستان لاحاصل بن جاتا. علی گڑھ کا ادارہ جو "انفرادی ضرورت" اور "متحدہ خواہش" کے تحت قائم ہوا, تحریکِ پاکستان کا جزوِ لا ینفق ہے.
اردو کی بلا شبہ یہ ایک زندہ تحریری کاوش کے طور پہ ہمیشہ حلقہء ذوق شناس میں یاد رکھی جائے گی باوجہ اس کے کہ یہ کتاب جتنی ہی علمی ہے اتنی ہی ادبی.
a brilliant book; show cases the literary skill and philosophical depth of the writer. its a collection of essays on different people along with a separate section where writer has drawn parallel between the construction of Minar e Pakistan and the creation of Pakistan- a soulful narration. the pen sketches of different personalities are not only the sketches but a complete profile of the character with the reference of that particular era. language is scholastic decorated with sprinkling of poetry mostly Persian. some how I feel that style of prose featured in this book is influenced by "Ghubaar e Khatr" Mr. Masood has shown respect for Mulana Azad style though did not approve of his Politics. the description of personalities is awesome the range of people discussed is immense ;from Ma Jinnah to Chirag Hassan Hasrat and from Sarojni Naidu to Arnold Toynbee. writer is a worker of Pakistan Movement and has clearly shown his emotional attachment with it but his arguments are based on logic and supported by historical references. a must read
یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے میں مینار پاکستان کی تعمیر کے بارے میں بات ہوئی کیونکہ مصنف تعمیری ٹیم کا حصہ تھے اور دوسرے میں مشہور شخصیات کا تعارف ہندوستان کے آزادی کے پس منظر میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزادی کی جدوجہد اور آزادی کے بعد نئے ملک میں مشکلات اور عمومی رویے پر تبصرہ بھی ہے۔
اس کتاب کے نثر بہت عمدہ ہے۔ بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اور آپ کو کہیں بھی بور نہیں ہونے دیتی۔ ایک ایک سطر قابل ستائش ہے۔ اگر آپ عمدہ نثر پڑھنے کا شغف رکھتے ہیں اور شخصی خاکوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس کو ضرور پڑھیں۔ بہت عمدہ کتاب ہے۔
This book was gifted to me by my corporate law teacher Mr Rahat Aziz during my college life. Got missed up in my boxes and got delayed in reading. Sincerely regret taking it up so late to read. It is certainly an inspirational book that dwells into the lives of persons who played a pivotal role in independence of Pakistan. Succinct, thorough and thought provoking. Enjoyed every bit of it.
. "مجھے ایک ایسا مورخ ملا جو تاریخ کے بکھرے ہوئے اوراق میں اس شاعری کی تلاش کرتا ہے جو خدا کو پہچاننے میں مدد دیتی ہے. اسکی نظر میں انسان وہ چوبِ خشک ہے جس سے ہر دم آوازِ دوست آتی ہے اور خدا وہ ذات ہے جس سے انسان کو شرف اور شعور ملتا ہے. زندگی کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس مہلت میں انسان خدا سے اپنا تعلق قائم کرلے. تلاشِ حق میں انسان کی ساری صلاحیتیں حدِ کمال تک پہنچ جاتی ہیں اور روح انتہائ بلندیوں کو چھو لیتی ہے". 2018 کے موسم خزاں میں میری جناب مختار مسعود سے واقفیت ہوئ تھی، جو انکی تصنیف میں نے پہلے پڑھی وہ لوح ایام تھی اور وہ دن ہے اور آج کا دن انکا اندازِ بیان و تحریر نے دوران مطالعہ میری توجہ کو کبھی ایک پل لے لئے بھی دور نہیں کیا. اگر مصنف جملوں، الفاظوں میں اقتباسات میں ربط نہ قائم کر سکے تو اسکا مطلب اسے لکھنا نہیں آتا اور یہ ربط ملحوظ رکھنا انہی لوگوں کے لئے آسان ہوتا ہے جن کے پاس مواد کا ذخیرہ بھی ہو. مختار مسعود کے پاس یہ خوبی ہے جو انہیں رب العزت سے ملی کہ گویا قلم اٹھایا ہو اور بس لکھتے ہی جا رہے ہوں ساتھ قاری کو ہر اس جگہ کی سیر کروا رہے ہوں جہاں خود موجود ہوں. آوازِ دوست کی بات کی جائے تو وہ انکے اقتباس سے ظاہر ہے کہ آخر کس دوست کی آواز مراد ہے. اس کتاب میں طنز بھی موجود ہے مگر شائستہ انداز میں، بقول اقبال دل سے جو آواز نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے اور واقعی انکا انداز ایسا ہی ہے.
کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ایک مینار پاکستان کے عنوان سے جس میں مینار کو زکر بحث لایا گیا ہے اور دوسرا قحط الرجال جو کہ ایک بہت بڑا درد ہے خود میرے لئے بھی. جیسے مصنف کو تلاش ہے ان مردوں کی جنہیں واقعی مرد کہا جائے وہی تلاش میری بھی ہے. یہ مردانگی ظاہری جسامت پر مبنی نہیں اس میں انسان داخل ہے جو اشرف المخلوقات کہنے کے قابل بھی ہو. فرق یہ ہے کہ مصنف کو پھر بھی کافی ملے لیکن میں تلاش میں نکلی تو بہت کم، شاید میری نظر کا قصور ہے کہ جسے مرد مانوں تو وہ کچھ وقت بعد نفسانی خواہشات میں گھرا ہوا نظر آتا ہے اور جہاں سے مجھے پھر راستہ بدلنا پڑتا ہے جیسے مصنف کو اپنی آٹو گراف البم بند کرنی پڑتی ہے. بہر حال مصنف کا معلوم نہیں کہ انہیں ابھی بھی مہلت ملی ہوئ ہے کہ نہیں پر مجھے ملی ہوئ ہے مگر کب تک یہ نہیں معلوم
آواز دوست مختار مسعود کی 1972میں لکھی گئی انتہائی زبردست کتاب ہے جو غالبا مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے دل پر لگے زخموں کے مرہم کی تلاش میں ماضی کے اس سفر کی یاد تازہ کرتی ہے جس کے ذریعے چند ہستیوں نے ایک خواب کو تعبیر کیا تھا۔ یہ مخصوص ہستیاں مصنف کی آٹوگرافز کی ڈائری میں بظاہر ان کے ناموں کی صورت درج ہیں البتہ ان کے احوال اور خصائص مصنف کے ذہن میں نقش ہیں جن کو بڑے خوبصورت انداز میں اس نے کتاب کے دوسرے مضمون "قحط الرجال" میں بیان کیا ہے۔ بقول مصنف نصف ڈائری ابھی بھی خالی ہے کیونکہ ق��ط الرجال کے نتیجے میں ان کو اپنی ترانوے سالہ زندگی میں اس قابل لوگ میسر نہیں آسکے۔
کتاب کا پہلا مضمون "مینار پاکستان" 1968 میں لکھا گیا جس میں مصنف نے بڑے شاندار طریقے میں دنیا میں پائے جانے والے مختلف میناروں کا ذکر اپنے تجربے اور معلومات کی روشنی میں کیا ہے اور بعد ازاں تسلسل قائم رکھتے ہوئے مینار پاکستان کی تعمیر کے مقصد اور اس کی وجہ تسمیہ پر روشنی ڈالی ہے۔ دوسرے مضمون میں چند نامور ہستیوں جیسے نواب بہادر یار جنگ، ادیب ای ایم فاسٹر، حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، سروجنی نائیڈو، تاریخی فلاسفر آرنلڈ جے ٹائن بی اور قائد اعظم کے علاوہ دیگر کئی حضرات کا تذکرہ مصنف کے ذاتی خیالات کی صورت میں ملتا ہے۔ مختلف سکیشنز ہونے کے باوجود مصنف کا طرزِ تحریر اور تعمیر فکر کا طریقہ کار اس قدر جاندار کے نہ تو تسلسل ٹوٹتا ہے اور نہ ہی قاری کی دلچسپی کیوں کہ ہر نئے صفحے پر الفاظ ایک نئے فکر انگیز معنی اور نئی ترتیب کے ساتھ موجود ہوتے ہیں جو مصنف کے کثیر مطالعے اور بے حد تجربے کا ثبوت ہے۔ مجموعی طور پر کتاب تحریک پاکستان کے بانیوں کا تذکرہ، تاریخ پاکستان کا خلاصہ اور مینار پاکستان کا تعارف ہے۔
Read Mukhtar Masood sahib for the first time and found that he's good writer as well as sarcastic.
This book is divided into two chapters, Mukhtar Masood writes this book in a way that you'll not even come to know that you're going through history chapters.
BTW let's come to the book, this book depicts our society more that 100 percent perfectly, we as nation are hypocrite and those who excels this ability of hypocrisy we start respecting him and appreciate his hypocritical work. He gives many examples related to hypocrisy of our society and political figures.
As I mentioned above that this book is more about history of subcontinent and Pakistan. Pakistan face many problems after appearing on the world map as a new nation, however the biggest problem or issue that Pakistan face soon after it's creation is the unavailability of good and honest leaders and peoples. It seems that after the creation of this new Muslim country Pakistani become barren who couldn't or lost the ability to give birth people like Mr. Jinnah and Sir Iqbal (I'm not fan of Iqbal).
This book is must read if you want to understand our society and politics, if you like me also have question that why Pakistan is not growing or progressing, then I got happy news for you that this book will answer your questions.
مختار مسعود کو میں نے بہت دیر سے پڑھا۔ شاید مجھے ان کو 12-15 سال کی عمر میں پڑھنا چاہیے تھا کہ جب میں اقبال، قدرت اللہ شہاب، کرنل محمد خان، اشفاق حسین مزاح نگار، مشتاق یوسفی وغیرہ کو پڑھنا شروع کر چکا تھا۔
آوازِ دوست میری زندگی کی وہ واحد کتاب ہے کہ جس کو میں ساری زندگی اپنے ساتھ رکھنا چاہوں گا۔ میں اپنے ہر ملنے والے، ہر دوست، ہر رشتے دار کو استفسار پر "آوازِ دوست" پڑھنے کا مشوہ دیتا ہوں۔ مختار مسعود کی گو کہ تینوں کتب لا زوال ہیں مگر آوازِ دوست چونکہ تحریکِ پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی ہے اس لیے لفظ لفظ موتی ہے اور ہر صفحے پر علم، ادب، تاریخ، فلسفے اور حب الوطنی کے خزانے بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک ایک سطر کے پیچھے برسوں صدیوں کی داستانیں ہیں۔ مختار مسعود کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تمام عمر کا مطالعہ، سفر، تجربہ تحریر میں یوں سمو دیتے ہیں کہ قاری کو احساس بھی نہیں ہوتا، نہ ہی تحریر میں بھاری پن در آتا ہے۔ ان کا لکھا فکشن نہیں ہے، حقیقت ہے اور ہر تحریر پر آپ بیتی کا گمان ہوتا ہے، جبکہ درحقیقت وہ جگ بیتی بھی ہوتی ہے۔
آوازِ دوست کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ مینارِ پاکستان کی تعمیر کے تناظر میں لکھا گیا ہے جبکہ دوسرے حصے میں مصنف کے پسندیدہ شخصیات کے بارے میں ذاتی تاثرات درج ہیں۔ پوری کتاب کی ایک ایک سطر پڑھنے اور "ہائی لائٹ" کیے جانے سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔
آخر قدرت ایک سپاس نا آشنا قوم کو بڑے آدمی کیوں عطا کرے، اسے اپنے عطیے کی رسوائی اور بے قدری ناگوار گزرتی ہے۔ " عطا کا پہلا حق یہ ہے کہ انسان اس کا شکر ادا کرے۔ دل شکر سے لبریز ہو تو روشن ہو جاتا ہے، شکوہ کیجئے تو بُجھ جاتا ہے، ناشُکر گُزار ہو تو پتھر بن جاتا ہے۔ "شکر گزار ہمیشہ روشن ضمیر اور روشن دماغ ہوتا ہے، ناشکر گزار بے ضمیر اور بد دماغ ہو جاتا ہے۔
ایک بہترین کتاب جو بلاشبہ علمی تشنگی کی آبیاری کرتی ہے
اس کتاب کے آغاز میں ہی بتایا گیا ہے کہ دو حصوں پر مشتمل ہے ، پہلا حصہ "مینار پاکستان" چونتالیس صفحات پر محیط ہے جبکہ بقیہ سارے صفحات جس عنوان کے تحت لکھے گئے ہیں وہ "قحط الرجال" ہے - کتاب دو چیزوں "تاریخ پاکستان" اور "خوبصورت نثر" کی ملاوٹ ہے لیکن اسے جس انداز میں لکھا گیا ہے وہ کارگزاری جیسا ہے -
مینار پاکستان کی کہانی شروع ہوتی ہے تو مینار پاکستان کا تذکرہ بس نقطہ آغاز کے طور پہ آتا ہے ، اس کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ شائد کتاب کا یہ حصہ مینار پاکستان نہیں بلکہ میناروں کی عالمگیر تاریخ پر لکھا گیا ہے - میناروں کی ابتدائی تاریخ سے لیکر ان کی موجودہ اہمیت تک مصنف دنیا کے سارے قابل ذکر میناروں کا تعارف پیش کر دیتا ہے اور قاری اس بات پر حیران رہ جاتا ہے کہ کسی عام سی چیز کا تذکرہ اتنے خاص انداز میں بھی کیا جا سکتا ہے ؟ اس حصے کے نصف صفحات تو بڑے مزیدار دلچسپ ہونے کے علاوہ ادب اور معلومات سے بھرپور ہیں لیکن بقیہ صفحات مینار پاکستان کی تاریخ اور پس منظر کو بیان کرتے ہیں جو سیاسی و پاکستانی رنگ اختیار کر لیتے ہیں -
کتاب کے دوسرے حصے قحط الرجال کے ابتدائی کچھ صفحات بھی بڑے متاثر کن مضامین پر مشتمل ہیں لیکن جیسے ہی آگے بڑھتے ہیں تو پھر پاکستان کی وہ تاریخ پڑھنے کو ملتی ہے جو یکطرفہ اور سوانح نگاری کے انداز میں لکھی گئی ہے - تحریک پاکستان سے جڑی مختلف شخصیات کی شان اور عظمت میں مصنف نے کوئی کسر نہیں چھوڑی - البتہ ایک بات جو ناقابل انکار ہے وہ یہ کہ کتاب کے آغاز سے لیکر اختتام تک ساری تحریر پر ایک دلکش اور یکساں ادبی رنگ چھایا ہوا ہے جس پر مصنف خصوصی داد کا مستحق ہے اور یہی اس کتاب کی انوکھی خاصیت بھی ہے -
مختصر لکھنا چاہوں تو کتاب کے دونوں حصوں کے ابتدائی صفحات علم ، بصیرت اور شاندار مطالعے کا عکس ہیں اور باقی کے سارے صفحات بالکل ایسے لکھے گئے ہیں جیسے آپ مطالعہ پاکستان کو ادبی ارنگ میں ڈھال دیں - اگر آپ اس کتاب کی خوبصورت نثر کا لطف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضرور پڑھیں لیکن اگر آپ اس میں لکھی گئی تاریخ پاکستان سے دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر آپ مطالعہ پاکستان کی کتاب پڑھ لیں کیونکہ اس معاملے میں دونوں کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں -
قحط الرجال کسی معاشرے میں کارآمد لوگوں کے ناپید ہونے کو کہتے ہیں۔ ان لوگوں کی عدم دستیابی نیم حکیموں اور نیم ملاووں کو جنتی ہے جو کہ بقول ضرب المثل (نِیم حکیم خطرۂ جان نِیم مُلّا خطرۂ ایمان) کسی معاشرے کے افراد کا اس دنیا اور آخرت میں عرقابی کا عین فرمان ہوتا ہے، اسکی موجودگی معاشرے میں کمزور حکمرانوں کو جنم دیتی ہے جو کسی معاشرے میں استحکام، مساوات خوشحالی اور دیگر ضروری عوامل کے اطلاق میں زبوں حالی کا شکار رہتے ہیں۔ قحط الرجال کی بدولت معاشرے کی فنون لطیفہ میں کثافت پیدا ہو جاتی ہے، زبان پہلے اپنی فصاحت کھو دیتی ہے اور پھر بولیوں میں بٹ جاتی ہے اور اسی کے سبب فلسفہ ہائے حیات اور مذاہب ایک دوسرے سے گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ ان سارے اور دیگر عوامل کے تجزیے کے بعد ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ معاشرے کے قائم و دائم رہنے میں صاحب فہم و ذکا کا ہونا ناگزیر ہے، ان لوگوں کی زندگی معاشرے کی دنیاوی اور روحانی خوشحالی کا سامان ہوتی ہے، یہ لوگ اپنے حصار میں ایک روشن ہالہ لیے پھرتے ہیں جس میں داخل ہو کر اس سے فیض حاصل کرنا ہر ایک متلاشی کی قلبی خواہش ہوتی ہے۔ مختار مسعود کی کتاب "آواز دوست" بھی انہی اشخاص کے کھوج کی داستان ہے اس کتاب میں مصنف اپنے بچپن سے زمانہ ملازمت تک ان لوگوں کے احوال کا تذکرہ کرتے ہیں جن سے مصنف کی ملاقات ہوتی ہے جن کا دائرہ سیاست دانوں، شاعروں، تاریخ دانوں، مذہبی شخصیات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد پر محیط ہے اور ان عظیم شخصیات کا مطالعہ کر کے، اور ان کے عصر رواں میں کمیابی کی وجہ سے، قاری کو اپنے غلط صدی میں پیدا ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔کتاب جب الوطنی، روحانیت، تاریخی واقعات اور مصنف کے زندگی کے تجربات سے بھرپور ہے کتاب کا متن سادہ، سلیس اور پر لطف ہے۔
Mukhtar Masood is a great writer but I liked his Loh e Ayam better than Awaz e dost. You could feel the Iranian revolution unfolding in Loh e Ayam. I didnt feel moved while reading Awaz e dost. It is well written, no doubt. There is one thing though about Mukhtar Masood's work that I would like to critisize. Sometimes he doesn't mention the identity of a person he is quoting and at other times he leave out crucial pieces of informtion while relating an important event. (This is done more often in Loh e Ayam than in Awaz e dost) Maybe Masood sahib is trying to play it safe by making use of innuendos. His contemporaries might have been able to recognise the people mentioned by the hints given by Mukhtar Masood but for readers like us, who were born at later stage and who are not familiar with those personalities, it is sometimes difficult to figure out who is who. Over all, Mukhtar Masood is a powerfull writer with an excellant grip over urdu language.