“سب دن اور سب زمانے ہمارے اندر ہیں مگر ہم اپنی تنگ ظرفی سے انھیں مار کر ماضی بنا دیتے ہیں اور اپنے اندر دفن کر دیتے ہیں۔ ہمارا اندر ؟ ایک بڑا مدفن ہے جس میں جانے کتنے آج' کل بن کر دبے پڑے ہیں۔ مجھ پر سنک سوار ہے کہ کہانی کا منتر پھونک کر سوئے ہوئے کلوں کو جگاؤ اور اپنے اس ننھے سے جاگتے آج میں سمولو! مگر پھر وہی بات کہ میں نہ ہاتھی ہوں کہ مجھے اپنے سارے کل یاد ہوں نہ مہاتما بدھ ہوں کہ سارے گزرے کلوں کو سمیٹ کر ایک جگمگا تا آج بنالوں، مگر چلو حسرت ہی سہی۔ اس حسرت کا حق تو مجھ سے مت چھینو۔" ( انتظار حسین، کچھوے، صفحہ: 176)”
―
Kachway / کچھوے
Share this quote:
Friends Who Liked This Quote
To see what your friends thought of this quote, please sign up!
0 likes
All Members Who Liked This Quote
None yet!
This Quote Is From
Browse By Tag
- love (101846)
- life (79957)
- inspirational (76350)
- humor (44524)
- philosophy (31206)
- inspirational-quotes (29051)
- god (26991)
- truth (24849)
- wisdom (24804)
- romance (24488)
- poetry (23459)
- life-lessons (22761)
- quotes (21226)
- death (20639)
- happiness (19108)
- hope (18673)
- faith (18522)
- inspiration (17541)
- spirituality (15834)
- relationships (15749)
- life-quotes (15660)
- motivational (15531)
- religion (15447)
- love-quotes (15419)
- writing (14988)
- success (14232)
- travel (13643)
- motivation (13461)
- time (12913)
- motivational-quotes (12672)

