“لوگ دوسرے لوگوں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟”
” ذرا ایک منٹ ٹھہر کر اس مسلے پر غور کریں. وہ کون سے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آزار نہیں دیتے؟
وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو دکھ نہیں دیتے. ان کے اندر دکھ کا اور آزار کا لاوا اتنا شدید نہی…ں ہوتا کہ وہ ابل کر دوسروں پر گرنے لگے.
چناچہ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسروں کو حفاظت میں رکھنے کے لئے خود کو حفاظت میں رکھنا بہت ضروری ہے….
اصل میں “خود کریمی” ہی “مخلوق کریمی” ہے. چونکہ اس کا منبع ایک ہی ہے اس لئے یہ سبھی کو ایک سا سیراب کرتی ہے-
اور خود کریمی کا اجرا اس طرح ہوتا ہے کہ سچ کو اندر آنے دیا جائے اور اپنے زخموں کی مرہم پٹی کرنے دی جائے تاکہ اپنا اندر صحتمند ہو جائے.”
― Baba Sahiba / بابا صاحبا
” ذرا ایک منٹ ٹھہر کر اس مسلے پر غور کریں. وہ کون سے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آزار نہیں دیتے؟
وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو دکھ نہیں دیتے. ان کے اندر دکھ کا اور آزار کا لاوا اتنا شدید نہی…ں ہوتا کہ وہ ابل کر دوسروں پر گرنے لگے.
چناچہ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسروں کو حفاظت میں رکھنے کے لئے خود کو حفاظت میں رکھنا بہت ضروری ہے….
اصل میں “خود کریمی” ہی “مخلوق کریمی” ہے. چونکہ اس کا منبع ایک ہی ہے اس لئے یہ سبھی کو ایک سا سیراب کرتی ہے-
اور خود کریمی کا اجرا اس طرح ہوتا ہے کہ سچ کو اندر آنے دیا جائے اور اپنے زخموں کی مرہم پٹی کرنے دی جائے تاکہ اپنا اندر صحتمند ہو جائے.”
― Baba Sahiba / بابا صاحبا
“کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سیارہ بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور مائع گیس میں بدل جاتا ہے‘ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے‘ جو موسم‘ جو رُت‘ جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے”
― Raja Gidh / راجه گدھ
― Raja Gidh / راجه گدھ
“جب انسان محدود خواہشوں اور ضرورتوں کا پابند ہوتا ہے ، تو اُسے زیادہ جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی
― بانو قدسیہ، حاصل گھاٹ”
― Hasil Ghat / حاصل گھاٹ
― بانو قدسیہ، حاصل گھاٹ”
― Hasil Ghat / حاصل گھاٹ
“اِنسان حاصل کی تمنا میں لاحاصل کے پیچھے دوڑتا ہے اُس بچے کی طرح جو تتلیاں پکڑنے کے مشغلے میں گھر سے بہت دور نکل جاتا ہے ، نہ تتلیاں ملتی ہیں نہ واپسی کا راستہ ۔۔۔”
― Hasil Ghat / حاصل گھاٹ
― Hasil Ghat / حاصل گھاٹ
“محبّت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھنے کی صلاحیت ہے. محبّت اس غلامی کا طوق ہے جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے”
― Hasil Ghat / حاصل گھاٹ
― Hasil Ghat / حاصل گھاٹ
Rana’s 2025 Year in Books
Take a look at Rana’s Year in Books, including some fun facts about their reading.
Polls voted on by Rana
Lists liked by Rana


