“جب کبھی کوئی مرد کسی عورت کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے اس عورت کی بھوک مٹانے کا چسکا پڑ جاتا ہے۔”
― Raja Gidh / راجه گدھ
― Raja Gidh / راجه گدھ
“پرانے وقتوں کو یاد نہیں کرتے زیادہ، نئے دنوں میں گھن لگ جاتا ہے”
― Raja Gidh / راجه گدھ
― Raja Gidh / راجه گدھ
“ایک بے سمجھ اور بے انصاف آدمی ساری عمر یہی سمجھتا رہے گا کہ وہ ایک ٹارگٹ ہے ، ایک نشانہ گاہ ہے - اور اس پر مسلسل تیر اندازی ہو رہی ہے - لیکن جب وہ خود احتسابی کے عمل سے گزرے گا تو اسے پتہ چلے گا وہ ایک نشانہ ہی نہیں ، ایک تیر بھی ہے جو وقت بے وقت چلتا رہتا ہے ......... اور خوب خوب زخم دیتا ہے.....!!”
― Mann Chalay Ka Sauda / من چلے کا سودا
― Mann Chalay Ka Sauda / من چلے کا سودا
“ایک بار ڈیرے پر ہم نے بابا جی سے پوچھا... کہ سرکار انسان کو پناہ کہاں پر ملتی ہے...؟ .تو فرمانے لگے... "ماں کی آغوش میں! اگر وہ میسر نہ ہو تو والدین کی دعاؤں میں!! اگر وہ بھی بد قسمتی سے نہ ملے تو علم میں!!! وہ علم کتابی یا حساب الجبرے کا ہی نہیں، ایسا علم جس سے آپ کی ذات، روح اور دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ وہ خدا کی مخلوق کے لیے زحمت نہ بنے۔”
― Zaviya 3 / زاویہ ٣
― Zaviya 3 / زاویہ ٣
“لوگ دوسرے لوگوں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟”
” ذرا ایک منٹ ٹھہر کر اس مسلے پر غور کریں. وہ کون سے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آزار نہیں دیتے؟
وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو دکھ نہیں دیتے. ان کے اندر دکھ کا اور آزار کا لاوا اتنا شدید نہی…ں ہوتا کہ وہ ابل کر دوسروں پر گرنے لگے.
چناچہ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسروں کو حفاظت میں رکھنے کے لئے خود کو حفاظت میں رکھنا بہت ضروری ہے….
اصل میں “خود کریمی” ہی “مخلوق کریمی” ہے. چونکہ اس کا منبع ایک ہی ہے اس لئے یہ سبھی کو ایک سا سیراب کرتی ہے-
اور خود کریمی کا اجرا اس طرح ہوتا ہے کہ سچ کو اندر آنے دیا جائے اور اپنے زخموں کی مرہم پٹی کرنے دی جائے تاکہ اپنا اندر صحتمند ہو جائے.”
― Baba Sahiba / بابا صاحبا
” ذرا ایک منٹ ٹھہر کر اس مسلے پر غور کریں. وہ کون سے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آزار نہیں دیتے؟
وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو دکھ نہیں دیتے. ان کے اندر دکھ کا اور آزار کا لاوا اتنا شدید نہی…ں ہوتا کہ وہ ابل کر دوسروں پر گرنے لگے.
چناچہ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسروں کو حفاظت میں رکھنے کے لئے خود کو حفاظت میں رکھنا بہت ضروری ہے….
اصل میں “خود کریمی” ہی “مخلوق کریمی” ہے. چونکہ اس کا منبع ایک ہی ہے اس لئے یہ سبھی کو ایک سا سیراب کرتی ہے-
اور خود کریمی کا اجرا اس طرح ہوتا ہے کہ سچ کو اندر آنے دیا جائے اور اپنے زخموں کی مرہم پٹی کرنے دی جائے تاکہ اپنا اندر صحتمند ہو جائے.”
― Baba Sahiba / بابا صاحبا
Rana’s 2025 Year in Books
Take a look at Rana’s Year in Books, including some fun facts about their reading.
Polls voted on by Rana
Lists liked by Rana


