Abbas Tabish
More books by Abbas Tabish…
“یہ ہجر کا موسم بھی گذر کیوں نہیں جاتا
جاتا ہوا لگتا ہے مگر کیوں نہیں جاتا
بہتا ہوں تو میری کوئی گہرائی بھی ہو گی
دریا کی طرح خود میں اتر کیوں نہیں جاتا
لازم ہے کہ جاگے کبھی بچے کی طرح بھی
یہ شہر کسی خواب سے ڈر کیوں نہیں جاتا
ملبے سے نکل آتا ہے آسیب کے مانند
لوگوں کی طرح خوف بھی مر کیوں نہیں جاتا
اس کنج میں مدت سے بہار آئی نہیں ہے
یہ باغ مری آنکھ میں بھر کیوں نہیں جاتا
یہ بھید بھی کھلنے نہ دیا دربدری نے
گھر کے لیے جاتا ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا
ملبوس سے کیوں منتِ یکجائی ہے تابش
میں ٹوٹ چکا ہوں تو بکھر کیوں نہیں جاتا”
―
جاتا ہوا لگتا ہے مگر کیوں نہیں جاتا
بہتا ہوں تو میری کوئی گہرائی بھی ہو گی
دریا کی طرح خود میں اتر کیوں نہیں جاتا
لازم ہے کہ جاگے کبھی بچے کی طرح بھی
یہ شہر کسی خواب سے ڈر کیوں نہیں جاتا
ملبے سے نکل آتا ہے آسیب کے مانند
لوگوں کی طرح خوف بھی مر کیوں نہیں جاتا
اس کنج میں مدت سے بہار آئی نہیں ہے
یہ باغ مری آنکھ میں بھر کیوں نہیں جاتا
یہ بھید بھی کھلنے نہ دیا دربدری نے
گھر کے لیے جاتا ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا
ملبوس سے کیوں منتِ یکجائی ہے تابش
میں ٹوٹ چکا ہوں تو بکھر کیوں نہیں جاتا”
―
Is this you? Let us know. If not, help out and invite Abbas to Goodreads.
