“یہ ہجر کا موسم بھی گذر کیوں نہیں جاتا
جاتا ہوا لگتا ہے مگر کیوں نہیں جاتا
بہتا ہوں تو میری کوئی گہرائی بھی ہو گی
دریا کی طرح خود میں اتر کیوں نہیں جاتا
لازم ہے کہ جاگے کبھی بچے کی طرح بھی
یہ شہر کسی خواب سے ڈر کیوں نہیں جاتا
ملبے سے نکل آتا ہے آسیب کے مانند
لوگوں کی طرح خوف بھی مر کیوں نہیں جاتا
اس کنج میں مدت سے بہار آئی نہیں ہے
یہ باغ مری آنکھ میں بھر کیوں نہیں جاتا
یہ بھید بھی کھلنے نہ دیا دربدری نے
گھر کے لیے جاتا ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا
ملبوس سے کیوں منتِ یکجائی ہے تابش
میں ٹوٹ چکا ہوں تو بکھر کیوں نہیں جاتا”
―
Share this quote:
Friends Who Liked This Quote
To see what your friends thought of this quote, please sign up!
0 likes
All Members Who Liked This Quote
None yet!
Browse By Tag
- love (101945)
- life (80178)
- inspirational (76601)
- humor (44582)
- philosophy (31302)
- inspirational-quotes (29080)
- god (27008)
- truth (24872)
- wisdom (24855)
- romance (24524)
- poetry (23511)
- life-lessons (22787)
- quotes (21243)
- death (20666)
- happiness (19054)
- hope (18712)
- faith (18549)
- inspiration (17672)
- spirituality (15876)
- relationships (15782)
- motivational (15656)
- life-quotes (15473)
- religion (15469)
- love-quotes (15205)
- writing (15005)
- success (14239)
- motivation (13596)
- time (12934)
- travel (12624)
- motivational-quotes (12254)
