“
bhuule hai.n rafta rafta unhe.n muddato.n me.n ham
qisto.n me.n KHud-kushii kaa mazaa ham se puuchhiye
”
―
―
“
وہ شوخ چشم، مشک بدن کون لے گیا
میرےتتار تیرے ہرن کون لے گیا
گلیاں خموش، راہ گزاریں اداس ہیں کوچہ نوردیوں کی لگن کون لے گیا
اب چاند کوئی بام سے ہوتا نہیں طلوع
غرفوں سے جھانکنے کا چلن کون لے گیا
جو روز جھانکتی تھی کواڑوں کی اوٹ سے
اے بند کھڑکیو! وہ کرن کون لے گیا وہ رت جگوں کے چاہنے والے کہاں گئے ہنگامہ ہائے شعر وسخن کون لے گیا ( عرفان صدیقی، ، سخن اباد، کلیات صفحات 140 تا 142)
”
― Canvas
― Canvas
















