Goodreads helps you follow your favorite authors. Be the first to learn about new releases!
Start by following KRISHAN CHANDAR.
Showing 1-6 of 6
“اس دنیا میں بڑی مشکل ہے لیکن خانہ بدوشوں کیلئے تو یہاں اور بھی مشکل ہے ۔ کھیتوں میں اُگے ہوئے پودوں کی طرح جو لوگ ایک ہی شہر یا گاؤں میں رہتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں خوشی کی ہوا میں ایک ساتھ لہلہا کو سرسراتے ہیں گیت گاتے ہیں اور اونچے ہو جاتے ہیں ۔ بھوک کے پالے میں ایک ساتھ ٹھٹھرتے ہیں اور بیماری کی وبا میں ایک ساتھ گھر کر کٹ جاتے ہیں۔ لیکن خانہ بدوشوں کیلئے ہر جگہ مشکل ہے ۔ وہ ہر کھیت کے کنارے اجنبی ہیں اور سر گاؤں کی مد میں انجانے شہر کی گلی کا ہر سوڈان کیلئے ایک نیا خطرہ ہے اور ہر چوراہے کا ہر سنتری انھیں ہر وقت بے دخل کر سکتا ہے۔ وہ ہر جگہ اکیلے ہیں۔ یہ لوگ جو کسی قوم کسی مذہب کسی رنگ اور کسی ملک کے نہیں ہیں ۔ یا شاید یہ سب کے ہیں اس لئے کسی کے نہیں ہیں ان کے رنگ میں سب کا رنگ ہے۔ ان کے خون میں سب کا خون ہے اور ان کی زبان میں سب کچھ زبانیں ہیں۔ یہ لوگ جو اپنا خیمہ اپنی چٹائی، گھاس کے چند تنکے لئے گھومتے ہیں کسی آشیانے کی تلاش میں ہیں ؟ اپنی اس کاہش کا انجام انھیں خود معلوم نہیں”
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“کاش میرے لئے بھی کوئی تھک جائے ، چور ہو جائے . اس قدر مجبور ہو جائے کہ اگر اس کی جیب میں ایک پیسہ بھی نہ ہو تو چلتے چلتے کسی بھاڑی سے ایک پھول ہی توڑ کر میرے لئے لے آئے ۔”
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“ملن کی رات آئی تھی۔ مگر کسی کے لئے کتنی مہیب اور خوفناک ، ڈر اور وحشت سے معمور ، اور کسی کیلئے کیسی چمک دار اور درخشندہ کائنات کی ساری خوشبوؤں سے بھر پور ایک ہی رات تھی۔ مگر دونوں کیلئے کتنی مختلف تھی ۔ لایی اطمینان کی ٹھنڈی سانس بھر کر گل کے سینے سے لگ کر سوگئی تھی۔ اور گل سوچ رہا تھا، یہ ایک رات میں دو راتیں کیسے ممکن ہیں ؟ ایک رات تاریک اور سیاہ ، گہری اور اتھاہ بدہیئت اور بدبو دار ، غلاظت اور نجاست سے معمور، اور دوسری رات ستھرے ستھرے جذبات والی ، معصوم اور پاکیزہ رات، جب کہکشاں مسکراتی ہے۔ اور چاندنی سیل رواں بن کر بہتی ہے اور افق سے افق تک کسی کے ذہن میں ستاروں کے پھول کھل جاتے ہیں۔ اور محبت کی آغوش وا ہو جاتی ہے ۔ اور کوئی اطمینان کی گہری ٹھنڈی سانس لے کر اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دیتا ہے ۔ ہاں ایک رات اور دوسری رات میں اتناہی فرق ہے، جتنا نیکی اور بدی میں ......”
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“کیا میں نے تو تیری تصویر کے ذریعہ مجھ سے بہت کچھ کہا ہے لاچی ، پھر تو سنتی کیوں نہیں ، کیا تو صرف اس میں اپنی شخصیت دیکھتی ہے اپنی صورت کا عکس، اپنے من کے خدو خال ، لیکن میری روح کا جمال مجھ سے کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ میرے ترسے ہوئے برش کے رنگ انھوں نے تیری تصویر میں کتنی نادیدہ جسرتوں کے رنگ برنگے گلزا کھلا دیتے ہیں۔ اری تو کیسی لڑکی ہے ؟
میرے دل کا لہو بھی نہیں دیکھ سکتی ؟
اب میں تجھ سے کیا کہوں ؟
خوب چند خاموش نگاہوں سے لاچی کی تصویر کی طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا. اس نے لاچی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔
اس کے منہ سے ایک آہ تک نہ نکلی ۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ آیا ۔ بس وہ خاموشی سے مٹھیاں بھینچے ہختی سے ہونٹ بند کئے تصویر کے سامنے چپ چاپ کھڑا رہا. لاچی کیا ایک اس کے پاس آگئی ۔ اس نے خوب چند کے کندھے پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بہت سے مدھم اور سیٹی آواز میں بولی اگر میں گل سے پیار نہ کرتی تو تیری ہو جاتی سپری ٹان ! " خود چند یک بارگی چونگا۔ پھر اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں تن گئیں ۔ اس کا سارا جسم طوفان میں لرزنے والے پتے کی طرح کا نیا اور کانپ کر ایکا ایک ساکت ہو گیا۔ گویا پتہ ڈال سے گھر گیا اور ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا ہوا کہیں دور فضا میں کھو گیا ۔ موت کی وادیوں میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا ۔”
―
میرے دل کا لہو بھی نہیں دیکھ سکتی ؟
اب میں تجھ سے کیا کہوں ؟
خوب چند خاموش نگاہوں سے لاچی کی تصویر کی طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا. اس نے لاچی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔
اس کے منہ سے ایک آہ تک نہ نکلی ۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ آیا ۔ بس وہ خاموشی سے مٹھیاں بھینچے ہختی سے ہونٹ بند کئے تصویر کے سامنے چپ چاپ کھڑا رہا. لاچی کیا ایک اس کے پاس آگئی ۔ اس نے خوب چند کے کندھے پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بہت سے مدھم اور سیٹی آواز میں بولی اگر میں گل سے پیار نہ کرتی تو تیری ہو جاتی سپری ٹان ! " خود چند یک بارگی چونگا۔ پھر اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں تن گئیں ۔ اس کا سارا جسم طوفان میں لرزنے والے پتے کی طرح کا نیا اور کانپ کر ایکا ایک ساکت ہو گیا۔ گویا پتہ ڈال سے گھر گیا اور ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا ہوا کہیں دور فضا میں کھو گیا ۔ موت کی وادیوں میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا ۔”
―
“روح کی بات روح مجھ لیتی ہے لیکن کوئی روح دوسری روح میں اتنی ڈوب نہیں سکتی کہ اس کے علم کو اپنا غم بنائے ہائے کتنی بڑھ تنہائی ہے !”
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
― AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے
“आपने सबसे पहली कहानी अपनी नानी माँ से सुनी होगी या दादी माँ से या अपनी माँ से। आज से हज़ारों वर्ष पहले की कहानी अर्थात् सबसे पहली कहानी भी इसी प्रकार रात के सन्नाटे में कही गई थी–अन्धेरे के भय को मिटाने के लिए। बच्चे के मन में जीवन की सुखद कल्पना को जगाने के लिए। माँ की मेहरबान गोद में सुलाने के लिए।”
― Krishan Chander: Selected short stories
― Krishan Chander: Selected short stories




