KRISHAN CHANDAR

KRISHAN CHANDAR’s Followers (2)

member photo
member photo

KRISHAN CHANDAR



Average rating: 4.23 · 26 ratings · 7 reviews · 28 distinct works
AIK AURAT HAZAR DIWANE by K...

4.20 avg rating — 5 ratings3 editions
Rate this book
Clear rating
JAB KHAYT JAAGAY جب کھیت جاگے

4.75 avg rating — 4 ratings
Rate this book
Clear rating
GHADDAAR غدار

4.67 avg rating — 3 ratings
Rate this book
Clear rating
DIL KI WADIYAN SO GAYIN by ...

4.67 avg rating — 3 ratings
Rate this book
Clear rating
आंख की चोरी

liked it 3.00 avg rating — 3 ratings — published 2010
Rate this book
Clear rating
SHIKASTشکست

4.50 avg rating — 2 ratings
Rate this book
Clear rating
HUM WEHSHI HAINہم وحشی ہیں

really liked it 4.00 avg rating — 2 ratings
Rate this book
Clear rating
AIK GADHAY KI SARGUZASHTایک...

it was amazing 5.00 avg rating — 1 rating
Rate this book
Clear rating
FOUR NOVEL KRISHAN CHANDAR ...

it was amazing 5.00 avg rating — 1 rating
Rate this book
Clear rating
Ulta Darakht by Krishan Cha...

really liked it 4.00 avg rating — 1 rating
Rate this book
Clear rating
More books by KRISHAN CHANDAR…
Quotes by KRISHAN CHANDAR  (?)
Quotes are added by the Goodreads community and are not verified by Goodreads. (Learn more)

“اس دنیا میں بڑی مشکل ہے لیکن خانہ بدوشوں کیلئے تو یہاں اور بھی مشکل ہے ۔ کھیتوں میں اُگے ہوئے پودوں کی طرح جو لوگ ایک ہی شہر یا گاؤں میں رہتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں خوشی کی ہوا میں ایک ساتھ لہلہا کو سرسراتے ہیں گیت گاتے ہیں اور اونچے ہو جاتے ہیں ۔ بھوک کے پالے میں ایک ساتھ ٹھٹھرتے ہیں اور بیماری کی وبا میں ایک ساتھ گھر کر کٹ جاتے ہیں۔ لیکن خانہ بدوشوں کیلئے ہر جگہ مشکل ہے ۔ وہ ہر کھیت کے کنارے اجنبی ہیں اور سر گاؤں کی مد میں انجانے شہر کی گلی کا ہر سوڈان کیلئے ایک نیا خطرہ ہے اور ہر چوراہے کا ہر سنتری انھیں ہر وقت بے دخل کر سکتا ہے۔ وہ ہر جگہ اکیلے ہیں۔ یہ لوگ جو کسی قوم کسی مذہب کسی رنگ اور کسی ملک کے نہیں ہیں ۔ یا شاید یہ سب کے ہیں اس لئے کسی کے نہیں ہیں ان کے رنگ میں سب کا رنگ ہے۔ ان کے خون میں سب کا خون ہے اور ان کی زبان میں سب کچھ زبانیں ہیں۔ یہ لوگ جو اپنا خیمہ اپنی چٹائی، گھاس کے چند تنکے لئے گھومتے ہیں کسی آشیانے کی تلاش میں ہیں ؟ اپنی اس کاہش کا انجام انھیں خود معلوم نہیں”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے

“کاش میرے لئے بھی کوئی تھک جائے ، چور ہو جائے . اس قدر مجبور ہو جائے کہ اگر اس کی جیب میں ایک پیسہ بھی نہ ہو تو چلتے چلتے کسی بھاڑی سے ایک پھول ہی توڑ کر میرے لئے لے آئے ۔”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے

“ملن کی رات آئی تھی۔ مگر کسی کے لئے کتنی مہیب اور خوفناک ، ڈر اور وحشت سے معمور ، اور کسی کیلئے کیسی چمک دار اور درخشندہ کائنات کی ساری خوشبوؤں سے بھر پور ایک ہی رات تھی۔ مگر دونوں کیلئے کتنی مختلف تھی ۔ لایی اطمینان کی ٹھنڈی سانس بھر کر گل کے سینے سے لگ کر سوگئی تھی۔ اور گل سوچ رہا تھا، یہ ایک رات میں دو راتیں کیسے ممکن ہیں ؟ ایک رات تاریک اور سیاہ ، گہری اور اتھاہ بدہیئت اور بدبو دار ، غلاظت اور نجاست سے معمور، اور دوسری رات ستھرے ستھرے جذبات والی ، معصوم اور پاکیزہ رات، جب کہکشاں مسکراتی ہے۔ اور چاندنی سیل رواں بن کر بہتی ہے اور افق سے افق تک کسی کے ذہن میں ستاروں کے پھول کھل جاتے ہیں۔ اور محبت کی آغوش وا ہو جاتی ہے ۔ اور کوئی اطمینان کی گہری ٹھنڈی سانس لے کر اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دیتا ہے ۔ ہاں ایک رات اور دوسری رات میں اتناہی فرق ہے، جتنا نیکی اور بدی میں ......”
KRISHAN CHANDAR, AIK AURAT HAZAR DIWANE by KRISHAN CHANDAR ایک عورت ہزار دیوانے



Is this you? Let us know. If not, help out and invite KRISHAN to Goodreads.