Kamran > Status Update
Kamran
is on page 50 of 563
"باسی شب و روز، وہی کچلے ہوئے اٹکتے سانس، وہی برسوں پرانی چند محدود حرکات و سکنات”
— Dec 05, 2018 10:57AM
Like flag
Kamran’s Previous Updates
Kamran
is on page 100 of 563
"ہائے ہائے ان محلوں سے بیٹیوں کے ڈولے نہیں اٹھتے۔ جنازے اٹھتے ہیں۔ انہیں لہو رنگ مہندی چڑھتی ہے، انہیں زخموں کے گہنے چڑھتے ہیں۔ ان کی کھاٹ کہار اٹھاتے ہیں۔ یہ ڈر کی سیج پر آپ ہی پھاہی لگاتی ہیں یہ پردے کی چادر میں ڈر کی بکل مار چپ چپیتے مر جاتی ہی ۔"
— Dec 23, 2018 09:16PM
Kamran
is on page 32 of 563
"ہائے امبرسر جالندھر تے گرداس پور کدھر رہ گئے۔ سوہنے دیس سوہنے نام ہائے وے ربا! یہ کیسا پاکستان نہ مٹی اپنی نہ قبریں نہ مال ڈنگر نہ ان پانی ہائے پردیسی ہوئے ہنستے بستے اجڑ گئے مہاجر کہلائے ۔۔۔۔ ہائے ربا کیسے کیسے بھیڑے نام ، وہاڑی، بورا، چنوں، ہڑپہ ، منٹگمری، چیچہ وطنی۔۔۔ ہائے وے بے وطنی، ربا وطن نہ چھٹیں کسی کے۔۔۔ چڑی کاں کا آہلنا بھی نہ چھٹے"
— Dec 04, 2018 10:50AM
Kamran
is on page 9 of 563
"اردو کے بیشتر ناول گونگے ہیں، وہ بولتے نہیں-"
پیش لفظ، تارڑ
— Nov 30, 2018 06:26AM
پیش لفظ، تارڑ

