Goodreads helps you follow your favorite authors. Be the first to learn about new releases!
Start by following Jaun Elia.
Showing 1-30 of 87
“تاریخ کے حساس اِنسانوں نے اپنی زِندگی کا زیادہ حصّہ اداس رہ کر گزارا ہے۔
زِندگی میں خوش رہنے کے لیے بہت زیادہ ہمّت بلکہ بہت زیادہ بےحسی چاہیے۔
جون ایلیأ”
―
زِندگی میں خوش رہنے کے لیے بہت زیادہ ہمّت بلکہ بہت زیادہ بےحسی چاہیے۔
جون ایلیأ”
―
“کسی کے پاس رہنا ہو تو تھوڑا دور رہنا چاہے”
―
―
“عجب اِک شور سا بپا ہے کہیں
کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں
ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھ
اب سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں
تجھ کو کیا ہو گیا کہ چیزوں کو
کہیں رکھتا ہے ڈھونڈتا ہے کہیں
تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں
جون ایلیا”
―
کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں
ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھ
اب سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں
تجھ کو کیا ہو گیا کہ چیزوں کو
کہیں رکھتا ہے ڈھونڈتا ہے کہیں
تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں
جون ایلیا”
―
“ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﻬﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻫﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ۔”
―
―
“!! پاکستان۔۔۔ یہ سب علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی۔۔۔”
―
―
“مسئلےاگر زمین پہ پائے جاتے ہیں تو اُن کی مزاحمت بھی زمین پر کیئجے آسمان پر نہیں”
― Farnood / فرنود
― Farnood / فرنود
“جھوٹ زندگی کی بہت بڑی صرورت ہے لیکن اگر کبھی کبھی سچ بھی بول لیا جاۓ تو کویؑ بری بات نہیں۔”
― Farnood / فرنود
― Farnood / فرنود
“فن پارہ
یہ کتابوں کی صف صف جلدیں
کاغذوں کا فضول استعمال
روشنائی کا شاندار اسراف
سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبّے
جن کو توجیہ آج تک نہ ہوئی
چند خوش ذوق کم نصیبوں نے
بسر اوقات کے لیے شائد
یہ لکیریں بکھیر ڈالی ہیں
کتنی ہی بے قصور نسلوں نے
ان کوپڑھنے کے جرم میں تا عمر
لے کے کشکول علم و حکمت و فن
کو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے
آہ! یہ وقت کا عذاب الیم
وقت، خلاّق، بے شعور، قدیم
ساری تعریفیں ان اندھیروں کی
جن کی پرتو، نہ کوئی پرچھائی
آہ! یہ زندگی کی تنہائی
سوچنا اور سوچتے رہنا
چند معصوم پاگلوں کی سزا
آج میں نے بھی سوچ رکھا ہے
وقت سے انتقام لینے کو
یونہی تا شام سادے کاغذ پر
ٹیڑھے ٹیڑھے خطوط کھینچے جائیں”
― Lekin / لیکن
یہ کتابوں کی صف صف جلدیں
کاغذوں کا فضول استعمال
روشنائی کا شاندار اسراف
سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبّے
جن کو توجیہ آج تک نہ ہوئی
چند خوش ذوق کم نصیبوں نے
بسر اوقات کے لیے شائد
یہ لکیریں بکھیر ڈالی ہیں
کتنی ہی بے قصور نسلوں نے
ان کوپڑھنے کے جرم میں تا عمر
لے کے کشکول علم و حکمت و فن
کو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے
آہ! یہ وقت کا عذاب الیم
وقت، خلاّق، بے شعور، قدیم
ساری تعریفیں ان اندھیروں کی
جن کی پرتو، نہ کوئی پرچھائی
آہ! یہ زندگی کی تنہائی
سوچنا اور سوچتے رہنا
چند معصوم پاگلوں کی سزا
آج میں نے بھی سوچ رکھا ہے
وقت سے انتقام لینے کو
یونہی تا شام سادے کاغذ پر
ٹیڑھے ٹیڑھے خطوط کھینچے جائیں”
― Lekin / لیکن
“है बिखरने को ये महफ़िल-ए-रंग-ओ-बू तुम कहाँ जाओगे हम कहाँ जाएँगे”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“सब मेरे बग़ैर मुतमइन2 हैं मैं सब के बग़ैर जी रहा हूँ क्या है जो बदल गई है दुनिया मैं भी तो बहुत बदल गया हूँ”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“एक ही फ़न2 तो हमने सीखा है जिससे मिलिए उसे ख़फ़ा कीजे”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“جاوید معنی کی وفات پر
ہم سے بے واسطہ نہیں ہے وہ
وہ یہیں تھا یہیں کہیں ہے وہ
کر گیا ہے وہ رَم کسی جانب
اک غزالِ غزل زمیں ہے وہ
میرا جاوید، معنی جاوید
خود بھی ایک شعر دل نشیں ہے وہ
میں ہوں اپنا حریفِ سخت کماں
روزِ ہیجاں مری کمیں ہے وہ
در شبِ کوچ یارِ من فروخت
کہ مرا سالکِ گزیں ہے وہ
آخرش میرا ہی تو ہے شاگرد
سب جہاں ہیں، وہیں نہیں ہے وہ
کیسے میں سہہ سکوں گا ہجر اس کا
کہ میرا ناز و نازنیں ہے وہ
خاک گنجینۂ زمیں ہو خاک
زیرِ گنجینۂ زمیں ہے وہ
غم میں غالب کا سہہ رہا ہوں آج
آج عارف کا ہم نشین ہے وہ
اب زمیں بوس آستاں ہوں میں
آسماں مرتبہ جبیں ہے وہ
اُس نے مارا ہے اپنے مرشد کو
کِس بَلا کا جہنمیں ہے وہ
اب رگوں میں مری بچا ہے جو خوں
مالِ مژگاں و آستیں ہے وہ
پڑ گیا چین، دل ہوا یک سو
وہ جو تھا اب کہیں نہیں ہے وہ
نالہ ہا، شور ہا، تپیدن ہا
میرے ہوتے کفن گزیں ہے وہ
آج کا دن نہیں شراب کا دن
آج ہے جونؔ زہرِ ناب کا دن”
― Gumaan / گمان
ہم سے بے واسطہ نہیں ہے وہ
وہ یہیں تھا یہیں کہیں ہے وہ
کر گیا ہے وہ رَم کسی جانب
اک غزالِ غزل زمیں ہے وہ
میرا جاوید، معنی جاوید
خود بھی ایک شعر دل نشیں ہے وہ
میں ہوں اپنا حریفِ سخت کماں
روزِ ہیجاں مری کمیں ہے وہ
در شبِ کوچ یارِ من فروخت
کہ مرا سالکِ گزیں ہے وہ
آخرش میرا ہی تو ہے شاگرد
سب جہاں ہیں، وہیں نہیں ہے وہ
کیسے میں سہہ سکوں گا ہجر اس کا
کہ میرا ناز و نازنیں ہے وہ
خاک گنجینۂ زمیں ہو خاک
زیرِ گنجینۂ زمیں ہے وہ
غم میں غالب کا سہہ رہا ہوں آج
آج عارف کا ہم نشین ہے وہ
اب زمیں بوس آستاں ہوں میں
آسماں مرتبہ جبیں ہے وہ
اُس نے مارا ہے اپنے مرشد کو
کِس بَلا کا جہنمیں ہے وہ
اب رگوں میں مری بچا ہے جو خوں
مالِ مژگاں و آستیں ہے وہ
پڑ گیا چین، دل ہوا یک سو
وہ جو تھا اب کہیں نہیں ہے وہ
نالہ ہا، شور ہا، تپیدن ہا
میرے ہوتے کفن گزیں ہے وہ
آج کا دن نہیں شراب کا دن
آج ہے جونؔ زہرِ ناب کا دن”
― Gumaan / گمان
“میں لمحوں کا گدا گر تھا
تمہارے جاوداں افروز لمحوں کی پذیرش کا گداگر تھا
سراسر اک گداگر
ایک بے کشکول و کاسہ ایک بے کوچہ بہ کوچہ
بے صدا و بے دعا از خود گزشتہ اک گداگر تھا
جو گمانِ پُر سرو سودا کے جاں پرور سراغ آرزو آگیں میں
رفتہ اور آئندہ کے خوابوں کی گدائی پیشہ کرتا ہے
خیالوں کو ، نفس بودش خیالوں کو ، ابداندیشہ کرتا ہے
یہ اک تمثیل تھی بے صحنۂ تمثیل
اور جو کچھ تھا یہی تھا بس یہی کچھ تھا
دوسرا منظر
پھر اس کے بعد جانانہ
تمہاری جاودانہ آرزو کے بازوانِ مرمریں
میرے، مرے آغوش کے مرگِ سفیدِ بے فغاں میں
میری دل جُو زندگی تھے ارجمندی تھے
میں جن میں خرم و خُرسند رہتا تھا
یہ میری دم بہ دم کی زندگی کی صحنہ تابی تھی
مری ہر آرزو پہلو بہ پہلو سبزہ گوں تھی اور شہابی تھی
تیسرا منظر
پھر اس کے بعد کے منظر میں
(یعنی اس گھڑی)
جو پیش آیا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ میں تم میں
تمہارے جاں فزا آغوش کی نزدیک تر خوشبوئی میں
اور اس کے گرداگرد میں دم توڑ دیتا ہوں
پھر اس کے بعد زندہ ہو کے اُٹھتا ہوں
قیامت کی ہنسی ہنستا ہوں
پھر سکتے میں رہ جاتا ہوں
آخر اک نہایت خندہ آور گریہ کرتا ہوں”
―
تمہارے جاوداں افروز لمحوں کی پذیرش کا گداگر تھا
سراسر اک گداگر
ایک بے کشکول و کاسہ ایک بے کوچہ بہ کوچہ
بے صدا و بے دعا از خود گزشتہ اک گداگر تھا
جو گمانِ پُر سرو سودا کے جاں پرور سراغ آرزو آگیں میں
رفتہ اور آئندہ کے خوابوں کی گدائی پیشہ کرتا ہے
خیالوں کو ، نفس بودش خیالوں کو ، ابداندیشہ کرتا ہے
یہ اک تمثیل تھی بے صحنۂ تمثیل
اور جو کچھ تھا یہی تھا بس یہی کچھ تھا
دوسرا منظر
پھر اس کے بعد جانانہ
تمہاری جاودانہ آرزو کے بازوانِ مرمریں
میرے، مرے آغوش کے مرگِ سفیدِ بے فغاں میں
میری دل جُو زندگی تھے ارجمندی تھے
میں جن میں خرم و خُرسند رہتا تھا
یہ میری دم بہ دم کی زندگی کی صحنہ تابی تھی
مری ہر آرزو پہلو بہ پہلو سبزہ گوں تھی اور شہابی تھی
تیسرا منظر
پھر اس کے بعد کے منظر میں
(یعنی اس گھڑی)
جو پیش آیا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ میں تم میں
تمہارے جاں فزا آغوش کی نزدیک تر خوشبوئی میں
اور اس کے گرداگرد میں دم توڑ دیتا ہوں
پھر اس کے بعد زندہ ہو کے اُٹھتا ہوں
قیامت کی ہنسی ہنستا ہوں
پھر سکتے میں رہ جاتا ہوں
آخر اک نہایت خندہ آور گریہ کرتا ہوں”
―
“ऐ ख़ुदा जो कहीं नहीं मौजूद क्या लिखा है हमारी क़िस्मत में”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“Tareekh k Hassas Insano Ne Apni Zindgi Ka
Zyadha Hissa Udaas Reh Kar Guzara Hai..
Zindgi Mei Khush Rehney k Liye Buhat Zyadha
Himmat Bal-K Buhat Zyadha Bey-Hissi Chahye...!!”
―
Zyadha Hissa Udaas Reh Kar Guzara Hai..
Zindgi Mei Khush Rehney k Liye Buhat Zyadha
Himmat Bal-K Buhat Zyadha Bey-Hissi Chahye...!!”
―
“क़हक़हा मारते ही दीवाना हर ग़म-ए-ज़िंदगी को भूल गया”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“हो शाम इक शराब-सी और लड़खड़ाऊँ मैं फिर उस गली से अपना गुज़र चाहता है दिल अब उस गली को कौन सी बस्ती से लाऊँ मैं”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“ज़ख़्म-हा-ज़ख़्म हूँ और कोई नहीं ख़ूँ का निशाँ कौन है वो जो मिरे ख़ून में तर है मुझमें”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“जीने की अब हवस है हमें हम तो मर गए”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“किस तौर अपने दिल के ज़मानों में जाऊँ मैं इक रंग-सी कमान हो ख़ुश्बू-सा एक तीर मरहम-सी वारदात हो और ज़ख़्म खाऊँ मैं”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“चाहे तुम मेरी बीनाई खुरच डालो मैं फिर भी अपने ख़्वाब नहीं छोड़ूँगा”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“ग़म न होता जो खिल के मुरझाते ग़म तो ये है कि हम खिले भी कहाँ”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“यही सब कुछ था, जिस दम वो यहाँ था चले जाने पे उसके, जाने क्या नईं बिछड़ के जान तेरे आस्ताँ4 से लगाया जी बहुत पर जी लगा नईं”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“ज़िंदगी का था अपना ऐश मगर सब की सब इम्तिहान में गुज़री”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“मुझको आदत है रूठ जाने की आप मुझको मना लिया कीजे मिलते रहिए इसी तपाक के साथ बेवफ़ाई की इंतिहा कीजे”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“हर लम्हा अपने आप में पाता हूँ कुछ कमी हर लम्हा अपने आप में ईजाद कुछ करूँ”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“डूबने वालों के दरिया मुझे पायाब6 मिले उस में अब डूब रहा हूँ जो भँवर है मुझमें दर-ओ-दीवार तो बाहर के हैं ढाने वाले चाहे रहता नहीं मैं पर मिरा घर है मुझमें”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“मैं तो ग़ज़ल सुना के अकेला खड़ा रहा सब अपने-अपने चाहने वालों में खो गए”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
“है वो बेचारगी5 का हाल कि हम हर किसी को सलाम कर रहे हैं”
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर
― Jaun Elia: Ek Ajab Ghazab Shayar । जौन एलिया : एक अजब-ग़ज़ब शायर




